نور مقدم قتل کیس،سفاک ملزم مکر گیا،عدالت جمع کروایا گیا بیان باغی ٹی وی نے حاصل کر لیا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سیشن کورٹ اسلام آباد میں نور مقدم قتل کیس کی سماعت ہوئی
ملزم ظاہر جعفر کے وکیل نے یو ایس بی عدالت میں جمع کرا دی ،ایڈیشنل سیشن جج عطا ربانی نے استفسار کیا کہ اس یو ایس بی میں کیا ہے؟ وکیل نے کہا کہ یو ایس بی میں ظاہر جعفر اور نور مقدم سے متعلق ویڈیوز ہیں،
نور مقدم کیس میں مرکزی ملزم ظاہر ذاکر جعفر کا تحریری بیان عدالت میں پیش کر دیا گیا،ملزم ذاکر جعفر نے کہا کہ میں بے گناہ ہوں مجھے اور میرے ساتھیوں کو غلط طور پر کیس میں گھسیٹا گیا،نور نے مجھے زبردستی امریکہ کی پرواز لینے سے منع کیا، نور مقدم نے کہا کہ میں بھی تمہارے ساتھ امریکہ جانا چاہتی ہوں، نور نے دوستوں کو فون کر کے ٹکٹ خریدنے کے لیے پیسے لیے،ہم ائیرپورٹ کیلیے نکلے نور نے ٹیکسی کو گھر کی طرف مڑوا دیا میں اسے روک نہ سکا،
ظاہر جعفر نے ایک اور چکمہ دینے کی کوشش کی ہے،ظاہر جعفر کا کہنا ہے کہ 20جولائی کو ڈرگ پارٹی ارینج کی اور دوستوں کوبھی بلایا پارٹی شروع ہوئی تومیں منشیات کےغلبے میں آکرہوش کھوبیٹھا جب ہوش آیا تو پولیس یونیفارم اورسادہ کپڑوں میں لوگ دیکھے بعد میں معلوم ہواکہ پارٹی میں کسی نے نورکوقتل کردیا
ظاہر جعفر نے عدالت میں کہا کہ میرے والدین بے گناہ ہیں، مدعی کے بااثر ہونے کی وجہ سے مجھے ملوث کرکے ریاستی مشینری کا میرے خلاف بے دریغ استعمال کیا گیا ، نور کے فون کی سی ڈی آر صرف 20 جولائی صبح پونے 11 بجے کی حاصل گئی سی ڈی آرسے پتہ نہیں چل سکتا کہ نور نے کس کو پارٹی میں مدعو کیا تھا
دوران سماعت وکیل اسد جمال نے کہا ٹکٹ کی کاپی نہیں دی جس پر وکیل شہریار نواز نے بتایا جی وہ بھی دے دی ہے ،وکیل مدعی نثار اصغر نے سوال کیا کیا ویڈیو کلپس ہمیں بھی مہیا کی جائے گی وکیل اسد جمال نے کہا جی وہ آپ کو بھی مہیا کرا دیتے ہیں۔وکلا نے بتایا کہ سکندر زوالقرنین کل آئیں گے ،11 بجے تک پہنچ جائینگے، جس پر جج نے کہا کل نہیں بدھ کو آجائیں کیونکہ کل اوربھی ڈائریکشن کیس لگے ہیں
ذاکر جعفر کے وکیل بشارت اللہ کے دلائل میں کہا ابتدائی ایف آئی آر میں صرف ظاہر جعفر ملزم تھا 24 جولائی کوبیان میں ذاکر ،والدہ ،ملازم اور تھراپی ورکس کا ذکر آیا، 8 اگست کے بیان میں طاہر ظہور اور جان محمد کو نامزد کیا گیا، ذاکر جعفر،عصمت ،افتخار،اور جمیل 24 کو گرفتار ہوئے۔ شوکت مقدم کا بیان عدالت میں پڑھا گیا نور نے کہا دوستوں کے ساتھ لاہور جا رہی ہوں جبکہ ظاہر نے کہا نورمیرے ساتھ نہیں ہے اسکا ریکارڈ موجود نہیں یہ کہتے ہیں 19 کومعلوم ہوا بیٹی گھر میں 2 دن سے نہیں تھی دکھ ہے ایک کی بیٹی گئی اور دوسرے کے بوڑھے باپ کوجیل میں ڈال دیا گیا
بشارت اللہ نے مزید کہا کہ ڈی وی آر کے مطابق وہ خود گئی حبس بے جا میں نہیں رکھا گیا سی ڈی آر تمام ملزمان کا نہیں لیا گیا تفتیشی افسرنے موقع سے کوئی فنگر پرنٹ نہیں لیے، ہمارے خلاف تو کوئی ثبوت نہیں سوائے سی ڈی آر کے،وکیل نے مزید دلائل میں کہا کہ 27 جولائی کو 16 صفحات تھے جبکہ ذاکر جعفر کی سی ڈی آر ایڈٹ کی گئی ، سی ڈی آر ایڈٹ کی گئی کیونکہ والدین کو نامزد کرنا تھا، پانچ صفحات مدعی اور 3صفحات ملزم کے سی ڈی آر کے غائب ہیں ریکارڈ میں ٹیمپرنگ کی گئی ہے اور سی ڈی آر کے دینے والے کے دستخط نہیں ہیں ،جس نے ڈیٹا دیا اسکے دستخط ہی نہیں ہیں
مرکزی ملزم کے وکیل کا کہنا تھا کہ دسویں گواہ ڈاکٹر شازیہ کا بیان دیکھیں ، پہلا کیس ہے جس میں معلوم ہی نہیں پوسٹ مارٹم کس نے کیا دوست محمد اے ایس آئی 11 وان گواہ بھی برآمدگی کا گواہ ہے یہ درست ہے کہ برآمدگی میمو پر میرے دستخط ہی نہیں ہیں،وکیل نے کہا کہ انتطامی مشینری لگی ہوئی تھی عبوری ضمانت پر تھا گرفتار کر لیا گیا، ملزم عبوری ضمانت پر تھا تفتیشی نے اسے گرفتار کر لیا، جلدی میں کام کیا گیا لیکن برآمدگی میمو پر دستخط ہی نہیں کرائے، 491 کی درخواست دائرکی اس میں تفتیشی افسرنے مانا کہ میں نے گرفتار کر لیا، ایک تفتیشی افسر، ایک گواہ اور اسکے نام سے فردات بنا رہے ہیں، تینوں کی لکھائی مختلف اور دستخط بھی لیے
وکیل کے مطابق بارہوں گواہ محمد جابر کہتا ہے7 فون کا ڈیٹا لیا اس نےعدالت میں نمبر نہیں بتائے، جابر نےاپنے بیان میں نہیں بتایا کہ کونسے 7 فون نمبرز کا ڈیٹا اس نے دیا، چار چار دفعہ سی ڈی آر کا ڈیٹا بنا کر دیا گیا کسی کی مہر ہی لگا دیتے کہ کس نے ڈیٹا دیا ،دو ماہ بعد انکو ڈیٹا کیسے مل گیا پہلے سی ڈی آر کے ڈیٹا کا ذکر ہی نہیں تھا،14 جولائی کا ڈیٹا بعد میں بنایا گیا سارا ڈیٹا خود تخلیق کیا گیا ہے گواہ کیسے آکر کہہ سکتا ہے یہ وہی ڈیٹا ہے جو میں نے جاری کیا سی ڈی آر کے ڈیٹا پر آئی ٹی کی مہر ہی نہیں، 22 ستمبر کو تفتیشی 161 کا بیان لکھتا ہے۔
دوران سماعت جج نے وکلاء سے استفسار ملزم تو نہیں چاہیے، جس پر وکیل بشارت اللہ نے بتایا نہیں میرا ملزم یہاں پر موجود رہے ، 22 ستمبر میں 14 اکتوبر کا ڈیٹا گواہ بتا رہا ہے وکیل کا کہنا تھا کہ 15ویں گواہ اے ایس آئی زبیرمظہرنے ملزم ،مقتولہ کی موجودگی ظاہر نہیں کی زبیر مظہر نے بھی سارا کام تھانے میں کیا اگر موقع پر کرتا تو ملزم اور مقتولہ کی موجودگی ظاہر کرتا،161 کا بیان کا گواہ کوئی اور ہے اور سرکار نے مدثر عالم کوبنایا یہ کوئی اور ہے
جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا تفتیش اس نے کی ہے، وکیل اسد جمال نے بتایا کہ انہوں نے تفتیش کو مان لیا ہے، نور مقدم کا ڈیٹا 20 جولائی صبح 10 بجے تک لیا گیا جو ایک صفحے کا ہے، ہمارا ڈیٹا 56 صفحات پر مشتمل ہے، میں قصور وار ہوتا تو واپس آتا،وکیل نے کہا کہ ذاکرجعفر 20 سے 23 تک شامل تفتیش ہوا ،24 کو کون سا ثبوت آیا کہ گرفتار کرلیا،22 جولائی کو اسلحہ کا فرد بنایا میں نے لائسنس پیش کیا، میری اورمدعی کی 20 جولائی کو10 منٹ کی کال ہے عدالت کوکیوں آگاہ نہ کیا، تفتیشی افسرکہتا ہے تفتیش میں مدعی نے نہیں بتایا کہ ذاکر جعفر سے کیا گفتگو ہوئی۔
نور مقدم قتل کیس میں شریک ملزم ذاکر جعفر کے وکیل بشارت اللہ نے حتمی دلائل مکمل کر لیے ، ایڈیشنل سیشن جج عطا ربانی نے دیگر ملزمان کے وکلا کو 16 فروری کو دلائل دینے کی ہدایت کردی
@MumtaazAwan
واضح رہے کہ سابق سفیر کی بیٹی کو قتل کر دیا گیا اسلام آباد کے تھانہ کوہسار کی حدود میں قتل ہونے والی نور مقدم کے والد شوکت علی مقدم نے بیٹی کے قتل کے حوالے سے بیان دیتے ہوئے کہا ہے رات کو تھانہ کوہسار سے کال آئی کہ نور مقدم کا قتل ہو گیا ہے اور جب میں نے موقع پر پہنچ کر دیکھا تو میری بیٹی کا گلا کٹا ہوا تھا نور مقدم کا قاتل ملزم ظاہر جعفر اسکے والدین اور دیگر ملزمان اڈیالہ جیل میں قید ہیں امریکی سفارتخانے نے نور کے قاتل سے بات کی ہے
نورمقدم کے قاتل کو بھاگنے نہیں دیں گے،دوٹوک جواب،مبشر لقمان کا دبنگ اعلان
مبشر لقمان کو ظاہر جعفر کا نوٹس تحریر-سید لعل حسین بُخاری
جب تک مظلوم کوانصاف نہیں مل جاتا:میں پیچھے نہیں ہٹوں گا:مبشرلقمان بھی نورمقدم کے وکیل بن گئے
:نورمقدم کی مظلومیت کیوں بیان کی: ظاہر جعفر کے دوست ماہر عزیز کے وکیل نے مبشرلقمان کونوٹس بھجوا دیا
پاکستان کے سابق سفیر شوکت علی مقدم کی بیٹی نور مقدم کے قتل کا مقدمہ تھانہ کوہسار میں درج کیا گیا ہے، پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی کے والد شوکت علی مقدم کی مدعیت میں قتل کی دفعہ 302 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے،
نورمقدم قتل ، نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس، ملزمان کے نفسیاتی ٹیسٹ کی آئی رپورٹ
نور مقدم قتل کیس،مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے ریمانڈ میں توسیع
نور مقدم قتل کیس، ایک اور ملزم نے ضمانت کے لئے رجوع کر لیا
نور مقدم کیس، سسٹم کا گھناؤنا چہرہ بے نقاب،کیس الجھ گیا، مال کی چمک دمک شروع
نور مقدم کو انصاف دلوائو.. | مبشر لقمان نے سپر سٹارز کا ضمیر جھنجوڑ دیا
نور مقدم قتل کیس، ظاہر جعفر کا عدالت میں ایک اور ڈرامہ
نورمقدم قتل کیس، ظاہر جعفر پاگل ہے، عدالت میں درخواست دائر
نور مقدم قتل کیس، سماعت بغیر کارروائی ملتوی
نورمقدم قتل کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ
نور مقدم قتل کیس،مرکزی ملزم کو اندر بلا کر عدالت نے میڈیا کو باہر نکال دیا
بیٹی کو ناحق قتل کیا گیا، ملزم کوسزائے موت سنائی جائے،نورمقدم کے والد کا عدالت میں بیان
نورمقدم قتل کیس کے تفتیشی افسر کا بیان قلمبند
نور مقدم قتل کیس، ظاہر جعفر کا ایک اور ڈرامہ،سوشل میڈیا صارفین برس پڑے
نور مقدم قتل کیس،مرکزی ملزم ظاہر جعفر کو آج عدالت کیسے پیش کیا گیا؟
نور مقدم قتل کیس، ڈاکٹرز کو بطور گواہ طلب کرنے کی درخواست پر فیصلہ آ گیا
نور مقدم قتل کیس،اِن کیمرہ سماعت ختم،آئندہ سماعت پر کیا ہو گا؟
نور مقدم قتل کیس،مرکزی ملزم ظاہر جعفر کی تینوں درخواستیں خارج
نورمقدم کیس کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر نے قتل کے الزام سے صاف انکار کردیا