fbpx

ترکی:استنبول میں داعش کا سربراہ گرفتار

ترکی کے سب سے بڑے شہراستنبول میں سکیورٹی فورسز نے سخت گیرجنگجو گروپ داعش کے نئے رہ نما کو گرفتار کرلیا ہے۔

ترکی کے اعلیٰ حکام نے جمعرات کے روز اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ انسداد دہشت گردی پولیس اورانٹیلی جنس ایجنٹوں نے ایک ایسے شخص کو حراست میں لیا ہے جس کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ فروری میں شام میں امریکی کارروائی میں داعش کے سابق سربراہ کی ہلاکت کے بعد سے وہ انتہا پسند گروہ کی قیادت کررہا تھا۔انھوں نے معاملے کی حساسیت کے پیش نظراس کی شناخت ظاہرنہیں کی ہے۔

ترک سیکورٹی فورسز نے استنبول میں ایک چھاپے کے دوران دہشتگرد تنظیم داعش کے سربراہ کو گرفتار کرلیا ہے۔ترک میڈیا کے مطابق سینیئر حکام نے بلومبرگ کو بتایا کہ انسداد دہشت گردی کے افسران اور انٹیلی جنس نے ابو حسن الہاشمی القریشی کو گرفتار کیا ہے۔

 

 

سیکورٹی حکام نے بتایا کہ ابو حسن کو ایک گھر کی طویل نگرانی کے بعد پکڑا گیا جس میں وہ مقیم تھا۔ تاہم حکام نے مزید تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا ہے۔واضح رہے کہ ابو حسن الہاشمی داعش کے پہلے لیڈر ابوبکر البغدادی کا بھائی ہے، جس نے 2014 میں موصل میں نام نہاد ’خلافت‘ کا اعلان کیا تھا۔

رواں سال فروری میں شام میں امریکی آپریشن کے دوران سابق سربراہ ابو ابراہیم القریشی کی ہلاکت کے بعد ابو حسن الہاشمی القریشی، جس کا اصل نام جمعہ عواد البدری ہے، نے داعش کی قیادت سنبھالی تھی۔

حکام نے بتایا کہ صدررجب طیب ایردوآن کو داعش کے لیڈر کی گرفتاری سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔اودا ٹی وی کے مطابق توقع ہے کہ صدر بہ ذات خود آنے والے دنوں میں اس کی گرفتاری کا باضابطہ اعلان کریں گے۔

حکام نے بتایا کہ دہشت گرد گروہ کے رہ نما کوپولیس نے ایک گھر کی طویل نگرانی کے بعد پکڑا ہے۔وہ اس گھر میں روپوش تھا۔ اودا ٹی وی نے بتایا کہ چھاپے کے دوران میں پولیس نے فائرنگ نہیں کی۔

ترک فورسزنے حالیہ برسوں کے دوران میں داعش کے عسکریت پسندوں کے خلاف اندرون ملک اور پڑوسی ملک شام میں متعدد کارروائیاں کی ہیں اور ترکی کی سرحد کے قریب متعدد قصبوں سے انتہاپسند جنگجوؤں کو بے دخل کردیا ہے۔

داعش کے لیڈر کی حراست کی خبرایسے وقت میں سامنے آئی ہےجب انقرہ امریکا کی حمایت یافتہ کرد ملیشیا وائی پی جی کی فورسز کا مقابلہ کرنے کے لیے شامی علاقے میں ایک نئے آپریشن کے منصوبوں کا اشارہ دے رہا ہے۔ترکی انھیں اپنے جنوب مشرقی علاقے میں خود مختاری کے لیے مسلح تحریک چلانے والے علاحدگی پسند کرد جنگجوؤں اوران کی جماعت کردستان ورکرزپارٹی سے روابط کی بناپر دہشت گرد قراردیتا ہے۔