سفید پوش کہاں جائیں،تحریر: سید ساجد علی شاہ
نقطہ نظر
کبھی کبھی انسان کے پاس الفاظ ختم ہو جاتے ہیں، مگر آنکھوں میں آنسو باقی رہتے ہیں ، کبھی دل اتنا بھر جاتا ہے کہ زبان ساتھ نہیں دیتی اور کبھی انسان اپنی تکلیف بیان کرنے کے بجائے خاموش رہنے کو ترجیح دیتا ہے، کیونکہ اسے ڈر ہوتا ہے کہ کہیں لوگ اس کی مجبوری کو تماشہ نہ بنا دیں۔ ہمارے معاشرے میں ایسے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں لوگ موجود ہیں جو فاقہ تو کر سکتے ہیں مگر ہاتھ پھیلانا نہیں جانتے، جن کے گھروں میں چولہا کئی کئی دن ٹھنڈا رہتا ہے مگر دروازے پر آنے والے مہمان کے سامنے مسکرا کر کہتے ہیں ’’اللہ کا شکر ہے‘‘، سفید پوشی ایک ایسا دکھ ہے جس کی کوئی آواز نہیں ہوتی، غریب آدمی کو اگر بھوک لگے تو وہ کسی کے سامنے رو سکتا ہےاور نہ ہی کسی سے مدد مانگ سکتا ہے، وہ کس دروازے پر جائے؟ وہ کس سے کہے کہ گھر میں آٹا ختم ہو چکا ہے؟ وہ کس کو بتائے کہ بچے کی فیس باقی ہے؟ وہ کس کے سامنے ہاتھ پھیلائے کہ بیٹی کے علاج کے لیے پیسے نہیں؟ وہ کس سے کہے کہ کئی راتوں سے اس کے گھر میں دال بھی نصیب نہیں ہوئی؟ وہ خاموش رہتا ہے اور یہی خاموشی اسے اندر سے توڑتی رہتی ہے۔ سفید پوش شخص محلے میں عزت سے چلتا ہے لوگ اسے دیکھ کر سمجھتے ہیں کہ یہ تو ٹھیک ٹھاک آدمی ہے،صاف کپڑے پہنتا ہے، کسی سے مانگتا نہیں، کسی کے سامنے فریاد نہیں کرتا، مگر کون جانتا ہے کہ ان صاف کپڑوں کے پیچھے کتنے پیوند چھپے ہیں؟ کون جانتا ہے کہ اس کے پرس میں شاید ایک روپیہ بھی نہیں؟ کون جانتا ہے کہ وہ بازار سے گزرتے ہوئے بچوں کی پسندیدہ چیزیں دیکھ کر نظریں چرا لیتا ہے؟ کبھی کسی باپ کی آنکھوں میں جھانک کر دیکھیے، جب اس کا بچہ کسی دکان پر کھلونا دیکھ کر کہتا ہے ’’ابو یہ لے دیں اور باپ مسکرا کر کہتا ہے بیٹا اگلی بار لے دونگا ‘‘ بچہ معصومیت سے آگے بڑھ جاتا ہے، مگر باپ چند قدم چلنے کے بعد چپکے سے آنکھیں پونچھ لیتا ہے یہ آنسو کسی نے نہیں دیکھے ، یہ آنسو سفید پوشی کی قیمت ہیں۔ ہم نے مدد کے بھی عجیب پیمانے بنا لیے ہیں جب کوئی شخص اپنی غربت کی تصویر بنا کر سوشل میڈیا پر ڈالے، اپنی بیماری کی ویڈیو بنائے، اپنے بچوں کو کیمرے کے سامنے بٹھائے اور فریاد کرے تو ہمارے دل نرم ہو جاتے ہیں ہم رقم بھیج دیتے ہیں، پوسٹ شیئر بھی کرتے ہیں اور دعائیں بھی دیتے ہیں، لیکن جو شخص اپنی عزت بچانے کے لیے خاموش رہتا ہے وہ کہاں جائے؟ جو کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتا اسے کون ڈھونڈے؟ جو اپنی ضرورت چھپا کر دوسروں کی ضرورت پوری کرتا ہے اس کے گھر کا دروازہ کون کھٹکھٹائے؟ ہمیں یہ سوال خود سے کرنا ہوگا ہمارے اردگرد ایسے لوگ موجود ہیں جو کسی زمانے میں دوسروں کی مدد کیا کرتے تھے مگر آج خود مدد کے محتاج ہیں۔ حالات نے ان کے قدم روک دیے، کاروبار ختم ہوگیا، ملازمت چلی گئی، بیماری نے گھر کا بجٹ کھا لیا، بچوں کی تعلیم کا خرچ بڑھ گیا، بجلی اور گیس کے بلوں نے کمر توڑ دی، مگر ان کی زبان آج بھی خاموش ہے وہ کسی سے نہیں کہتے کہ مجھے دے دو وہ صرف اللہ سے کہتے ہیں ’’یا اللہ تو سب جانتا ہے‘‘ اور پھر سجدے میں چلے جاتے ہیں۔ کاش ہم سمجھ سکیں کہ ہر خاموش انسان خوشحال نہیں ہوتا۔ کاش ہم جان سکیں کہ ہر مسکرانے والا بے فکر نہیں ہوتا۔ کاش ہم پہچان سکیں کہ بعض لوگ اپنے آنسو اس لیے چھپاتے ہیں کہ ان کی عزت سلامت رہے۔ ایک ماں اپنے بچوں کو کھانا کھلا کر کہتی ہے ’’مجھے بھوک نہیں۔‘‘ بچے کھانا کھا لیتے ہیں۔ ماں برتن سمیٹ کر باورچی خانے میں جاتی ہے اور وہاں کھڑی ہو کر اپنی آنکھوں سے آنسو پونچھتی ہے کیا کبھی کسی نے اس ماں سے پوچھا کہ آپ نے کھانا کیوں نہیں کھایا؟ شاید نہیں، کیونکہ ہم نے سوال کرنا چھوڑ دیا ہے۔ ہم صرف دکھائی دینے والی غربت دیکھتے ہیں چھپی ہوئی غربت نہیں۔ ایک باپ بیٹی کی شادی کے لیے برسوں پیسے جمع کرتا ہے ہر خواہش قربان کرتا ہے، اپنی ضرورتیں مؤخر کرتا ہے، پرانے کپڑے پہنتا ہے علاج نہیں کرواتا، مگر بیٹی کے سامنے مسکراتا رہتا ہے پھر ایک دن وہ اپنی بیٹی کو رخصت کرتا ہے اور لوگ کہتے ہیں ’’ماشاءاللہ بڑی شاندار شادی کی۔‘‘ کوئی نہیں جانتا کہ اس شادی کے بعد وہ باپ کتنے قرضوں کے نیچے دب گیا، سفید پوشی کا المیہ یہی ہے کہ دنیا آپ کی مسکراہٹ دیکھتی ہے آپ کا قرض نہیں۔ دنیا آپ کے کپڑے دیکھتی ہے آپ کی خالی جیب نہیں ، دنیا آپ کی عزت دیکھتی ہے آپ کی راتوں کی بے خوابی نہیں۔ ہمیں اپنے معاشرے میں مدد کا ایسا نظام بنانا ہوگا جس میں ضرورت مند کو اپنی عزت قربان نہ کرنا پڑے۔ کسی کی مدد کرتے ہوئے اس کی تصویر بنانا، اس کی غربت دکھانا اور اسے دنیا کے سامنے پیش کرنا خدمت نہیں اگر اس سے اس کی عزت مجروح ہو۔ مدد وہ ہے جو ایک ہاتھ دے اور دوسرے کو خبر بھی نہ ہو۔ کسی سفید پوش کے گھر راشن پہنچا دیجیے مگر دروازے پر اعلان نہ کیجیے۔ کسی بچے کی فیس ادا کر دیجیے مگر باپ کو شرمندہ نہ کیجیے۔ کسی بیمار کا علاج کرا دیجیے مگر اس کی بیماری کو تشہیر کا ذریعہ نہ بنائیے۔ کسی بیٹی کی شادی میں خاموشی سے مدد کر دیجیے مگر اس کے خاندان کو احسان نہ جتائیے اور سب سے بڑھ کر اپنے اردگرد کے لوگوں کو پہچانیے شاید آپ کے پڑوس میں وہ شخص رہتا ہو جو بظاہر خوشحال ہے مگر رات کو بچوں کے لیے دودھ خریدنے کے پیسے نہیں رکھتا۔ شاید آپ کے دفتر میں بیٹھا شخص اپنے گھر کا کرایہ ادا کرنے کے لیے پریشان ہو، شاید آپ کا کوئی رشتہ دار صرف اس لیے خاموش ہو کہ وہ نہیں چاہتا کہ لوگ اسے محتاج سمجھیں، شاید کوئی بوڑھا باپ اپنی دوا چھوڑ کر اپنے پوتے کی کتاب خرید رہا ہو، شاید کوئی ماں اپنے بچوں کی خاطر اپنی بھوک چھپا رہی ہو اور شاید آپ کے بالکل قریب کوئی ایسا انسان موجود ہو جو مدد مانگنے کے بجائے اپنی عزت کے ساتھ جینے کی جنگ لڑ رہا ہو اس لیے خدارا کسی کے آنسوؤں کو آواز بننے کا انتظار نہ کریں ، کسی کی فریاد سنائی دینے کا انتظار نہ کریں، کسی سفید پوش کو سڑک پر آ کر ہاتھ پھیلانے پر مجبور نہ ہونے دیں اس سے پہلے کہ وہ ٹوٹ جائے، اس کا ہاتھ تھام لیجیے اس سے پہلے کہ اس کے بچے بھوک سے سوئیں، اس کے گھر کا چولہا جلا دیجیے اس سے پہلے کہ کوئی ماں اپنی دوا چھوڑ دے، اس کی دوا کا بندوبست کر دیجیے اس سے پہلے کہ کوئی باپ اپنی بیٹی کی آنکھوں میں شرمندگی دیکھے، اس کے ساتھ کھڑے ہو جائیے ، یاد رکھیے سفید پوش کی سب سے بڑی دولت اس کی عزت ہے۔ اسے روٹی دیتے ہوئے اس کی عزت نہ چھینیے، اسے کپڑے دیتے ہوئے اسے محتاج نہ بنائیے۔ اس کی مدد کرتے ہوئے اسے اپنا احسان مند نہ بنائیے کیونکہ شاید کل حالات کا رخ بدل جائے اور مدد کی ضرورت آپ کے دروازے پر آ کھڑی ہو تب آپ کو بھی کسی ایسے ہاتھ کی ضرورت ہوگی جو آپ کی ضرورت تو سمجھے مگر آپ کی عزت بھی بچائے، آئیے آج عہد کریں کہ ہم اپنے اردگرد موجود خاموش ضرورت مندوں کو تلاش کریں گے ہم صرف ان لوگوں کی مدد نہیں کریں گے جو آواز بلند کر سکتے ہیں بلکہ ان لوگوں تک بھی پہنچیں گے جو اپنی عزت کے باعث خاموش ہیں۔ کیونکہ بھوک صرف اس شخص کو نہیں لگتی جو مانگ رہا ہو، آنسو صرف اس آنکھ میں نہیں ہوتے جو رو رہی ہو، اور درد صرف اس دل میں نہیں ہوتا جو فریاد کر رہا ہو۔ کچھ آنکھیں مسکراتے ہوئے بھی رو رہی ہوتی ہیں، کچھ دل خاموش رہ کر بھی چیخ رہے ہوتے ہیں، اور کچھ لوگ اپنی ساری زندگی صرف ایک سوال کے ساتھ گزار دیتے ہیں ’’ہم سفید پوش آخر کہاں جائیں؟‘‘ شاید اس سوال کا جواب ہمارے گھروں، ہمارے دلوں اور ہماری انسانیت میں چھپا ہوا ہے بس ضرورت ہے کہ ہم آنکھیں کھولیں، دل جگائیں اور کسی خاموش آنکھ کا آنسو بننے سے پہلے اسے پونچھ دیں۔
مزید پڑھیں




