پاکستان ایک نازک علاقائی موڑ پر سیاست دان ہوش کے ناخن لیں،تجزیہ:شہزاد قریشی
نقطہ نظر
عالمی کشیدگی، علاقائی خطرات اور پاکستان کا مستقبل: سیاست دان ہوش کے ناخن لیں، ریاستی مفاد کو اقتدار کی جنگ پر مقدم رکھیں!.
جب خطہ تاریخ کے نازک موڑ پر کھڑا ہو، پاکستان کے سیاست دان کب قومی بصیرت کا مظاہرہ کریں گے؟ جمہوریت اقتدار کی جنگ نہیں، قومی ذمہ داری کا عہد ہے!
تجزیہ شہزاد قریشی
پاکستان آج محض اندرونی سیاسی اختلافات سے نہیں گزر رہا، بلکہ ایک ایسے جغرافیائی اور تزویراتی ماحول میں کھڑا ہے جہاں ایک غلط فیصلہ ملکی معیشت، قومی سلامتی اور خارجہ تعلقات پر دور رس اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں ایران سے متعلق کشیدگی، آبنائے ہرمز کی اہمیت، افغانستان کے ساتھ سرحدی و سلامتی کے مسائل اور بھارت کے ساتھ مسلسل تناؤ پاکستان کے لیے سنجیدہ چیلنج ہیں۔ ایسے حالات میں قومی قیادت سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ وقتی سیاسی مفادات سے بلند ہو کر ریاست اور عوام کے مستقبل کے بارے میں سوچے۔ جب دنیا کے مختلف خطے جنگوں، معاشی دباؤ اور سفارتی کشمکش سے گزر رہے ہوں، تو پاکستان جیسے اہم جغرافیائی محلِ وقوع رکھنے والے ملک کے سیاست دانوں کو زیادہ سنجیدگی، تدبر اور قومی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔پاکستان کو ایک طرف اپنی سرحدوں کے تحفظ، داخلی امن اور معاشی استحکام پر توجہ دینی ہے، تو دوسری طرف بین الاقوامی تعلقات میں متوازن سفارت کاری اور علاقائی امن کے لیے اپنا کردار بھی ادا کرنا ہے۔ ایسے نازک وقت میں اندرونی سیاسی محاذ آرائی ملک کی مشکلات میں مزید اضافہ کر سکتی ہے۔ پاکستان کے تمام سیاسی رہنماؤں سے ایک بنیادی سوال ہے: کیا سیاست صرف اقتدار حاصل کرنے، حکومت گرانے، سڑکوں پر طاقت دکھانے اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا نام رہ گئی ہے؟ کیا کروڑوں عوام نے اپنے نمائندے اس لیے منتخب کیے ہیں کہ وہ سیاسی کشمکش میں الجھے رہیں، جبکہ عوام مہنگائی، بے روزگاری، تعلیم، صحت اور امن و امان جیسے مسائل کے حل کے منتظر رہیں؟ عوام کو سیاسی نعروں سے زیادہ عملی اقدامات، معاشی آسودگی اور پُرامن زندگی درکار ہے۔یاد رکھیے، مشرقِ وسطیٰ میں جنگی کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں کسی بھی بڑی رکاوٹ کے اثرات عالمی تجارت، تیل کی قیمتوں اور توانائی کی ترسیل تک پہنچ سکتے ہیں۔ افغانستان کے ساتھ کشیدگی اور بھارت کے ساتھ تنازعات بھی قومی پالیسی میں احتیاط، مستقل مزاجی اور سیاسی ہم آہنگی کا تقاضا کرتے ہیں۔ یہ حالات پاکستان کی سیاسی قیادت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ذاتی اور جماعتی اختلافات کو ایک طرف رکھتے ہوئے قومی مفاد پر مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کرے۔ یہ وقت ایک دوسرے کے خلاف سیاسی صف بندی کا نہیں، بلکہ پاکستان کے مستقبل کے لیے مشترکہ لائحۂ عمل بنانے کا ہے۔حکومت کو برداشت، شفاف طرزِ حکمرانی اور بامعنی مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے، جبکہ اپوزیشن کو بھی احتجاج اور اختلافِ رائے کے ساتھ قومی مفاد، عوامی مشکلات اور امن و امان کی ذمہ داری کو سامنے رکھنا چاہیے۔ سیاسی اختلاف جمہوریت کا حسن ہے، لیکن جب یہی اختلاف تصادم، انتشار اور قومی اداروں کے ساتھ محاذ آرائی میں تبدیل ہو جائے تو اس کی قیمت عام شہری کو ادا کرنا پڑتی ہے۔ جمہوریت کا مطلب یہ نہیں کہ اختلاف ختم کر دیا جائے؛ جمہوریت کا اصل حسن یہ ہے کہ اختلاف کو تصادم میں تبدیل ہونے سے روکا جائے۔ حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے کی سیاسی مخالف ضرور ہو سکتی ہیں، لیکن پاکستان کی سلامتی، معاشی استحکام، آئین کی بالادستی اور عوامی فلاح کے معاملے میں انہیں مشترکہ قومی مقاصد پر متفق ہونا چاہیے۔ دنیا کی مہذب جمہوریتوں میں سیاسی اختلاف کے باوجود قومی مفادات پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ پاکستان میں بھی سیاسی قیادت کو یہی طرزِ عمل اپنانا ہوگا۔ اور اب وہ بات جو پاکستان کے ہر سیاست دان کو سننی چاہیے: اگر آپ قومی حالات کی نزاکت کو سمجھنے، سیاسی برداشت کا مظاہرہ کرنے اور عوامی مسائل کو اپنی ترجیحات میں شامل کرنے کے لیے تیار نہیں، تو پھر جمہوریت کی کتاب پڑھنے کے اپنے دعوے پر بھی نظرثانی کیجیے۔ جمہوریت محض جلسوں، نعروں، لانگ مارچوں اور اقتدار کی جنگ کا نام نہیں؛ یہ آئین کی پاسداری، اختلاف کے احترام، عوام کے حقوق، قانون کی حکمرانی اور قومی ذمہ داری کا عہد ہے۔ پاکستان کسی ایک جماعت، ایک خاندان، ایک حکومت یا ایک سیاسی رہنما کی جاگیر نہیں۔ یہ ہم سب کا وطن ہے، اور اس کا مستقبل آنے والی نسلوں سے وابستہ ہے۔ اس لیے سیاست دانوں کو سمجھنا ہوگا کہ ریاست کا استحکام، عوام کا امن، معیشت کی بہتری اور قومی سلامتی کسی ایک جماعت کی کامیابی یا ناکامی سے کہیں زیادہ اہم ہیں۔ اقتدار آج ایک کے پاس ہے تو کل کسی دوسرے کے پاس ہو سکتا ہے، لیکن ریاست کو پہنچنے والا نقصان پوری قوم کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ سیاست دان ہوش کے ناخن لیں! تاریخ صرف یہ نہیں پوچھے گی کہ کس نے حکومت بنائی اور کس نے گرائی؛ تاریخ یہ بھی پوچھے گی کہ جب ملک کو قومی اتحاد، دانش مندی، سیاسی برداشت اور ذمہ دار قیادت کی ضرورت تھی، تب آپ نے پاکستان کے لیے کیا کردار ادا کیا؟ اگر سیاست دان اس نازک وقت میں بھی اپنے رویّوں پر نظرثانی نہیں کر سکتے، تو انہیں سوچنا چاہیے کہ وہ جمہوریت کی خدمت کر رہے ہیں یا اسے محض اقتدار کی کشمکش تک محدود کر رہے ہیں۔پاکستان کو محاذ آرائی نہیں، دانش مندی؛ انتشار نہیں، استحکام؛ اور سیاسی ضد نہیں، قومی بصیرت درکار ہے۔ یہی وقت کا تقاضا ہے اور یہی پاکستان کے روشن مستقبل کی ضمانت بن سکتا ہے۔
مزید پڑھیں





