سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کروانے سے متعلق صدارتی ریفرنس،سپریم کورٹ میں سماعت،کس نے کی مہلت طلب؟

0
90

سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کروانے سے متعلق صدارتی ریفرنس،سپریم کورٹ میں سماعت،کس نے کی مہلت طلب؟

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ میں سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کروانے سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سماعت ہوئی

چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں پانچ رکنی خصوصی بنچ سماعت کر رہا ہے،وکیل کامران مرتضیٰ نے کہا کہ عدالت نے 2 ہفتے کا وقت دیا تھا مگر ہمارا جواب جمع نہیں کیا جارہا،وکیل جے یو آئی نے کہا کہ جمعیت علما اسلام پاکستان کا جواب رجسٹرار آفس قبول نہیں کر رہا،

چیف جسٹس گلزار احمد نے وکیل کو کہا کہ آپ جواب جمع کرائیں، وصول کر لیں گے،ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے سینیٹ انتخابات پر جواب جمع کرانے کے لیے مہلت مانگ لی،عدالت نے استدعا منظور کرتے ہوئے سندھ حکومت کو ایک ہفتے کا وقت دے دیا

صدارتی ریفرنس میں سینیٹر رضا ربانی کی فریق بننے کی استدعا منظورکر لی گئی،رضا ربانی کے علاوہ دو مزید وکلا نے فریق بننے کی درخواست کر دی

چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ تمام فریقین کے جوابات آنے کے بعد سب کو دیکھیں گے، اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ صدارتی ریفرنس آرٹیکل 226 کے اسکوپ سے متعلق ہے ،سپریم کورٹ صدر کی جانب سے بھیجے گئے ریفرنس پر رائے دینے کی پابند ہے،سپریم کورٹ مستقبل کی قانون سازی سے متعلق بھی رائے دے سکتی ہے،صدارتی ریفرنس آرٹیکل 186 کے تحت قابل سماعت ہے،

جے یو آئی پاکستان نے صدارتی ریفرنس کی مخالفت کردی،جے یو آئی پاکستان نے اپنے تحریری معروضات سپریم کورٹ میں جمع کرا دیئے،جے یو آئی نے موقف اپنایا کہ صدارتی ریفرنس ناقابل سماعت ہے،صدارتی ریفرنس پارلیمنٹ کو بے توقیر کرنے کے مترادف ہے،

اٹارنی جنرل نے کہا کہ قومی اسمبلی کے انتخابات خفیہ ہی ہو سکتے ہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ عدالت نے فیصلہ کرنا ہے سوال قانونی یا عوام مفاد کا ہے یا نہیں؟ اٹارنی جرنل نے کہا کہ سپریم کورٹ مستقبل کی قانون سازی سے متعلق بھی رائے دے سکتی ہے،سپریم کورٹ صدر کی جانب سے بھیجے گئے ریفرنس پر رائے دینے کی پابند ہے،اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے تحریری معروضات جمع کرا دیں

اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ پہلے ریفرنس کے قابل سماعت ہونے پر دلائل دوں گا،صدارتی ریفرنس آرٹیکل 226 کے اسکوپ سے متعلق ہے،بھٹو ریفرنس کے علاوہ عدالت تمام ریفرنسز پر فیصلہ دے چکی ہے

ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ سندھ حکومت کا جواب جمع کرنا چاہتے ہیں، چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ کیا سندھ حکومت کا جواب میٹھا ہو گا؟ چیف جسٹس گلزار احمد کے سوال پر عدالت میں قہقے گونج اٹھے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالتی حکم پر اخبارات میں اشتہارات دیئے تھے،

جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا کوئی آزاد حیثیت میں سینیٹ الیکشن لڑ سکتا ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ آزاد حیثیت میں امیدواروں کے سینیٹ الیکشن لڑنے پر پابندی نہیں،عدالت نے کہا کہ عدالت نے فیصلہ کرنا ہے کہ سوال قانونی یا عوامی مفاد کا ہے یا نہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ماضی میں بھی قوانین پر سپریم کورٹ سے رائے لی گئی ہے،کئی بار قانون سازی سے قبل صدر نے عدالتوں سے رائے لی،عدالت ماضی میں بھی صدارتی ریفرنسز قابل سماعت قرار دے چکی ہے، بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے کے معاملے پر بھی صدارتی ریفرنس آیا تھا، عدالت نے کہا تھا کہ پارلیمنٹ بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے یا مسترد کرنے کی قرار داد منظور کر سکتی ہے،

اٹارنی جنرل نے کہا کہ جہاں جہاں آئین کے مطابق انتخابات کروانے کا کہا گیا وہاں طریقہ کار بھی وضع کیا گیا،آئین سینیٹ انتخابات کی بات تو کرتا ہے لیکن اسکا کوئی طریقہ کار وضع نہیں کیا گیا آرٹیکل 226 میں انتخابات آئین کے تحت کروانے کا کہا گیا ہے،

حکومت کی جانب سے دائرصدارتی ریفرنس میں موقف اپنایا گیا کہ سینیٹ انتخابات آ ئین کے تحت نہیں کرائے جاتے، سینیٹ کا انتخاب الیکشن ایکٹ 2017 کے تحت کرایا جاتا ہے،سینیٹ کا الیکشن اوپن بیلٹ کے تحت ہو سکتا ہے، اوپن بیلٹ سے سینیٹ الیکشن میں شفافیت آ ئے گی،

حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں مزید کہا گیا کہ خفیہ ووٹنگ کی وجہ سے سینیٹ الیکشن کے بعد شفافیت پر سوال اٹھائے جاتے ہیں

قبل ازیں سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے کے حوالے سے بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے ، صدر مملکت عارف علوی نے معاملے پر سپریم کورٹ کی رائے حاصل کرنے کیلئے صدارتی ریفرنس پر دستخط کر دیئے ہیں

ایوان صدر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ کے ذریعےکرانے کیلئے آئین کے آرٹیکل 186 کے تحت ریفرنس سپریم کورٹ بھجوانے کی وزیرِاعظم کی تجویزکی منظوری دے دی ہے۔

وفاقی کابینہ سے مشاورت کے ساتھ ہی سینیٹ انتخابات شوآف ہینڈسےکرانے کا فیصلہ ہوگیا

ریفرنس میں آئین میں ترمیم کے بغیر الیکشن ایکٹ 2017ء کے سیکشن (6) 122 میں ترمیم کرنے پر سپریم کورٹ کی رائے مانگی گئی ہے۔وفاقی کابینہ اس معاملے پر 15 دسمبر کو سپریم کورٹ سے رائے لینے کی منظوری دے چکی ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت ہارس ٹریڈنگ کے خاتمے اور انتخابات میں شفافیت کے لئے ایوان بالا کے آئندہ الیکشن اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے کی خواہاں ہے۔

پی ڈی ایم لاہور جلسے کو کامیاب بنانے کیلئے مریم نواز نے کس کو طلب کر لیا؟

مردوں سے دوقدم آگے بڑھ کریہ کام کرنا ہے، مریم نواز نے خواتین رہنماؤں کو دیئے مشورے

سب سن لیں،مریم پارٹی کو لیڈ کررہی ہیں،رانا ثناء اللہ، نواز شریف کو بھی دیا مشورہ

عمران خان اور انکے ساتھی جو الفاظ استعمال کررہے ہیں وہ کشیدگی بڑھا رہی ہے ،قمر زمان کائرہ

لاہور جلسہ سے قبل پی ڈی ایم کو سرپرائز دینگے ، فردوس عاشق اعوان

پی ڈی ایم کی تحریک کامیابی کی جانب بڑھنا شروع،حکومتی حلقوں میں تہلکہ

مریم نواز نے گھر چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا

استعفے لینے والوں کو دینے پڑ گئے، پی ڈی ایم سے پہلا استعفیٰ آ گیا،رکن اسمبلی مستعفی

لاہور جلسہ سے قبل پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس اسلام آباد میں طلب،اہم فیصلے متوقع

سیاسی جلسے جلسوں پر پابندی،عدالت نے کس کو کیا طلب؟

مریم نواز نکلیں گی، ہم ہر صورت یہ کام کریں گے، مریم اورنگزیب کا چیلنج

13 دسمبر کو ہر ہاتھ میں جھنڈا اورہر جھنڈے میں ڈنڈا ہوگا، قمر زمان کائرہ

شاہدرہ جلسے میں حملہ کیسے ہوا اور کس نے کیا؟ مریم نواز نے خود بتا دیا

استعفے منظور کرنے ہیں یا نہیں؟ پرویز الہیٰ نے بڑا فیصلہ کر لیا

پی ڈی ایم کو بڑا دھچکا،حکومت نے ایسا کام کر دیا کہ پی ڈی ایم کی ساری امیدوں پر پانی پھر گیا

نیب کی کارروائیاں ناقابل برداشت ہوتی جا رہی ہیں،اپوزیشن سینیٹ میں پھٹ پڑی

سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے کا معاملہ،رضا ربانی بھی عدالت پہنچ گئے

Leave a reply