وفاقی آئینی عدالت کے رولز جاری، توہینِ عدالت پر ازخود نوٹس کا اختیار بھی شامل

وفاقی آئینی عدالت کے رولز پبلک کردیے گئے ہیں، جن کے تحت کوئی بھی شخص توہینِ عدالت کی کارروائی کے لیے درخواست دے سکتا ہے، جبکہ عدالت کو توہینِ عدالت کا ازخود نوٹس لینے کا اختیار بھی حاصل ہوگا۔
رولز کے مطابق بدنیتی پر مبنی نظرثانی درخواست دائر کرنے پر وکیل کے خلاف بھی کارروائی ہوسکتی ہے۔ نظرثانی درخواست دائر کرنے سے قبل 50 ہزار روپے زرِ ضمانت جمع کرانا لازمی ہوگا، جبکہ درخواست خارج یا بے بنیاد قرار دیے جانے کی صورت میں زرِ ضمانت ضبط کیا جاسکتا ہے۔وفاقی آئینی عدالت کے رولز میں کہا گیا ہے کہ نظرثانی کی درخواست حتی الامکان اسی بینچ کے سامنے سماعت کے لیے مقرر کی جائے گی جس نے اصل مقدمے کا فیصلہ کیا ہو۔ تاہم اصل بینچ کا کوئی جج دستیاب نہ ہونے کی صورت میں اسی بینچ کے دستیاب ججز پر مشتمل بینچ درخواست کی سماعت کرے گا۔رولز کے مطابق نظرثانی کے حکم کے خلاف مزید نظرثانی کی درخواست دائر نہیں کی جاسکے گی، جبکہ ایسی درخواست رجسٹری میں بھی وصول نہیں کی جائے گی۔
مزید پڑھیں





