Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

تخلیق یا تخلیق کار،تحریر: ایس اے شازِم

نقطہ نظر
s a shazim

پچھلے دو، تین دنوں سے پوچھا گیا یہ سوال "تخلیق اور تخلیق کار میں بڑا کون؟" مجھے گھماتا رہا۔ میں ایک عجیب کشمکش کا شکار ہو گئی تھی۔ کبھی قلم کو بڑا کر دیتی، تو کبھی قلم پکڑنے والے ہاتھ کو، کبھی تخلیق کو اہمیت دیتی، تو کبھی تخلیق کار کو۔ ایک زاویے سے سوچتی تو تخلیق بڑی لگتی، دوسرا زاویہ نکل کر سامنے آتا تو تخلیق کار کو بڑا کر دیتی۔

میرے خیال سے تخلیق وہ فن پارہ ہے جو تخلیق کار کے ذہن میں جنم لینے والے خیال، احساس یا مشاہدے کو ایک قابلِ اظہار صورت عطا کرتا ہے۔ یہ افسانہ، ناول، نظم، غزل، کالم، مضمون یا کوئی اور فنّی اظہار ہو سکتا ہے۔ تخلیق محض چند جملوں یا خوب صورت الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتی بلکہ اس میں فکر کی گہرائی، احساس کی سچائی، زبان کی شائستگی اور اظہار کی چاشنی بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔

ایک اچھی تخلیق وہ ہوتی ہے جو قاری کو محض معلومات فراہم نہ کرے بلکہ اسے سوچنے، محسوس کرنے اور اپنے گردوپیش کو نئے زاویے سے دیکھنے پر بھی آمادہ کرے۔ جیسے کہ بعض تحریریں پڑھنے کے بعد ذہن سے محو ہو جاتی ہیں لیکن بعض ایسی ہوتی ہیں جو دل و دماغ پر نقش چھوڑ جاتی ہیں۔ ان کی تاثیر وقت کے ساتھ کم ہونے کے بجائے مزید گہری ہو جاتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں تخلیق اپنی الگ شناخت قائم کرتی ہے۔

تخلیق کار محض الفاظ کو ترتیب دینے والا شخص نہیں، بلکہ وہ ایک حساس ذہن اور بیدار شعور کا مالک ہوتا ہے۔ وہ معاشرے کے عام واقعات میں بھی ایسے پہلو تلاش کرتا ہے جنہیں دوسرے لوگ اکثر نظرانداز کر دیتے ہیں۔ جہاں ایک عام انسان بارش کو موسم کی تبدیلی سمجھتا ہے، وہاں ایک ادیب اسی بارش میں کسی بچھڑے ہوئے شخص کی یاد، کسی ادھورے وعدے کی کسک یا تنہائی کے احساس کو محسوس کر سکتا ہے۔ جہاں لوگ کسی بوڑھے شخص کو سڑک کے کنارے خاموش بیٹھا دیکھ کر گزر جاتے ہیں، وہاں تخلیق کار اس کے چہرے کی جھریوں میں زندگی کی طویل مسافت، محرومیوں اور بیتے ہوئے زمانے کی داستان پڑھنے کی کوشش کرتا ہے۔

تخلیق کار کا اصل کمال یہی ہے کہ وہ معمولی مناظر میں غیر معمولی معنی تلاش کرتا ہے۔ اس کی نگاہ صرف ظاہری حقیقت تک محدود نہیں رہتی، بلکہ وہ حقیقت کے پس منظر میں چھپے ہوئے جذبات، محرکات اور انسانی رویّوں کو بھی سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کے ذاتی تجربات، مطالعے، مشاہدات، نظریات اور تخیل اس کی تخلیقی صلاحیتوں کو جِلا بخشتے ہیں۔ بعض اوقات تخلیق کار دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے مگر اس کی تخلیق زندہ رہتی ہے۔ یہی ادب کی قوت اور تخلیق کی اصل معنویت ہے۔ تخلیق کار وقت کا مسافر ہے، لیکن اس کی تخلیق آنے والی نسلوں کے لیے فکر، احساس اور شعور کی امانت بن سکتی ہے۔

جو عام واقعات میں بھی غیر معمولی معنی تلاش کرتا ہے۔ جہاں ایک عام انسان خزاں کو محض موسم کی تبدیلی سمجھتا ہے، وہاں ایک ادیب اسی خزاں میں بچھڑے ہوئے لوگوں کی یاد، غمِ تنہائی اور دل کے اندر برپا طوفان کو محسوس کر سکتا ہے۔ تخلیق کار اپنے مشاہدات اور احساسات کو لفظوں کا لباس پہنا کر دوسروں تک پہنچاتا ہے۔ اس کی شخصیت، فکر، نظریات اور زندگی کے تجربات اس کی تخلیقی صلاحیتوں پر اثرانداز ہوتے ہیں۔

میں تو اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ تخلیق کار خود بھی ایک تخلیق ہے، تو اس کائنات کا مالک و خالق تو بس ایک ہی ہے، ہم سب اسی کے شاہکار ہیں۔ ہم اس کی تخلیق کردہ دنیا میں ایک مقررہ وقت، ایک مخصوص سانسوں کی امانت کے ساتھ بھیجے گئے ہیں۔ یہاں ہمارا قیام عارضی ہے اور ہماری آخری منزل بھی اسی خالقِ کائنات کی طرف لوٹنا ہے۔ یہ آنا اور جانا اسی کے حکم کا حصہ ہے۔

سو اس مختصر سے قیام میں ہمارا اصل کام یہی ہے کہ اس رب کی عطا کردہ نعمتوں اور آسائشوں پر دل سے شکر بجا لائیں، اپنی ہستی میں عاجزی و انکساری کو جگہ دیں اور اس حقیقت کو کبھی فراموش نہ کریں کہ ہم سب، اپنے تمام تر ہنر اور تخلیق سمیت، اسی ایک ذات کی عاجز مخلوق ہیں۔ آپ کی کیا رائے ہے؟