بہاولپور صوبہ ایک تاریخی حق ،تحریر: سید ساجد علی شاہ
نقطہ نظر
ریاست بہاولپور برصغیر کی اہم مسلم ریاستوں میں شمار ہوتی تھی۔ نواب سر صادق محمد خان عباسی پنجم نے ریاست میں تعلیم، صحت، سڑکوں، آب پاشی اور دیگر عوامی سہولیات کے فروغ پر خصوصی توجہ دی۔ ریاست میں تعلیمی اداروں کا مضبوط نظام قائم ہوا، جس میں جامعہ عباسیہ بھی شامل تھی، جبکہ اعلیٰ تعلیم کے لیے وظائف بھی دیے جاتے تھے۔ قیام پاکستان کے وقت نواب بہاولپور نے پاکستان سے الحاق کیا اور ریاست کی جانب سے نئے ملک کی ابتدائی مالی ضروریات میں بھی مدد فراہم کی گئی۔ تاریخی ریکارڈ کے مطابق بہاولپور کی مالی معاونت کو قرض کے بجائے تعاون اور عطیہ قرار دیا گیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ بہاولپور کی تاریخ صرف ایک خطے کی تاریخ نہیں بلکہ پاکستان کے ابتدائی سفر سے بھی گہرا تعلق رکھتی ہے گزشتہ دنوں جمعیت علماء اسلام ضلع رحیم یار خان کے امیر علامہ عبدالروف ربانی سے ان کے دفتر جامعہ حسنیہ ربانیہ، مکی مسجد میں ملاقات کا موقع ملا۔ علامہ عبدالروف ربانی جمعیت علماء اسلام ضلع رحیم یار خان کے امیر ہونے کے ساتھ ساتھ پنجاب امن کمیٹی کے رکن بھی ہیں۔ نرم مزاج، ملنسار، علمی و ادبی ذوق رکھنے والی شخصیت اور عجز و انکساری کو اپنی پہچان بنانے والے علامہ عبدالروف ربانی کی ایک نمایاں خوبی یہ بھی ہے کہ وہ ملکی اور ضلعی حالات و واقعات کے ساتھ ساتھ سیاسی معاملات پر بھی گہری نظر رکھتے ہیں۔ اسی لیے ان سے ہونے والی ملاقات محض رسمی ملاقات نہیں تھی بلکہ مختلف اہم موضوعات پر تفصیلی گفتگو کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ ملاقات کے دوران چیمبر کے انتخابات، ضلع رحیم یار خان کے موجودہ حالات و واقعات، سیاسی صورت حال اور عوامی مسائل سمیت مختلف امور پر سیر حاصل گفتگو ہوئی۔ گفتگو کا دائرہ جب وسیع ہوا تو بہاولپور صوبے کے مطالبے کا موضوع بھی زیر بحث آیا۔ یہ ایسا موضوع ہے جس کے ساتھ اس خطے کے لوگوں کی تاریخی، انتظامی اور جذباتی وابستگی جڑی ہوئی ہے۔ بہاولپور کی تاریخ، ریاستی تشخص اور قیام پاکستان کے ابتدائی دور میں اس خطے کے کردار کو سامنے رکھا جائے تو اس مسئلے پر گفتگو محض سیاسی نعرے تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کے تاریخی پہلو بھی سامنے آتے ہیں۔علامہ عبدالروف ربانی نے گفتگو کے دوران واضح الفاظ میں کہا کہ وہ بہاولپور کو صوبہ بنانے کے حق میں ہیں۔ صوبے کا نام بہاولپور ہو یا سرائیکیستان، اصل بات یہ ہے کہ اس خطے کو ایک الگ انتظامی شناخت دی جائے۔ ان کے مطابق بہاولپور صوبہ ایک تاریخی حقیقت ہے اور اسے اس کے سابقہ تشخص کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ یہ بات اپنی جگہ اہم ہے کہ برصغیر کی تقسیم کے وقت بہاولپور ایک باقاعدہ ریاست تھی اور اس کے حکمران نواب سر صادق محمد خان عباسی پنجم نے اکتوبر 1947ء میں پاکستان سے الحاق کیا۔ تاریخی ذرائع کے مطابق اس دور میں ریاست بہاولپور کی اپنی انتظامی مشینری، مالیاتی ادارے، عدالتی نظام، تعلیمی ادارے اور ریاستی افواج موجود تھیں۔ اس تاریخی پس منظر کو سمجھنا ضروری ہے کیونکہ آج بہاولپور صوبے کی بحث اسی ماضی سے جڑی ہوئی ہے۔ ریاست بہاولپور کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ نواب بہاولپور نے تعلیم اور عوامی فلاح کے شعبوں میں متعدد اقدامات کیے۔ تاریخی حوالوں کے مطابق ریاست میں بنیادی اور اعلیٰ سطح کے تعلیمی ادارے قائم کیے گئے، وظائف دیے گئے اور تعلیم کے فروغ پر توجہ دی گئی۔ نواب بہاولپور کے دور میں سڑکوں، پلوں، آب پاشی اور زرعی نظام کی ترقی بھی ریاستی پالیسی کا حصہ رہی۔ قیام پاکستان کے وقت بھی ریاست بہاولپور کا کردار قابل ذکر رہا۔ تاریخی ریکارڈ کے مطابق پاکستان کے ابتدائی مالی تقاضوں میں بہاولپور ریاست کی جانب سے مدد فراہم کی گئی اور اس مقصد کے لیے بینک آف بہاولپور نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ قومی اسمبلی کے تاریخی ریکارڈ میں بھی بہاولپور کی طرف سے پاکستان کے لیے فوجی اور مالی معاونت کے حوالے موجود ہیں۔ یہی تاریخی پس منظر بہاولپور کے صوبائی مطالبے کو ایک خاص تناظر فراہم کرتا ہے۔ تاہم موجودہ پاکستان میں کسی نئے صوبے کا قیام ایک آئینی اور پارلیمانی معاملہ ہے، جس کے لیے آئینی طریقہ کار اور متعلقہ سیاسی و عوامی مراحل سے گزرنا ضروری ہوگا۔ اس لیے اس موضوع پر گفتگو کرتے وقت تاریخ، آئین، انتظامی ضرورت، عوامی رائے اور موجودہ سیاسی حقائق، سب کو سامنے رکھنا چاہیے۔ علامہ عبدالروف ربانی کی گفتگو میں ایک بات خاص طور پر قابل توجہ تھی کہ انہوں نے نام کے اختلاف کو بنیادی مسئلہ قرار نہیں دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر نام بہاولپور رکھا جائے یا سرائیکیستان، اصل مقصد اس خطے کو الگ انتظامی حیثیت دینا ہونا چاہیے۔ اس نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو بحث کو صرف نام کی حد تک محدود کرنے کے بجائے اس بات پر توجہ دینی چاہیے کہ نئے صوبے کے قیام سے عوام کو کیا انتظامی، معاشی اور سماجی فوائد حاصل ہوسکتے ہیں۔ رحیم یار خان، بہاولپور، بہاولنگر اور جنوبی پنجاب کے وسیع علاقے کے عوام طویل عرصے سے انتظامی سہولیات، روزگار، تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور سرکاری اداروں تک آسان رسائی جیسے مسائل پر گفتگو کرتے رہے ہیں۔ نئے صوبے کی بحث میں ان حقیقی عوامی ضروریات کو مرکزی حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔ صوبہ بنانا ہو یا انتظامی ڈھانچے میں کوئی اور تبدیلی لانی ہو، اصل مقصد عوام کو بہتر حکمرانی، تیز رفتار انصاف، معیاری تعلیم، صحت کی سہولیات اور روزگار کے زیادہ مواقع فراہم کرنا ہونا چاہیے۔ بہاولپور کی تاریخی حیثیت کا ذکر کرتے ہوئے یہ حقیقت بھی سامنے رہنی چاہیے کہ 1955ء میں ون یونٹ کے قیام کے وقت سابق ریاست بہاولپور کو مغربی پاکستان میں شامل کیا گیا۔ بعد ازاں ون یونٹ کے خاتمے کے ساتھ صوبائی نظام بحال ہوا، لیکن بہاولپور ایک الگ صوبے کے طور پر بحال نہیں ہوا۔ اسی تاریخی تبدیلی کے بعد سے بہاولپور صوبے کی بحالی کا مطالبہ مختلف ادوار میں سامنے آتا رہا ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ بہاولپور صوبے کے مسئلے کو جذبات کے ساتھ ساتھ دلیل، تاریخ اور آئینی تقاضوں کی روشنی میں بھی دیکھا جائے۔ اختلافِ رائے جمہوری معاشرے کا حسن ہے، لیکن کسی بھی بڑے انتظامی فیصلے کے لیے عوامی رائے، پارلیمانی بحث، معاشی امکانات اور انتظامی ضروریات کا جائزہ ناگزیر ہے۔ اگر اس خطے کے عوام الگ صوبے کا مطالبہ کرتے ہیں تو اس مطالبے کو سنجیدگی سے سنا جانا چاہیے اور اس پر کھلے، پُرامن اور آئینی انداز میں گفتگو ہونی چاہیے۔ علامہ عبدالروف ربانی سے ملاقات کے دوران ہونے والی گفتگو میں بہاولپور صوبے کا مسئلہ اسی وسیع تناظر میں سامنے آیا۔ ان کا یہ کہنا کہ ’’بہاولپور صوبہ ایک حقیقت ہے‘‘ دراصل اس تاریخی ریاست کی طرف توجہ دلاتا ہے جس نے قیام پاکستان کے وقت اپنا کردار ادا کیا اور جس کا اپنا باقاعدہ انتظامی ڈھانچہ موجود تھا۔ نواب بہاولپور نے پاکستان کے ابتدائی دور میں مالی اور دیگر معاونت فراہم کی، جبکہ ریاست میں تعلیم، صحت اور ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے بھی متعدد اقدامات کیے گئے۔ اب وقت کا تقاضا یہ ہے کہ بہاولپور صوبے کی بحث کو محض سیاسی بیان بازی کے بجائے ایک سنجیدہ قومی و انتظامی مسئلے کے طور پر زیر بحث لایا جائے۔ تاریخ کو تاریخ کی حیثیت سے محفوظ رکھا جائے، موجودہ عوامی مسائل کو سامنے رکھا جائے اور مستقبل کے فیصلے آئینی طریقہ کار، عوامی رائے اور انتظامی ضرورت کی بنیاد پر کیے جائیں۔بہاولپور کی تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ یہ خطہ محض نقشے پر موجود ایک جغرافیائی اکائی نہیں بلکہ ایک منفرد تاریخی پس منظر رکھتا ہے۔ اب یہ فیصلہ سیاسی قیادت، پارلیمنٹ، متعلقہ اداروں اور عوامی رائے کے آئینی عمل کے ذریعے ہونا ہے کہ مستقبل میں اس خطے کا انتظامی نقشہ کیا ہوگا۔ البتہ اس بحث کو زندہ رکھنا، تاریخی حقائق کو سامنے لانا اور عوامی مسائل پر سنجیدگی سے گفتگو کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
مزید پڑھیں





