بدھ، 28 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

​ترقی کی دوڑ اور کافی کی پیالی،تحریر: بشریٰ سلیم

نقطہ نظر

​کالج کا کلاس روم محض حروف کی تدریس اور نصاب کی تکمیل کی جگہ نہیں ہوتی؛ یہاں اکثر ایسے سوالات سر اٹھا لیتے ہیں جو انسان کو اپنی ہی بنائی ہوئی مصنوعی دنیا سے باہر کھینچ کر ایک بالکل نئے فکری موڑ پر لاکھڑا کرتے ہیں۔

​جب میں کلاس میں مزاح نگارِ اعظم مشتاق احمد یوسفی صاحب کا شاہکار سبق "کافی" پڑھا رہی تھی، تو دورانِ لیکچر ایک طالب علم کے اس معصومانہ مگر طنز یہ سوال نے کہ—"دنیا اتنی ترقی کر چکی ہے، چاند اور مریخ پر کمندیں ڈالی جا رہی ہیں، اور ہم آج بھی کافی، فالودے اور ماضی کے قصوں پر ہی اٹکے ہوئے ہیں؟"—مجھے گھنٹوں سوچنے پر مجبور کر دیا۔ اس سوال نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ واقعی، ترقی کی اس تیز رفتار اور پرفریب دوڑ میں، جہاں سائنس اور ٹیکنالوجی نے دنیا کو ایک گلوبل ولیج بنا دیا ہے، ہم اخلاقیات کے کس موڑ پر کھڑے ہیں؟

​جب میں نے اس سوال کے پس منظر میں یوسفی صاحب کی کتابوں کے اوراق پلٹے، تو مجھے احساس ہوا کہ ہم اکثر دنیاوی یا مادی رنجشوں میں کس قدر الجھ جاتے ہیں۔ اگر کوئی صاحبِ اقتدار یا دنیا دار انسان ہمارے سلام کا جواب نہ دے، تو ہم فوراً دل چھوٹا کر لیتے ہیں، اپنی انا کا مسئلہ بنا لیتے ہیں اور رنجور ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ ہمیں ہر کسی کے سلام کا جواب دینا چاہیے کیونکہ ہمارے دینِ مبین یعنی اسلام میں سلامتی پھیلانے اور باہمی محبت کو فروغ دینے کو بنیادی اہمیت حاصل ہے؛ اسلام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ دلوں کے تمام میل کچیل کو دھو کر آپس میں صلح اور اخلاقِ حسنہ کا دامن تھام لیں۔

​سوچیے تو سہی! ایک طرف دنیا مادی اور تکنیکی ترقی کی معراج چھو رہی ہے، اور دوسری طرف ہم آج بھی اخلاقِ حسنہ، سلام کے آداب، اور انسانی شفقت جیسے بنیادی سوالوں پر اٹکے ہوئے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر ہم اپنے دینِ اسلام کی عطا کردہ ان لازوال تعلیمات اور اصلاحِ باطن کے اصولوں کو اپنی عملی زندگی کا حصہ نہیں بنائیں گے، تو اس مادی اور مشینی ترقی کے باوجود ہم کبھی اپنی روح کو سکون اور اطمینان سے آشنا نہیں کر سکیں گے۔

​آج کا نوجوان اس کشمکش کا شکار کیوں ہے؟ شاید اس لیے کہ وہ یہ نہیں سمجھ پا رہا کہ ہمارے آبا و اجداد کی عطا کردہ روایات اور ہمارا مذہب اسلام دراصل ہمارے طور طریقے، رہن سہن کا سلیقہ، بڑوں کا احترام اور دلوں میں بسنے والی سچی محبت کا درس دیتا ہے۔ آج انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی اس چکاچوند نے ہمیں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک تو جوڑ دیا ہے، لیکن اپنوں کے دلوں سے دور کر دیا ہے۔ ہم ڈیجیٹل اسکرینز کے پیچھے چھپ کر جی رہے ہیں، مگر انسان سے انسان کا رابطہ ٹوٹ چکا ہے۔ جب تک ہم اپنی مٹی کی خوشبو اور اسلام کی دی ہوئی روایتی عظمتوں سے جڑے نہیں رہیں گے، تب تک محض مشینی اور مادی ترقی ہمارے دلوں کے بنجر پن کو دور نہیں کر سکتی۔

​کب تک ہم کافی کی اس پیالی کے سہارے مصنوعی دکھاوے، ظاہری چمک دمک اور کھوکھلی نمائش میں الجھے رہیں گے؟ ترقی کی اس اندھی دوڑ نے ہمیں ہماری اصل جڑوں سے کاٹ دیا ہے، جب کہ زندگی کی حقیقی خوبصورتی تو رشتوں کی سادگی، خلوص اور سچی محبت میں پوشیدہ ہے۔

​آج وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اس مصنوعی دوڑ اور فرضی مقبولیت کی کھوکھلی نمائش کو چھوڑ کر اسلام کے زریں اصولوں اور اپنے آبا و اجداد کے سکھائے ہوئے شائستہ طور طریقوں کی طرف واپس لوٹ آئیں؛ کیونکہ یہی سکونِ قلب کا واحد راستہ ہے۔ یہی ادب اور مذہب کی اصل خوبصورتی ہے جو ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ مادی ترقی اپنی جگہ لازمی سہی، لیکن زندگی کی سادگی، رشتوں کی مٹھاس، اعلیٰ اخلاق اور انسانی احساسات کا یہ ٹھہراؤ ہی ہمیں اصل معنوں میں ایک مکمل اور بہتر انسان بنائے رکھتا ہے۔

​اب اس میں اسلامی تعلیمات اور اصلاحِ معاشرہ کا عنصر بہت خوبصورتی سے گھل مل گیا ہے۔ آپ اسے دیکھ لیجیے، اگر مزید کسی ترمیم کی ضرورت ہو تو ضرور بتائیے گا!