کہروڑ پکا: تاریخ کے جھروکوں سے ،تحریر:دانیال حسن چغتائی
نقطہ نظر
ہر سال 27 ستمبر کو دنیا بھر میں عالمی یومِ سیاحت اس مقصد کے ساتھ منایا جاتا ہے کہ ثقاقفتوں، تاریخ اور قدرتی جمالیات کی اہمیت کو اجاگر کیا جائے اور دنیا کو یہ باور کرایا جائے کہ سیاحت تفریح کا نام نہیں بلکہ معاشی ترقی، روزگار کی فراہمی اور قومی شناخت کو زندہ رکھنے کا بہترین ذریعہ ہے۔
پاکستان کے جغرافیے اور تاریخ کو دیکھا جائے تو یہ خطہ قدرت کی بے پناہ نعمتوں اور ہزاروں سال قدیم تاریخ کے انمول خزانوں سے مالا مال ہے۔ لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ہاں بیشتر تاریخی مقامات و شہر حکومتی عدم توجہی اور عوامی بے حسی کی نذر ہو کر گمنامی کے اندھیروں میں ڈوب رہے ہیں۔ ان ہی میں سے ایک تاریخی شہر کہروڑ پکا بھی ہے، جو اپنی عظمتِ رفتہ کے نایاب آثار سینے سے لگائے آج بھی اپنے حق کے لیے فریاد کناں ہے۔
تاریخ کے صفحات کو پلٹ کر دیکھیں تو کہروڑ پکا قدامت اور تہذیب کا ایک شاہکار ہے۔ روایات اور تاریخی شواہد کے مطابق اس خطے کے نقوش اس دور سے ملتے ہیں جب یونانی فاتح سکندرِ اعظم نے برصغیر کا رخ کیا تھا۔ سکندرِ اعظم کے اس علاقے سے گزرنے اور یہاں قیام کے اثرات و نقوش آج بھی تاریخ کے سینے پر ثبت ہیں۔ سکندر سے لے کر بعد کے متعدد ادوار تک، کہروڑ پکا نے زمانے کے گرم و سرد دیکھے، فاتحین کی آمد و رفت دیکھی اور کئی تہذیبوں کو پنپتے دیکھا۔ تاریخ کے بے شمار ستم سائے اور انقلابات گزر جانے کے باوجود یہ شہر آج بھی اپنی جگہ قائم و دائم ہے۔ یہ اس کی تاریخی پائیداری کا ثبوت ہے، مگر المیہ یہ ہے کہ جو شہر صدیوں کے طوفانوں کا مقابلہ کر کے بچ نکلا، وہ موجودہ دور کی انتظامی نااہلی اور عوامی غفلت کا شکار ہو کر مٹ رہا ہے۔
کہروڑ پکا میں سیاحت کے حوالے سے اتنے انمول عناصر موجود ہیں کہ اگر ان پر توجہ دی جائے تو یہ علاقہ ملکی اور بین الاقوامی سیاحوں کے لیے توجہ کا مرکز بن سکتا ہے۔ یہاں موجود نو گزی پراسرار و تاریخی قبر، جو کہ خطے کی قدیم روایات اور روحانی عقیدتوں سے جڑی ہے، ہر دیکھنے والے کو حیرت میں مبتلا کر دیتی ہے۔ اس کے علاوہ شہر میں ہندوؤں کے قدیم مندر اور تاریخی بلڈنگز موجود ہیں جو فنِ تعمیر کا نایاب نمونہ ہیں۔ یہ عمارتیں اس دور کی یاد دلاتی ہیں جب یہاں مختلف مذاہب اور ثقافتیں باہم شیر و شکر ہو کر رہا کرتی تھیں۔ لیکن آج محکمۂ آثارِ قدیمہ کی سست روی اور غفلت کا عالم یہ ہے کہ یہ تاریخی اور مذہبی ورثہ کھنڈر میں تبدیل ہو چکا ہے۔ پرانی تاریخی عمارتیں زبوں حالی کا شکار ہیں اور کسی بھی وقت زمین بوس ہو سکتی ہیں۔ اگر یہی صورتِ حال برقرار رہی تو اگلے کچھ سالوں میں ہمارے پاس دکھانے کے لیے داستانیں رہ جائیں گی، ان عمارتوں کا وجود باقی نہیں رہے گا۔
اکیسویں صدی، جسے سائنس، ٹیکنالوجی اور بنیادی انسانی سہولیات کا دور کہا جاتا ہے، میں بھی کہروڑ پکا کے عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ نہ پینے کا صاف پانی میسر ہے، نہ صحت کے مناسب مراکز ہیں اور نہ ہی پختہ سڑکیں اور بہترین تعلیمی ادارے موجود ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس زبوں حالی کا ذمہ دار کون ہے؟
اس ابتر صورتِ حال کی سب سے بڑی ذمہ داری ان منتخب نمائندوں پر عائد ہوتی ہے جنہیں عوام اپنے ووٹ کے ذریعے ایوانوں میں بھیجتے ہیں۔ بدقسمتی سے گزشتہ 20 سے 25 سالوں سے ایک ہی جیسے چہرے، ایک ہی مخصوص سیاسی و جاگیردارانہ سوچ کے حامل لوگ بار بار منتخب ہو کر آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہروڑ پکا کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے بجائے صرف اپنے ذاتی و سیاسی مفادات کو ترجیح دی۔ ترقیاتی فنڈز کا عدم شفاف استعمال، عدم دلچسپی اور روایتی سیاست نے اس شہر کو ترقی کے سفر میں دہائیوں پیچھے دھکیل دیا ہے۔ ترقی کا دور دور تک کوئی نام و نشان نظر نہیں آتا اور ایسا لگتا ہے جیسے یہ شہر وقت کی دوڑ میں جمود کا شکار ہو کر رہ گیا ہو۔
تاہم، اس تمام تر تباہی کی ذمہ داری صرف سیاست دانوں پر ڈال کر ہم خود کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکتے۔ اس المیے کا دوسرا بڑا پہلو عوام کا سیاسی شعور نہ ہونا ہے۔ کہروڑ پکا کے لوگوں نے ہمیشہ کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ دینے کے بجائے برادری ازم، ذاتی تعلقات اور وقتی وعدوں کی بنیاد پر فیصلے کیے ہیں۔ جب تک عوام میں یہ شعور بیدار نہیں ہوگا کہ ان کے ووٹ کی کیا قیمت ہے اور انہیں اپنے حقوق کا تحفظ کیسے کرنا ہے، تب تک چہرے بدلنے سے تقدیر نہیں بدلے گی۔ عوام کی خاموشی اور مسلسل غلط انتخاب نے ظالموں کو یہ حوصلہ دیا ہے کہ وہ ہر پانچ سال بعد نئے وعدوں کے ساتھ آئیں اور ووٹ لے کر غائب ہو جائیں۔
عالمی یومِ سیاحت کے موقع پر ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سیاحت کا فروغ پہاڑوں اور وادیوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ کہروڑ پکا جیسے تاریخی شہروں میں تاريخی و ثقاقتی سیاحت کے بے پناہ مواقع موجود ہیں۔ اگر محکمۂ آثارِ قدیمہ اور حکومتِ پنجاب سنجیدگی کا مظاہرہ کریں تو درج ذیل اقدامات کے ذریعے اس شہر کی تقدیر بدلی جا سکتی ہے:
ہندو مندروں، نو گزی قبر کے مزار اور قدیم عمارتوں کی ہنگامی بنیادوں پر مرمت کی جائے اور ان کے گرد حفاظتی باڑ لگائی جائے۔ سکندرِ اعظم کی آمد کے اثار اور قدیم تاریخ کو نصاب اور سیاحتی ڈائریکٹری کا حصہ بنایا جائے تاکہ محققین اور سیاح یہاں کا رخ کریں۔ شہر کی سڑکوں کی تعمیر، صفائی کے نظام اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ یہاں آنے والے سیاحوں کو بنیادی سہولیات میسر ہوں۔ سیاحت کے فروغ سے مقامی نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، جس سے علاقے میں معاشی خوشحالی آئے گی اور عوام میں اپنی تاریخ کی حفاظت کا شعور اجاگر ہوگا۔
کہروڑ پکا زندہ تاریخ ہے جو ہماری توجہ، محبت اور حاکمانِ وقت کے انصاف کی منتظر ہے۔ 27 ستمبر کا دن ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ ہم اپنے ماضی کے نقوش کو محفوظ کریں تاکہ مستقبل کی نسلیں اپنی شناخت پر فخر کر سکیں۔ اگر ہم نے آج اپنے تاریخی ورثے کی حفاظت نہ کی اور سیاسی طور پر بیدار ہو کر درست نمائندوں کا انتخاب نہ کیا تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ کہروڑ پکا کے عوام جاگیں، اپنے حقوق پہچانیں اور اس تاریخی شہر کو اس کا کھویا ہوا مقام واپس دلانے کے لیے آواز بلند کریں۔





