اے زندگی!
اگر مجھے کبھی تمہارے نام خط لکھنے کا موقع ملا تو شاید میں لفظوں میں وہ سب کچھ بیان نہ کر سکوں جو وقت ان چند برسوں میں نے گزرا ہے۔ مگر پھر بھی میں تمہیں بتانا چاہوں گی کہ تمہارے چند سال میرے لیے کتنے طویل ہو گئے ہیں۔ کچھ وقت ایسا بھی ہوتا ہے جو کیلنڈر پر چند صفحات کی صورت میں گزرتا ہے، لیکن انسان کے اندر کئی عمروں کے برابر ٹھہر جاتا ہے۔ میرے لیے بھی زندگی کے کچھ سال ایسے ہی رہے ہیں، جنہیں گزارتے گزارتے میں نے خود کو بہت پیچھے چھوڑ دیا۔
زندگی! میں نے تمہیں جیا نہیں، صرف گزارا ہے۔ شاید اس لیے کہ میرے سامنے جینے کے راستے بہت محدود تھے۔ میرے پاس دو انتخاب تھے، اور دونوں کی قیمت مجھے ہی ادا کرنی تھی۔ ایک راستہ وہ تھا جس پر چل کر میں اپنی زندگی کو اپنی مرضی کے مطابق سنوار سکتی تھی، لیکن اس راستے میں میرے ساتھ جڑے کئی عزیزوں کے دل دکھنے کا اندیشہ تھا۔ ان کے مان، ان کی امیدوں اور ان کے اعتماد کو ٹھیس پہنچ سکتی تھی۔ ممکن تھا کہ میرے کسی فیصلے سے میری عزت پر بھی حرف آتا، اور میں اپنی عزت کو کسی بھی قیمت پر داؤ پر لگانے کے لیے تیار نہیں تھی۔
میں نے ہمیشہ یہ سمجھا کہ انسان بہت کچھ کھو کر دوبارہ حاصل کر سکتا ہے، مگر بعض فیصلوں کے نتائج ایسے ہوتے ہیں جن کا بوجھ ساری عمر اٹھانا پڑتا ہے۔ میرے لیے عزت محض لوگوں کی نظروں میں اچھا بنے رہنے کا نام نہیں تھی، بلکہ یہ میرے وجود، میری تربیت اور میرے اصولوں کا حصہ تھی۔ میں کسی بہتر زندگی کی خواہش میں ایسا قدم نہیں اٹھا سکتی تھی جس کے بعد مجھے ہر روز خود سے نظریں چرانا پڑتیں۔
دوسرا راستہ اپنی خواہشوں کو قربان کرنے کا تھا۔ اپنی خوشیوں کو پیچھے چھوڑ دینے کا، اپنے خوابوں کو خاموشی سے دفن کرنے کا، اور اپنی ذات کو ان تمام فیصلوں کے حوالے کر دینے کا جن میں میری اپنی پسند کی کوئی خاص اہمیت نہیں تھی۔ اس راستے پر چلنے کا نقصان بظاہر صرف میری ذات تک محدود تھا۔ نہ کسی اپنے کا مان ٹوٹتا، نہ کسی عزیز کا دل دکھتا، نہ کسی تعلق پر انگلی اٹھتی۔ سو میں نے بہت سوچ سمجھ کر اپنی ذات کی خوشیوں کو پسِ پشت ڈال دیا۔
شاید میں نے اس وقت یہی سمجھا تھا کہ میری قربانی سے سب محفوظ رہیں گے۔ سب کے چہروں پر سکون رہے گا، سب کے تعلقات اپنی جگہ قائم رہیں گے، اور کسی کو میری وجہ سے شرمندگی نہیں اٹھانی پڑے گی۔ لیکن زندگی! میں یہ بھول گئی تھی کہ جب انسان مسلسل دوسروں کی خوشیوں کے لیے اپنے حصے کی خوشیاں قربان کرتا ہے تو ایک دن اسے اپنی ہی ذات اجنبی محسوس ہونے لگتی ہے۔
آج جب پیچھے مڑ کر دیکھتی ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ بعض اوقات انسان دوسروں کو بچاتے بچاتے خود کو بہت تنہا کر لیتا ہے۔ وہ اپنے دکھ چھپا لیتا ہے، اپنی خواہشوں پر خاموشی کی چادر ڈال دیتا ہے اور اپنے اندر اٹھنے والے سوالوں کو بھی جواب دیے بغیر چھوڑ دیتا ہے۔ باہر سے سب کچھ معمول کے مطابق دکھائی دیتا ہے، مگر اندر ایک ایسی خاموشی جنم لے چکی ہوتی ہے جسے سننے والا کوئی نہیں ہوتا۔
زندگی! میں تم سے کوئی شکایت نہیں کرنا چاہتی، بس اتنا ضرور پوچھنا چاہتی ہوں کہ کیا اپنی عزت اور اپنوں کے مان کو بچانے کی قیمت ہمیشہ اپنی خوشیوں سے ادا کرنا ضروری ہے؟ کیا انسان کے لیے کوئی ایسا راستہ نہیں ہونا چاہیے جس پر چلتے ہوئے وہ اپنے اصول بھی محفوظ رکھ سکے اور اپنی ذات کو بھی مکمل طور پر نظرانداز نہ کرے؟
میں آج بھی عزت کو بہت اہم سمجھتی ہوں، لیکن اب یہ بھی جانتی ہوں کہ میری ذات، میرے خواب اور میری خوشیاں بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ قربانی اگر کسی تعلق کو بچاتی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ قربانی دینے والے کے احساسات بے معنی ہو جاتے ہیں۔
موت تو ایک دن ہر انسان کو آنی ہے، مگر زندگی صرف دوسروں کی توقعات پوری کرنے کا نام بھی نہیں۔ عزت کے ساتھ جینا، اپنی ذات کا احترام کرنا اور اپنے لیے درست راستہ تلاش کرنا بھی زندگی ہی کا حصہ ہے۔ بدنامی کا خوف اپنی جگہ، لیکن اپنی خوشیوں کو ہمیشہ کے لیے قربان کر دینا بھی کوئی معمولی قیمت نہیں۔
اے زندگی! اگر دوبارہ کبھی مجھے کوئی فیصلہ کرنا پڑا تو میری خواہش ہوگی کہ میں ایسا راستہ چن سکوں جہاں کسی کی عزت مجروح نہ ہو، کسی اپنے کا مان نہ ٹوٹے اور مجھے اپنی ذات کو بھی مکمل طور پر قربان نہ کرنا پڑے۔
مزید پڑھیں




