کرپٹو کرنسی،فائدہ یا دھوکا،تحریر:مریم ڈار
نقطہ نظرایک ایسی کرنسی جسے چھو نہیں سکتے

پہلی قسط:
کرپٹو کرنسی ہمیشہ سےمیرا پسندیدہ موضوع رہا ہے۔ آج ہم ایک ایسے موضوع پر بات شروع کر رہے ہیں جس کا نام شاید آپ نے بارہا سنا ہو، لیکن ممکن ہے اس کی حقیقت آج بھی آپ کے لیے ایک سوال ہو۔ کبھی کسی نے کہا ہوگا کہ ’’ِبٹ کوائن لیا ہے تم نے‘‘، کبھی کسی نے کرپٹو میں سرمایہ کاری سے لاکھوں کمانے کا دعویٰ کیا ہوگا، اور کبھی کسی خبر میں کرپٹو مارکیٹ کے اچانک اوپر یا نیچے جانے کا ذکر پڑھا ہوگا۔
لیکن سوال وہی ہے: آخر کرپٹو کرنسی ہے کیا؟آئیے اسے کسی مشکل کتاب کی طرح نہیں بلکہ ایک کلاس کی طرح سمجھتے ہیں۔ فرض کریں ہم آج کرپٹو کی پہلی کلاس میں بیٹھے ہیں اور ہمارا مقصد صرف یہ ہے کہ کلاس ختم ہونے تک ہمیں یہ معلوم ہو جائے کہ کرپٹو کیا ہے، کیوں بنائی گئی اور عام پیسے سے اس کا بنیادی فرق کیا ہے۔
کرپٹو دراصل کرپٹو گرافی سے نکلا ہے، جس کا مطلب معلومات کو محفوظ رکھنا اور اسے مخصوص طریقوں سے خفیہ رکھناہے۔ اسی لیے کرپٹو کرنسی میں جدید ترین کمپیوٹر ٹیکنالوجی اور خفیہ طریقے استعمال ہوتے ہیں تاکہ لین دین کو محفوظ بنایا جا سکے۔
کرنسی وہ چیز ہے جسے ہم لین دین کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ پاکستانی روپے سے ہم کھانا خریدتے ہیں، بل ادا کرتے ہیں، تنخواہ لیتے ہیں اور چیزیں فروخت کرتے ہیں۔ اسی طرح دنیا کے مختلف ممالک میں ڈالر، پاؤنڈ، یورو اور دوسری کرنسیاں استعمال ہوتی ہیں۔تو ’’کرپٹو کرنسی‘‘ کا سادہ مطلب ہےایسی ڈیجیٹل کرنسی جو کمپیوٹر نیٹ ورک اور کرپٹوگرافی جیسی ٹیکنالوجی کے ذریعے بنائی اور منتقل کی جاتی ہے۔لیکن یہ کرنسی نظر تو آتی ہے لیکن اسے ہم اپنے بٹوے میں نہیں رکھ سکتے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ کرپٹو ڈیجیٹل ہے۔ ہمارے ہاتھ میں جو پاکستانی روپے کا نوٹ آتا ہے، وہ کاغذ کی شکل میں موجود ہوتا ہے۔ بینک اکاؤنٹ میں موجود رقم بھی اگرچہ ہمیں نظر نہیں آتی، لیکن اسے روایتی بینکاری نظام میں ریکارڈ کیا جاتا ہے۔ کرپٹو اثاثے اس لحاظ سے مختلف ہیں کہ ان کی ملکیت اور لین دین کو مخصوص ڈیجیٹل نیٹ ورکس پر ریکارڈ کیا جاتا ہے۔کرپٹو میں کچھ لفظ بارہا استعمال ہوتے ہیں جیسے بلاک چین، سنٹرلاٰیزڈ، ڈی سنٹرلاٰیزڈ، نیٹ ورک، مائننگ، کوائن، ٹوکن،وغیرہ وغیرہ
بلاک چین اسے ایک ایسی ڈیجیٹل حساب کتاب کی کتاب سمجھ لیں جس میں لین دین کا ریکارڈ درج ہوتا رہتا ہے۔مثلاً فرض کریں علی نے بلال کو ایک ڈیجیٹل اثاثہ منتقل کیا۔ اس لین دین کی معلومات نیٹ ورک پر ریکارڈ ہوتی ہیں۔ بہت سے بلاک چین نیٹ ورکس میں یہ ریکارڈ ایک ترتیب سے بلاکس میں شامل کیا جاتا ہے، اور یہی بلاکس آپس میں جڑ کر بلاک چین بناتے ہیں۔یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے۔روایتی بینکاری نظام میں اگر آپ کسی کو رقم منتقل کرتے ہیں تو عام طور پر بینک اس لین دین کا ریکارڈ رکھتا ہے۔ ایک مرکزی ادارہ یعنی کہ سٹیٹ بینک اس نظام میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔مگر کرپٹو نیٹ ورکس کا تصور اس سے مختلف ہے۔ ان میں لین دین کا ریکارڈ ایک ایسے نیٹ ورک پر برقرار رکھا جاتا ہے جس میں متعدد کمپیوٹرز حصہ لیتے ہیں۔ اسی وجہ سے کرپٹو کے ساتھ ڈی سنٹرلاٰیئزڈ کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔لیکن یہاں ایک غلط فہمی دور کرنا بھی ضروری ہے۔ہر کرپٹو کرنسی ایک جیسی نہیں ہوتی، اور ہر کرپٹو منصوبہ مکمل طور پر ڈی سنٹرلاٰیئزڈ بھی نہیں ہوتا۔ مختلف کرپٹو اثاثوں کے ڈیزائن، مقاصد، ٹیکنالوجی اور نظام ایک دوسرے سے مختلف ہو سکتے ہیں۔بِٹ کوائن پہلی اور سب سے زیادہ معروف کرپٹو کرنسی ہے۔ اسے 2008 میں ستوشی ناکاموتو کے نام سے شائع کیے گئے ایک وائٹ پیپر کے ذریعے متعارف کرایا گیا، جبکہ اس کا نیٹ ورک 2009 میں عملی طور پر شروع ہوا۔ آج ِبٹ کوائن کے علاوہ ہزاروں دوسرے کرپٹو اثاثے بھی موجود ہیں، لیکن
ِبٹ کوائن پھر بھی پہلے نمبر پر ہے۔ ِبٹ کوائن کرپٹو کی ایک مخصوص کرنسی ہے۔ کرپٹو خریدنے کے کئی مختلف مقاصد ہو سکتے ہیں۔ کچھ لوگ اسے ایک ڈیجیٹل اثاثہ سمجھ کر رکھتے ہیں، کچھ لوگ قیمت میں تبدیلی سے فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، کچھ لوگ بلاک چین ٹیکنالوجی کے استعمال میں دلچسپی رکھتے ہیں، جبکہ بعض لوگ اسے روایتی مالیاتی نظام کے متبادل یا دنیا میں آنے والے نئے معاشی نظام کے طور پر دیکھتے ہیں۔
کرپٹو مارکیٹ میں قیمتیں بہت تیزی سے اوپر نیچے ہو تی ہیں۔ اس لیے ’’جلدی امیر ہونے‘‘ کے وعدے، سوشل میڈیا کی ٹپس، جعلی سرمایہ کاری اسکیمیں اور غیر مصدقہ مشورے خطرناک ہو سکتے ہیں۔اس کالم کا مقصد آپ کو کسی مخصوص کرپٹو کو خریدنے یا بیچنے کا مشورہ دینا نہیں، بلکہ پہلے سمجھانا ہے۔ کیونکہ جس چیز کو ہم سمجھتے نہیں، اس میں پیسہ لگانا محض اندازہ لگانا بن جاتا ہے۔
اگلی قسط میں ہم اس سوال کا جواب تلاش کریں گے کہ بلاک چین آخر کام کیسے کرتی ہے؟ اگر بینک درمیان میں نہیں تو لین دین کی تصدیق کون کرتا ہے؟ مائننگ کیا ہوتی ہے؟ نئے بِٹ کوائن کہاں سے آتے ہیں؟ اور اگر کوئی مرکزی بینک ِبٹ کوائن جاری نہیں کرتا تو پھر اس پورے نظام پر اعتماد کیسے کیا جاتا ہے؟
نوٹ: کرپٹو اثاثوں میں سرمایہ کاری میں نمایاں مالی خطرات شامل ہوتےہیں۔ یہ کالم تعلیمی مقصد کے لیے ہے، سرمایہ کاری کا مشورہ نہیں۔
مزید پڑھیں

ضلع ٹانگ میں دو روز کیلئے دفعہ 144 نافذ

اسحاق ڈار سے برطانوی ہائی کمشنر کی ملاقات



اسٹریٹجک ذخائر سے 325 ملین بیرل تیل جاری
