شراب خانوں کو لائسنس کن شرائط پر جاری ہوتا ہے؟ عدالت نے جواب طلب کر لیا

شراب خانوں کو لائسنس کن شرائط پر جاری ہوتا ہے؟ عدالت نے جواب طلب کر لیا

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سندھ ہائیکورٹ میں شراب خانوں کو لائسنس کے اجرا کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی

عدالت نے سندھ حکومت، محکمہ ایکسائز سے 29اپریل تک رپورٹ طلب کرلی، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ کن شرائط پر شراب خانوں کو لائسنس جاری کیے جاتے ہیں؟ ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ تعلیمی ادارے ،مساجد اور مدارس کے قریب شراب خانے نہیں کھولے جائیں گے،

عدالت نے کہا کہ وہ قانون پیش کریں جس کے تحت شراب کھانے کھولے گئے،ہمیں یہ دیکھنا ہے جو لائسنس جاری کیا گیا وہ قانون کے مطابق ہے یا نہیں؟ مساجد ،اسکول، مدارس کے قریب شراب خانے نہیں کھولنے چاہیے،

ڈائریکٹر ایکسائز سندھ نے عدالت میں کہا کہ لائسنس جاری کرنے سے پہلے ان ساری چیزوں کا خیال رکھا جاتا ہے،شراب خانہ وہاں کھولنے کی اجازت ہے جہاں غیرآباد ہو،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 1885اور2020 ڈیفنس میں بہت فرق ہے،

شراب کی فروخت سے آنیوالی رقم سے ملتی ہیں صدر مملکت سمیت سب کو تنخواہیں

واٹس ایپ پر محبوبہ کی ناراضگی،نوجوان نے کیا قدم اٹھا لیا؟

غیرت کے نام پر سنگدل باپ نے 15 سالہ بیٹی کو قتل کر دیا

بیوی طلاق لینے عدالت پہنچ گئی، کہا شادی کو تین سال ہو گئے، شوہر نہیں کرتا یہ "کام”

50 ہزار میں بچہ فروخت کرنے والی ماں گرفتار

ایم بی اے کی طالبہ کو ہراساں کرنا ساتھی طالب علم کو مہنگا پڑ گیا

اچھی نوکری کا جھانسہ دے کر غیر ملکی لڑکی سے کیا گیا گھناؤنا کام

خاتون ٹیچر نے شراب پی کر ایسا "کام” کیا کہ طلبا بھی حیران رہ گئے

عدالت نے کیس سماعت ملتوی کرتے ہوئے رپورٹ طلب کر لی

واضح رہے کہ رواں برس ماہ جنوری میں ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس اینڈ انوسٹی گیشن ایف بی آر کے ڈائریکٹر عرفان جاوید نے کہا تھا کہ 20-2019ء کی پہلی 2 سہ ماہی میں گذشتہ 5 برس کی نسبت ڈائریکٹوریٹ کی کارکردگی شاندار رہی ہے، اس عرصے میں گذشتہ سال کی نسبت مقدمات کے اندراج میں 576 فیصد اضافہ ہوا ہے، مالیت کے لحاظ سے یہ اضافہ 166 فیصد زیادہ ہے۔ اسمگلنگ کی روک تھام کے لئے کئے جانے والے اقدامات کے نتیجے میں 4 ارب 82 کروڑ روپے کے کیس بنائے گئے، جبکہ براہ راست حکومتی خزانے میں 31 کروڑ 50 لاکھ روپے جمع کروائے گئے۔

عرفان جاوید نے مزید کہا کہ آئرن اور اسٹیل میں ٹیکس چوری کا ایک بڑا اسیکنڈل بےنقاب کیا گیا، جس کے بعد کئی درآمد کنندگان کے خلاف مقدمات درج ہوئے، 4 غیر ملکی سفارت خانوں کے نام پر شراب اسمگلنگ کا ایک بڑا کیس پکڑا جس کے بعد سفارت خانوں سے شراب کی اسمگلنگ بڑی حد تک کم ہو گئی ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ سفارت خانوں نے درآمد کی گئی کنسائمنٹ سے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا، جس کے بعد یہ کنسائمنٹ ضبط کئے گئے، اسی طرح او جی ڈی سی کے امپورٹرز کی جانب سے ایس آر او 2004/678 کا غلط استعمال کرکے 22 کروڑ کی ڈیوٹی بچانے کی کوشش ناکام بنائی، اس کے ساتھ اینٹی اسمگلنگ تاریخ کی سب سے بڑی کارروائی یوسف گوٹھ میں کی گئی اور پولیس کی معاونت سے 46 کروڑ 98 لاکھ کا سامان صرف ایک ہی جگہ سے ضبط کیا گیا

کرونا وائرس، کونسے ملک نے بارز بند ہونے پر شراب کی گھروں میں ڈلیوری کی اجازت دے دی؟

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.