منگل، 13 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

‎‎وہ شہر جو رونا بھول گیا، تحریر:انیم چوہدری

نقطہ نظر

‎کہتے ہیں، دنیا کے نقشے پر ایک ایسا شہر بھی تھا جسے کسی جغرافیہ دان نے دریافت نہیں کیا، جس کا ذکر کسی تاریخ کی کتاب میں نہیں ملتا اور جس کی سرحدوں تک پہنچنے والا ہر راستہ شام ڈھلتے ہی گم ہو جاتا تھا۔ اس شہر کا نام خاموش نگر تھا۔

‎وہاں کے باشندوں کے پاس سب کچھ تھا؛ سنگِ مرمر کے محل، سونے کے دروازے، خوشبوؤں سے مہکتے باغات اور ایسے بازار جہاں دنیا کی نایاب ترین اشیا فروخت ہوتی تھیں۔ لیکن اس شہر میں ایک چیز ناپید تھی: آنسو!

‎برسوں پہلے، شہر کے بادشاہ نے ایک عجیب فرمان جاری کیا تھا۔ اس نے اعلان کیا کہ آنسو کمزوری کی علامت ہیں، غم انسان کو بے وقعت بناتا ہے اور اداسی ترقی کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ چنانچہ شہر میں رونے پر پابندی عائد کر دی گئی۔ جس شخص کی آنکھ سے آنسو نکلتا، اسے شاہی عدالت میں پیش کیا جاتا۔ اس کے غم کی وجہ نہیں پوچھی جاتی تھی، بلکہ اسے یہ سزا دی جاتی تھی کہ آئندہ کبھی اداس ہونے کی جرأت نہ کرے۔

‎رفتہ رفتہ، لوگوں نے اپنے چہروں پر مسکراہٹیں سجانا سیکھ لیا، مگر ان کے دلوں میں خاموشی کے قبرستان آباد ہونے لگے۔ اسی شہر کے آخری محلے میں ایک بوڑھا چراغ ساز رہتا تھا۔ اس کی دکان میں سینکڑوں چراغ تھے، مگر وہ کسی چراغ کو فروخت نہیں کرتا تھا۔ لوگ حیران ہو کر پوچھتے:

‎

‎’’بابا! جب تم چراغ بیچتے ہی نہیں تو انہیں بناتے کیوں ہو؟‘‘

‎

‎وہ مسکرا کر جواب دیتا:

‎

‎’’کیونکہ ایک دن اس شہر کو روشنی کی نہیں، اپنے اندھیرے کو پہچاننے کی ضرورت پڑے گی۔‘‘

‎لوگ اس کی بات سن کر ہنس دیتے۔ انہیں کیا خبر تھی کہ بوڑھا اپنی زندگی کی سب سے بڑی پیش گوئی کر چکا ہے۔ ایک رات، شہر پر عجیب آفت نازل ہوئی۔ آسمان سے ستارے غائب ہونے لگے، چاند کی روشنی مدھم پڑ گئی اور محلوں میں روشن ہزاروں چراغ ایک ایک کرکے بجھنے لگے۔ شاہی محل کے میناروں سے لے کر غریبوں کی جھونپڑیوں تک، ہر جگہ تاریکی پھیل گئی۔ بادشاہ نے اپنے دربار کے سب سے بڑے جادوگر کو طلب کیا۔ جادوگر نے آسمان کی طرف دیکھا اور لرزتی ہوئی آواز میں کہا:

‎’’حضور! یہ عام تاریکی نہیں۔ اس شہر کی روشنی لوگوں کے دلوں میں جلتی تھی۔ جب آپ نے ان کے آنسو چھینے تو ان کے دلوں میں احساس کی روشنی بھی مدھم ہونے لگی۔ اب شہر کا ہر چراغ اسی لیے بجھ رہا ہے۔‘‘

‎

‎بادشاہ غضب ناک ہو گیا۔

‎

‎’’تو کیا تم یہ کہنا چاہتے ہو کہ میرا حکم میری سلطنت کو تباہ کر دے گا؟‘‘

‎

‎جادوگر نے سر جھکا لیا۔

‎’’حضور! بعض فرمان سلطنتوں کو نہیں، انسانوں کو بدلنے کے لیے جاری کیے جاتے ہیں۔ مگر جب فرمان انسانیت ہی کو زخمی کر دے تو اس کی قیمت پوری سلطنت ادا کرتی ہے۔‘‘بادشاہ نے اسے قید خانے میں ڈال دیا، مگر تاریکی کو قید نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اسی رات، بادشاہ کا اکلوتا بیٹا محل سے نکل کر شہر کی گلیوں میں آ پہنچا۔ اس نے پہلی بار اپنے لوگوں کو بغیر روشنی کے دیکھا۔ ایک ماں اپنے بھوکے بچے کو سینے سے لگائے بیٹھی تھی، ایک بوڑھا اپنی بیوی کے خالی بستر کے پاس خاموش تھا، ایک نوجوان اپنے مرحوم دوست کا نام پکار رہا تھا، مگر کسی کی آنکھ سے آنسو نہیں نکلتا تھا۔ شہزادے نے ایک بچے کو دیکھا جو اپنی مردہ ماں کے پاس بیٹھ کر اس کے چہرے کو چھو رہا تھا۔ ’’تم روتے کیوں نہیں؟‘‘ شہزادے نے پوچھا۔ بچے نے حیرت سے اسے دیکھا۔ ’’رونا کیا ہوتا ہے؟‘‘ یہ سوال سن کر شہزادے کے قدم لڑکھڑا گئے۔ اسے پہلی بار احساس ہوا کہ اس کی سلطنت میں صرف آنسوؤں پر پابندی نہیں لگی تھی، بلکہ انسانوں کی آئندہ نسلوں سے اپنے دکھ کو پہچاننے کا حق بھی چھین لیا گیا تھا۔

‎

‎وہ بھاگتا ہوا بوڑھے چراغ ساز کی دکان پر پہنچا۔

‎’’بابا! شہر اندھیرے میں ڈوب رہا ہے۔ مجھے کوئی ایسا چراغ دو جو بجھ نہ سکے۔‘‘بوڑھے نے ایک چھوٹا سا مٹی کا چراغ اس کے ہاتھ میں رکھ دیا۔

‎

‎شہزادہ حیران ہوا۔

‎

‎’’یہ تو عام چراغ ہے۔ اس میں ایسی کیا خاص بات ہے؟‘‘

‎

‎بوڑھے نے جواب دیا:

‎

‎’’اس میں تیل نہیں، ایک نامکمل سچائی رکھی ہے۔ اسے صرف وہ شخص روشن کر سکتا ہے جو اپنے دل کو جھوٹ سے آزاد کر دے۔‘‘

‎

‎شہزادے نے چراغ اٹھایا اور پوچھا:

‎

‎’’مجھے کیا کرنا ہوگا؟‘‘

‎

‎بوڑھے نے کہا:

‎

‎’’اپنے باپ سے وہ سوال پوچھو جس سے تم خود بھی ڈرتے ہو۔‘‘ شہزادہ شاہی محل میں واپس آیا۔ بادشاہ اپنے تخت پر بیٹھا بجھتے ہوئے چراغوں کو دیکھ رہا تھا۔’’ابا حضور! کیا آپ کبھی روئے ہیں؟‘‘ شہزادے نے پوچھا۔بادشاہ چونک اٹھا۔ ’’یہ کیسا سوال ہے؟ بادشاہ روتے نہیں۔‘‘شہزادے نے چراغ اس کے سامنے رکھ دیا۔

‎

‎’’تو پھر جب میری ماں اس دنیا سے رخصت ہوئی تھی، آپ کی آنکھیں سرخ کیوں تھیں؟ جب آپ تنہا کمرے میں بیٹھتے ہیں تو آپ کی آواز کیوں بدل جاتی ہے؟ اگر غم کمزوری ہے تو آپ کی خاموشی کس چیز کی علامت ہے؟‘‘ بادشاہ کے ہونٹ لرزنے لگے۔ برسوں سے اس نے اپنے دکھ کو حکم کے نیچے دفن کر رکھا تھا۔ اسے یقین تھا کہ اگر وہ اپنے آنسوؤں کو روک لے گا تو دنیا اسے مضبوط سمجھے گی۔ مگر اب اس کے سامنے اس کا بیٹا کھڑا تھا، جس کی آنکھوں میں اس کی سلطنت سے زیادہ انسانیت کی فکر تھی۔ بادشاہ نے پہلی بار اپنے تاج کو ہاتھ لگایا اور دھیمی آواز میں کہا:

‎

‎’’میں نے اپنے غم سے بچنے کے لیے پوری سلطنت کو غم سے محروم کر دیا۔ میں بھول گیا کہ درد کو مٹانے اور درد محسوس کرنے کی صلاحیت چھین لینے میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔‘‘

‎

‎اس کی آنکھ سے ایک آنسو ٹپکا اور مٹی کے چراغ میں گرا تو چراغ روشن ہو اٹھا۔ اس کی روشنی محل کی دیواروں سے گزری، گلیوں میں پھیلی اور شہر کے آخری مکان تک پہنچ گئی۔ بجھے ہوئے چراغ دوبارہ جل اٹھے، آسمان پر ستارے لوٹ آئے اور چاند نے اپنی روشنی زمین پر بکھیر دی۔ شہر کے لوگوں کی آنکھوں سے بھی آنسو بہنے لگے۔ کوئی اپنے بچھڑوں کو یاد کرکے رویا، کوئی اپنی محرومیوں پر، اور کوئی اس بات پر کہ وہ برسوں سے اپنے ہی دل سے بے خبر زندگی گزار رہا تھا۔صبح ہوئی تو خاموش نگر بدل چکا تھا۔ بادشاہ نے اپنا فرمان واپس لے لیا۔ اس نے اعلان کیا کہ آئندہ کسی شخص کو اپنے دکھ کے اظہار پر سزا نہیں د