یا اللّٰہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تحریر : سیدہ شبانہ رضوی
نقطہ نظر
یا رب! میں یہ منظر کیسے بھولوں؟ — ایک سہمے ہوئے بچے کی چیخ اور مرتی ہوئی انسانیت۔
میں سو نہیں پا رہی
میرا دل دن بدن کمزور ہوتا جا رہا ہے۔
میں اب دل کو پریشان کرنے والی ویڈیوز نہیں دیکھتی۔ نہ ایسی تصاویر دیکھتی ہوں، نہ ایسی خبریں سنتی ہوں جو میرے اندر کے انسان کو لہولہان کر دیں۔ میں نے خود کو ایک دھوکے میں رکھا ہوا ہے۔ میں بے وجہ کے بھی خوب ہنستی ہوں، ہنستی ہوئی ویڈیوز دیکھتی ہوں، خوش باش ریلز دیکھتی ہوں، جیسے دنیا میں سب اچھا ہو، جیسے کہیں کوئی بچہ خوف سے کانپتا ہوا نہ رو رہا ہو، جیسے کسی ماں کے ہاتھ اپنے ہی بچے کے لیے عذاب نہ بن گئے ہوں، جیسے سڑکوں پر معصوموں کا خون نہ بہتا ہو۔
لیکن آج ۔۔۔۔ آج میں ایک ویڈیو دیکھ بیٹھی۔
کاش! میں نہ دیکھتی۔ کاش! میری آنکھیں اس منظر سے ناواقف رہتیں۔ کاش! کسی نے مجھے متوجہ کر لیا ہوتا۔
ایک عورت ایک بچے کو زخمی کرنے کے بعد بھی اسے مار رہی تھی۔ اور وہ بچہ۔۔۔ اف میرے اللہ! وہ بچہ!
اس کی سہمتی ہوئی آنکھیں، اس کا خوف، اس کے آنسو، اس کی بے بسی۔۔۔ وہ جیسے ہر ضرب کے ساتھ دنیا سے پوچھ رہا تھا کہ کیا کوئی ہے جو مجھے بچا لے؟ کیا کوئی ہے جو اس عورت کو روک دے؟ کیا اس دنیا میں کوئی ایسا بھی ہے جس کے دل میں میرے لیے رحم باقی ہے؟
مجھے نہیں معلوم وہ بچہ اس عورت کا اپنا بیٹا ہے، سوتن کا بچہ ہے یا کسی ناراض شوہر کی نفرت کا نشانہ۔ مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ اس گھر کی کہانی کیا ہے، اس عورت کے حالات کیا ہیں، اس کے دل میں کون سی آگ جل رہی ہے۔ لیکن مجھے ایک بات معلوم ہے: وہ بچہ ہے! ایک معصوم بچہ، جس کے ننھے وجود کو کسی کی نفرت، کسی کی انا، کسی کے غصے اور کسی کی گھریلو جنگ کا میدان نہیں بنایا جا سکتا۔
یا اللہ! وہ بچہ تو اپنے زخموں سے بھی واقف نہ ہوگا، اسے تو شاید یہ بھی سمجھ نہ آ رہی ہو کہ جس دنیا میں اسے تحفظ ملنا چاہیے، اسی دنیا میں اس پر قیامت کیوں ٹوٹ رہی ہے۔
ماں کے قدموں تلے جنت بتائی جاتی ہے۔ ماں کی گود کو پہلی پناہ گاہ کہا جاتا ہے۔ بچہ خوف زدہ ہو تو ماں کی طرف لپکتا ہے، درد ہو تو ماں کو پکارتا ہے، دنیا سے ڈرے تو ماں کے سینے میں چھپ جاتا ہے۔ لیکن جب اسی ماں کے ہاتھ سے اسے خوف ملنے لگے تو وہ کہاں جائے؟ کس کے دامن میں چھپے؟ کس سے فریاد کرے؟
جس بچے کے لیے ماں کی بانہیں پناہ ہونی چاہییں، اگر وہی بانہیں اس کے لیے خوف بن جائیں تو اس معصوم کے پاس بچتا کیا ہے؟
میرا سانس بند ہو رہا ہے۔ سینے میں ایسی گھٹن ہے کہ سمجھ نہیں آتی کہاں جاؤں، کس سے بات کروں، اپنے دل سے یہ منظر کیسے نکالوں؟ میں یہ منظر دوبارہ نہیں دیکھنا چاہتی۔ میں اسے بھولنا چاہتی ہوں، لیکن اس بچے کی آنکھیں میرا پیچھا کر رہی ہیں۔ اس کی سسکیاں جیسے میرے کانوں میں گونج رہی ہیں۔
اور پھر ایک اور منظر ذہن میں آتا ہے۔ ایک یتیم بچہ، جس کے پیچھے گاڑی لگا دی گئی، اور پھر ایک معصوم جان سرِعام کچل دی گئی۔ وہ بچہ بھی کسی کا لختِ جگر تھا۔ شاید اس کے سر پر پہلے ہی باپ کا سایہ نہیں تھا، شاید زندگی نے اسے پہلے ہی بہت کچھ چھین کر دیا تھا، اور پھر کسی کے ظلم نے اس کی سانسیں بھی چھین لیں۔
افففف! آخر بچوں سے کس بات کا بدلہ لیا جا رہا ہے؟
یہ کیسے لوگ ہیں جو اپنے غصے، اپنی طاقت، اپنی دشمنی اور اپنی انا کے سامنے بچوں کی چیخیں بھی نہیں سن پاتے؟ کیا ان کے اندر دل نہیں دھڑکتے؟ کیا کسی معصوم کی آنکھوں میں خوف دیکھ کر ان کے ہاتھ نہیں کانپتے؟ کیا رات کو تکیے پر سر رکھتے ہوئے ان کے ضمیر ان سے سوال نہیں کرتے؟
اور ہم؟ ہم کیا کر رہے ہیں؟
ہم ویڈیوز دیکھتے ہیں، افسوس کرتے ہیں، چند جملے لکھتے ہیں، غصے میں بددعائیں دیتے ہیں، پھر اگلی ریل پر چلے جاتے ہیں۔ ہماری انگلیاں اسکرین پر آگے بڑھ جاتی ہیں، لیکن کسی بچے کی زندگی شاید وہیں رک جاتی ہے، کسی زخمی جسم کے ساتھ، کسی بند کمرے میں، کسی بے آواز فریاد کے ساتھ۔
میں اعتراف کرتی ہوں کہ اس عورت کے ظلم کو دیکھ کر میرے دل میں اتنا شدید غصہ اٹھا کہ جی چاہا اس کے ساتھ بھی وہی ہو جو اس نے اس بچے کے ساتھ کیا۔ بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ شاید اس وقت میرے زخمی دل کو یہی انصاف محسوس ہو رہا تھا۔ لیکن پھر سوچتی ہوں کہ اگر ہم بھی ظلم کے جواب میں ظلم ہی کو اپنا اصول بنا لیں تو فرق کیا رہ جائے گا؟
نہیں! اسے سزا ضرور ملنی چاہیے، ایسی سزا جو قانون کے مطابق ہو، شفاف ہو، سخت ہو اور دوسروں کے لیے عبرت بنے۔ اس بچے کو انصاف ملنا چاہیے۔ اس کی حفاظت ہونی چاہیے۔ اس کے زخموں کا علاج، اس کی نفسیاتی بحالی اور اس کے مستقبل کی ضمانت ہونی چاہیے۔ اور اگر اس کے اردگرد کوئی محفوظ ہاتھ موجود نہیں تو ریاست کو اس کا ہاتھ تھامنا چاہیے۔
غصہ اپنی جگہ، مگر میری سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ اس بچے کو دوبارہ کبھی کوئی ہاتھ مارنے کے لیے نہ اٹھے۔ اسے کوئی آواز ڈرانے کے لیے نہ گونجے۔ وہ رات کو سوتے ہوئے چونک کر نہ اٹھے۔ وہ کسی قدم کی آہٹ سے خوف زدہ نہ ہو۔ وہ ایک دن مسکرا سکے، کسی پر بھروسا کر سکے، کسی کے گلے لگ کر خود کو محفوظ محسوس کر سکے۔
کیا یہ بہت بڑی خواہش ہے؟
کیا ایک بچے کو خوف کے بغیر جینے کا حق بھی ہمیں مانگنا پڑے گا؟
ہم ایک طرف بچوں کو اخلاقیات پڑھاتے ہیں، انہیں محبت، احترام اور رحم کے سبق دیتے ہیں، دوسری طرف انہی بچوں کے سامنے تشدد کے پہاڑ کھڑے کر دیتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں بچے پھول ہیں، مگر پھر انہی پھولوں کو اپنے ہاتھوں سے مسل دیتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں بچے مستقبل ہیں، مگر ان کے حال کو اپنے غصے کی آگ میں جلا دیتے ہیں۔
بچہ کسی عورت کے غصے کا نشانہ نہیں، کسی مرد کی دشمنی کا ہتھیار نہیں، کسی خاندانی تنازعے کی قیمت نہیں۔ بچہ ایک مکمل انسان ہے، ایک امانت ہے، ایک ایسی ذمہ داری ہے جس کے بارے میں ہم سب سے سوال ہونا چاہیے۔
اور جو لوگ بچوں پر ظلم کرتے ہیں، ان کے لیے صرف نفرت بھرے الفاظ کافی نہیں۔ ہمیں ایسا معاشرہ بنانا ہوگا جہاں کوئی بچہ تشدد کا نشانہ بنے تو اس کی چیخ دیواروں میں دفن نہ ہو؛ جہاں پڑوسی خاموش تماشائی نہ بنیں؛ جہاں گواہ ڈر کر پیچھے نہ ہٹیں؛ جہاں ادارے ویڈیو وائرل ہونے کا انتظار نہ کریں، بلکہ بروقت کارروائی کریں۔ جہاں بچے کی حفاظت، کسی خاندان کی عزت کے نام پر خاموشی سے زیادہ اہم ہو۔
یا رب!
میں یہ منظر نہیں دیکھنا چاہتی۔ میں ان بچوں کی چیخیں نہیں سننا چاہتی۔ میں اس دنیا سے بھاگ کر کہیں ایسی جگہ جانا چاہتی ہوں جہاں کوئی معصوم خوف سے نہ کانپ رہا ہو، جہاں کسی بچے کی آنکھوں میں اپنے ہی گھر والوں کا ڈر نہ ہو، جہاں یتیم ہونا جرم نہ ہو، جہاں کمزور ہونا کسی کے ظلم کی دعوت نہ بن جائے۔
مگر میں کہاں جاؤں، میرے اللہ؟
یہ دنیا تو تیری ہی بنائی ہوئی ہے۔ اس میں رحم بھی تو نے رکھا، محبت بھی تو نے سکھائی، ماں کے دل میں ممتا بھی تو نے ڈالی۔ پھر یہ سنگ دلی کہاں سے آ گئی؟ یہ بے رحمی کس نے سکھائی؟ انسان کے ہاتھوں سے شفقت چھین کر ان میں تشدد کس نے بھر دیا؟
یا اللہ! اس بچے کو اپنی حفاظت میں رکھ۔ اس کے زخموں کو شفا دے، اس کے خوف کو سکون میں بدل دے، اس کی زندگی میں ایسے لوگ بھیج جو اسے یقین دلائیں کہ ہر انسان ظالم نہیں ہوتا، ہر ہاتھ مارنے کے لیے نہیں اٹھتا، ہر آواز ڈرانے کے لیے نہیں گونجتی۔
اور یا رب! ہمیں بھی ایسا دل دے جو صرف اپنے بچوں کے لیے نہ دھڑکے، بلکہ ہر بے بس بچے کی تکلیف پر تڑپ اٹھے۔ ہمیں اتنی ہمت دے کہ ہم ظلم دیکھ کر خاموش نہ رہیں، اتنی عقل دے کہ غصے میں انصاف کا راستہ نہ بھولیں، اور اتنا احساس دے کہ کسی معصوم کی فریاد کو معمولی خبر سمجھ کر آگے نہ بڑھ جائیں۔
میں اس بچے کو بھولنا چاہتی ہوں، مگر شاید مجھے اسے بھولنا نہیں چاہیے۔ مجھے اس کی آنکھوں میں دکھائی دینے والی بے بسی یاد رکھنی چاہیے، تاکہ میں کبھی کسی مظلوم بچے کی آواز کو نظرانداز نہ کروں۔
کیونکہ وہ صرف ایک بچہ نہیں تھا۔
وہ ہماری انسانیت کا امتحان تھا۔
اور آج، اس امتحان میں، ہم میں سے کتنے لوگ کامیاب ہوئے ہیں؟
یا رب! رحم۔۔۔ بس رحم۔
آمین۔
مزید پڑھیں

ٹرانس جینڈر مرد اور اہلیہ پہلے بچے کی آمد کے منتظر


سحر کامران کا بیگم نصرت بھٹو کو خراجِ عقیدت
