وجود اور لاوجود کے درمیان معلق ایک راز،تحریر:سید ضیغم حسن عابدی
نقطہ نظر
کائنات کے کسی گمنام گوشے میں، جہاں روشنی بھی راستہ بھول جاتی ہے، محبت نے دو در کھولے۔ ایک در وجود کی طرف کھلتا ہے، دوسرا لاوجود کی گہرائیوں میں گم ہو جاتا ہے۔ اور جو ان دونوں دروازوں سے گزرتا ہے، وہ کبھی واپس نہیں لوٹتا، کیونکہ وہ خود بھی راستے میں کہیں کھو جاتا ہے۔
وجود سے محبت ایک صلہ مانگتی ہے، کیونکہ وجود خود ایک قرض ہے۔ ہر ذرہ جو موجود ہے وہ کسی نہ کسی سے مستعار لیا گیا ہے اور قرض واپسی چاہتا ہے۔ اسی لیے جب دل کسی موجود شے سے جڑتا ہے تو وہ لاشعوری طور پر حساب رکھنے لگتا ہے کتنا دیا کتنا ملا۔ یہ حساب کائنات کے اسی قانون کا سایہ ہے جو ستاروں کو مداروں میں باندھے رکھتا ہے ہر کشش کے بدلے ایک دباؤ، ہر قربت کے بدلے ایک فاصلہ۔
مگر لاوجود سے محبت ایک بالکل مختلف راز ہے۔ لاوجود کوئی قرض نہیں مانگتا کیونکہ اس کے پاس دینے کو کچھ نہیں اور لینے کو کچھ نہیں وہ خود ایک خلا ہے ایک ایسی خاموشی جو ہر آواز کو نگل جاتی ہے۔ جو دل اس خلا سے محبت کرنے لگے، وہ آہستہ آہستہ خود بھی خلا بننے لگتا ہے۔ اس کے اندر کی ہر آواز دھیمی پڑ جاتی ہے ہر رشتہ ماند پڑ جاتا ہے، اور باقی رہ جاتی ہے صرف ایک بے کراں تنہائی ایسی تنہائی جو کسی صحرا کی نہیں بلکہ اس خلا کی ہے جو کہکشاؤں کے درمیان پھیلا ہوا ہے جہاں نہ روشنی پہنچتی ہے نہ آواز۔
سوال یہ ہے: یہ تنہائی سزا ہے یا انعام؟ شاید یہ سوال ہی غلط ہے کیونکہ لاوجود کی دنیا میں سزا اور انعام کا کوئی تصور باقی نہیں رہتا۔ وہاں صرف ایک کیفیت ہے گم ہو جانے کی کیفیت۔ جیسے کوئی ستارہ اپنی ہی کشش میں سکڑتا سکڑتا اس نقطے تک پہنچ جائے جہاں وہ خود اپنی روشنی کو نگل لے اور باہر سے دیکھنے والوں کو صرف ایک تاریک خلا نظر آئے حالانکہ اندر اس تاریکی کے مرکز میں شاید سب سے شدید ترین کیفیت موجود ہو ایک ایسی کثافت جسے کوئی آلہ ناپ نہ سکے۔
یہی وہ راز ہے جو محبت کے دوسرے در کے پیچھے چھپا ہے۔ جو اس در سے گزرتا ہے وہ دنیا کی نظر میں تنہا خاموش شاید کھویا ہوا نظر آتا ہے۔ مگر حقیقت میں وہ کائنات کے اس راز کے قریب پہنچ چکا ہوتا ہے جہاں وجود اور عدم کی سرحدیں مٹ جاتی ہیں۔ وہ نہ مکمل طور پر یہاں ہوتا ہے، نہ مکمل طور پر وہاں وہ دونوں کے درمیان کسی معلق حالت میں رہتا ہے جیسے کوئی ذرہ جو بیک وقت لہر بھی ہو اور نقطہ بھی اور جسے دیکھنے کی کوشش ہی اسے بدل دے۔
شاید یہی محبت کی انتہا ہے کہ وہ بالآخر انسان کو خود اس کے وجود سے بھی محروم کر دے۔ نہ کوئی صلہ باقی رہے نہ کوئی مانگنے والا۔ صرف ایک بے نام کیفیت جو نہ خوشی ہے نہ غم، بلکہ ان دونوں سے پرے کوئی تیسری چیز ایسی چیز جس کا کوئی نام ابھی تک کسی زبان نے نہیں رکھا۔
اور شاید یہی وہ نقطہ ہے جہاں سوال ختم ہوتے ہیں اور صرف خاموشی باقی رہ جاتی ہے ایک ایسی خاموشی جو خود اپنے اندر پورے کائنات کے راز کو سمیٹے ہوئے ہے۔
مزید پڑھیں




