باپ وائس چیئرمین، بیٹا ایم پی اے، بیٹی ایم این اے کی امیدوار،پی ٹی آئی سے موروثیت ختم

0
57

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف بھی موروثی جماعت نکلی

عمران خان موروثیت کے خاتمے کے دعویدار، ن لیگ پیپلز پارٹی پر تنقید کرتے رہتے ہیں مگر اب انہوں نے اپنی پارٹی پر نظر نہیں ڈالی، موروثیت یہاں تک کہ باپ تحریک انصاف کا وائس چیئرمین، سابق رکن اسمبلی، بیٹا ایم پی اے اور اب بیٹی ایم این اے کا الیکشن لڑ رہی ہے،

پورے حلقہ این اے 157 میں تحریک انصاف کو کوئی ایسا کارکن نہیں ملا جس کو اس حلقے سے ٹکٹ دیا جا سکے، پہلے ضمنی الیکشن صوبائی سیٹوں پر ہوئے تو شاہ محمود قریشی کے بیٹے زین قریشی کو ٹکٹ دے دیا گیا اب قومی اسمبلی کے الیکشن ہو رہے ہیں تو شاہ محمود قریشی کی بیٹی نے کاغذات نامزدگی جمع کروا دیئے ہیں

مہر بانو قریشی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ خان صاحب نے جو امید کا دِیا جلایا ہے ہم اُسے بُجھنے نہین دین گے

ملتان میں پی ٹی آئی کارکن انجینئر وسیم نے ساتھیوں کے ہمراہ وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کے خلاف احتجاج کیا اور کہا کہ ,این اے 157 میں شاہ محمود قریشی اپنی بیٹی مہر بانو قریشی کو امیدوار کھڑا کر کے موروثی سیاست کو فروغ دے رہے ہیں,

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے ایک پی ٹی آئی کارکن کا کہنا تھا کہ ملتان میں تحریک انصاف کے رہنماؤں اور کارکنوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر #موروثی_سیاست_نامنظور ، #notacceptable اور #rejected ٹاپ ٹرینڈ بن رہا ہے خان صاحب کو اس فیصلے پر نظر ثانی کرنا ہوگی۔مہر بانو قریشی صاحبہ کا کوئی ورک پارٹی میں آج تک کہیں نظر آیا تو نہیں پھر ٹکٹ کیوں ؟؟؟

ایک صارف کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کا فراڈی اور چندہ خور لیڈر جو کہتا ہے کرتا اس سے 180ڈگری دوسرا کام ہے یہ مہر بانو قریشی ہے شاہ محمود قریشی کی بیٹی پہلے باپ پھر بیٹا اب بیٹی کو ٹکٹ دے دی ۔ جلسوں میں اعلان کرتا کہ موروثی سیاست کے خلاف ہوں مگر ٹکٹ پرانے سیاسی خاندانوں کو دیتا ہے

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ شاہ محمود قریشی ایم این اے کے بیٹے زین قریشی ایم این اے157کے مستعفی ہونے سے خالی ہونے والی سیٹ پر شاہ محمود قریشی کی بڑی بیٹی مہر بانو قریشی کو پی ٹی آئی کا ٹکٹ جاری کرکے موروثی سیاست کا خاتمہ کر دیا۔ یاد رہے کہ زین قریشی استعفیٰ کے بعد پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر ایم پی اے بن گئے تھے

ایک اور صارف نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی پالیسی سر آنکھوں پر لیکن ملتانیوں پر مورثی سیاست مسلط کرنے پر سوال تو بنتا ہے شاہ محمود ،زین قریشی اور اب مہر بانو ایک ورکر پوچھ رہا ہے کیا پورے ملتان میں مہربانو کے علاوہ کوئی ایسا قابل ورکر نہیں؟یہ بات تو واضع ہے کہ ووٹ شخصیت کو نہیں بلکہ بلے کے نشان کو دیکھ کر دیا جاتا

منصور احمد قریشی کہتے ہیں کہ شاہ محمود قریشی ایم این اے
زین قریشی بیٹا ایکس ایم این اے / ایم پی اے
مہر بانو قریشی امیدوار فار ایم این اے
پی ٹی آئی میں موروثی سیاست کا کوئی لینا دینا نہیں ۔

ن لیگی رکن پنجاب اسمبلی حنا پرویز بٹ نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ کہتے ہیں عمران خان موروثی سیاست کیخلاف ہے، دوسری جانب شاہ محمود قریشی کے بیٹے کو ایم پی اے بنانے کے بعد اب ان کی بیٹی کو پارٹی ٹکٹ دیدیا گیا۔۔۔واہ

قبل ازیں گزشتہ روز تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے این اے 157 کا شیڈول جاری کر دیا ہے عمران خان کی اجازت سے میری بیٹی مہر بانو نے اپنے کاغذات جمع کروا دہے ہیں,میری بیٹی تعلیم کے بعد صحافت سے بھی منسلک رہی ہے ,میری بیٹی کو پاکستان کی اگلی نسل کا احساس بھی ہے,پاکستان کی آدھی آبادی خواتین پر مشتمل ہے, عمران کا بیانیہ ہر جگہ پہنچنا ہماری سیاست کے لیے ضروری ہے,حکومت نے لنگر خانوں کو بند کرنے کی کوشش کی,نون کے لوگ این اے ایک سو ستاون میں پیپلزپارٹی کے ساتھ چلنے کو تیار نہیں ہیں,ووٹر ترازو میں تول کر اپنا فیصلہ کرے,این اے ایک سو ستاون میں مہر بانو بیسٹ آپشن ہے پیپلزپارٹی کو پنجاب میں ووٹ دے کر ووٹ ضائع کرنے والی بات ہے,یوسف رضا گیلانی لندن میں سیٹوں کی بھیک مانگ رہے ہیں,

عمران خان سمیت پوری پی ٹی آئی کو نااھل قرار دے کر پی ٹی آئی کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کا مطالبہ 

ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

پی ڈی ایم اجلاس،عمران خان کے خلاف کارروائی سے متعلق غور

Leave a reply