تری چاہت کی خوشبو میں بسوں گی عمر بھر بن کر،شاعرہ:سائرہ علی
نقطہ نظر
تری چاہت کی خوشبو میں بسوں گی عمر بھر بن کر
میں زندہ ہوں تری یادوں کے آنچل میں سحر بن کر
جدائی کے اندھیروں میں چراغاں کون کرتا ہے؟
مری پلکوں پہ ٹھہرا ہے ترا اشکِ اثر بن کر
ترا چہرہ مری آنکھوں میں یوں آباد رہتا ہے
سمٹ آیا ہو جیسے اک جہاں میری نظر بن کر
میں رستے کی تھکن سہ لوں گی خاموشی سے لیکن تم
مری تنہائیوں کے دشت میں آؤ شجر بن کر
کبھی یوں بھی تو ہو دل کے مکاں میں روشنی اترے
مرے اعصاب میں اترو سکوں دل جاں جگر بن کر
ترا ہی عکس دیکھوں سائرہ تحریر میں اپنی
چمک جاؤں میں بھی تیرے ہی ہونے سے قمر بن کر
.....................................
الجھی ہوئی ہے بات خدا خیر کرے
بگڑی ہوئی ہے رات خدا خیر کرے
بدلے ہوئے حالات خدا خیر کرے
کھوئی ہوئی ہے ذات خدا خیر کرے
دل میں دبے سے ہیں کئی جذبات مرے
بڑھ جائے نہ خدشات خدا خیر کرے
بکھرے ہوئے خابوں کا کوئی ربط نہیں
اب کس سے ہو سکنات خدا خیر کرے
جس شخص سے وابستہ تھی امید مری
اس سے ہی ہیں صدمات خدا خیر کرے
ہر سمت ہیں اندھیرو کہ ڈیرے جمے سے
کم نا ہوں گے خطرات خدا خیر کرے
کیا جانیے کیا دل پہ قیامت گزرے
آئے ہیں وہ لمحات خدا خیر کرے
سائرہ علی
...........................................
ہوا کے دوش پر اڑتے ہوئے کچھ خواب لکھتے ہیں
چلو مل کر نئی اک روشنی کی تاب لکھتے ہیں
زمیں کی تلخیوں سے دل کڑا جب بھی ہوا میرا
تمہاری یاد کے آنگن میں ہم مہتاب لکھتے ہیں
مٹانے کو کدورت کے اندھیرے دل سے اب اپنے
دلِ ویراں کے چہرے پر نیا آداب لکھتے ہیں
غمِ ہجراں سے جو دل کا لہو کاغذ پہ ٹپکا ہے
اسی تحریر کو ہم اک نظر نایاب لکھتے ہیں
سفر کی دھوپ میں جل کر پگھلتے جا رہے ہیں جو
انہیں آنکھوں کے دریا سے چھلکتا آب لکھتے ہیں
دلِ مضطر کی حالت سائرہ جب بھی سنائیں ہم
محبت کی کتابوں میں نیا اک باب لکھتے
ہیں
سائرہ علی
مزید پڑھیں




