fbpx

ٹیلی نار کمپنی کے ملک چھوڑنے کی خبر سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کی گئی

وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کا کہنا ہے کہ ٹیلی نار کمپنی کے ملک چھوڑنے کی خبر سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کی گئی ہے

وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی نے کہا ہے کہ ٹیلی نار کمپنی کے ملک چھوڑ کر جانے کی بات سیاق و سباق سے ہٹ کر ہے۔ وزارت کی جانب سے کی گئی ایک ٹویٹ میں کہا گیا کہ ”ایڈیشنل سیکریٹری کا موقف تھا کہ ایل سیز کی بندش سے کمپنیوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ ایڈیشنل سیکریٹری نے ٹیلی کام کمپنیوں کو درپیش مسائل پر بات کی۔‘’ جبکہ اس سے قبل قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی میں وزارت آئی ٹی کے حکام نے بتایا تھا کہ خراب معاشی صورتحال کے باعث ایک بین الاقوامی ٹیلی کام کمپنی نے پاکستان چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 


خیال رہے کہ گزشتہ روز بدھ کو قومی اسمبلی کے رکن میر خان محمد جمالی کی زیر صدارت اجلاس میں وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا تھاکہ خراب معاشی حالات کے باعث ایک بڑی ٹیلی کام کمپنی جا رہی ہے۔ جبکہ ایڈیشنل سیکریٹری وزارت آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام نے قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ٹیلی نار نے کہا ہے کہ وہ پاکستان چھوڑنے جا رہا ہے، وفاقی حکومت کو ٹیلی کام کمپنیوں کے مسائل سے آگاہ کیا لیکن حکومت کی جانب سے ٹیلی کام سیکٹر کے مسائل کے حل کے لیے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی.

ارکان نے ملک بھر میں ناقص سروسز کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا جس پر حکام نے بتایا کہ ٹیلی کام سیکٹر کے ٹیکس اور ایل سیز کے مسائل ہیں، ایل سیز نہ کھلنے کی وجہ سے ٹیلی کام آلات درآمد نہیں ہو رہے۔ علاوہ ازیں کمیٹی ارکان نے کہا تھا کہ ملک بھر میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس کا معیار انتہائی ناقص ہے۔ کراچی سمیت ملک کے بڑے شہروں میں سروس کے مسائل ہیں جبکہ سفر کے دوران موٹرویز پر انٹرنیٹ سروس دستیاب نہیں۔ 

جس پر وزارت آئی ٹی نے بتایا کہ خراب معاشی حالات کے باوجود ٹیلی کام شعبے میں نئی کمپنیاں آ رہی ہیں۔ ملک میں غیر معیاری انٹرنیٹ کی بنیادی وجہ ایل سیز نہ کھلنا ہے۔ سٹیٹ بینک کی جانب سے ٹیلی کام انڈسٹری کی ایل سیز پر پابندی ہے۔  ایڈیشنل سیکریٹری آئی ٹی نے موقف اختیار کیا کہ؛ جب مشینری درآمد نہیں کریں گے تو معیاری انٹرنیٹ کہاں سے ملے گا۔ اس وقت ملک میں فائبر آپٹک کی قلت ہے، جتنی فائبر آپٹک چاہیے دستیاب نہیں ہے جبکہ مائیکرو ویو پر سگنلز کے ذریعے انٹرنیٹ چل رہا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں؛
ہم بچے نہیں ہیں جو ہم پر ہونے والے حملوں کو نہ سمجھ پائیں اسد صدیقی کا عادل راجہ کو منہ توڑ جواب
اسلام آباد میں آج موسم شدید سرد اور خشک رہے گا
فیصل واوڈ کی نشست پر انتخاب کامعاملہ،کاغذات نامزدگی آج سے 7 جنوری تک جمع ہوں گے

اداکاراؤں کی کرداکشی : خواتین کی عزت نہ کرنے والے ذہنی بیمار ہیں،مریم اورنگزیب
تاہم خیال رہے کہ ٹیلی نار کی جانب سے اس بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا جبکہ بدھ کی شب وزارت آئی ٹی کی جانب سے اس خبر کی تردید جاری کی گئی کہ ٹیلی نار کمپنی کے ملک چھوڑ کر جانے کی بات سیاق و سباق سے ہٹ کر ہے. ایڈیشنل سیکریٹری کا موقف تھا کہ ایل سیز کی بندش سے کمپنیوں کو مشکلات کا سامنا ہے. ایڈیشنل سیکریٹری نے ٹیلی کام کمپنیوں کو درپیش مسائل پر بات کی۔ اردو نیوز کے مطابق چیئرمین قائمہ کمیٹی میر خان محمد جمالی نے انہیں تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ وزارت آئی ٹی حکام کی جانب سے ٹیلی نار کمپنی کا پاکستان چھوڑنے سے متعلق بریفنگ دی تھی۔ آئی ٹی حکام نے یہ بتایا تھا کہ ٹیلی نار پاکستان سے چھوڑ کر جانے کا فیصلہ کرچکی ہے اور وزارت کی جانب سے اب اس خبر کی تردید آنا حیرت انگیز ہے۔