دوران حج پروٹوکول نہ ملنے پر اراکین پارلیمنٹ کا اظہار ناراضگی

اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کے اجلاس میں حج معاونین میں خواتین کے لیے صرف 3 فیصد کوٹہ مقرر کیے جانے پر ارکان نے شدید برہمی کا اظہار کیا، جبکہ روضہ رسول ﷺ پر سلام کے لیے جانے والے پارلیمانی وفد کو مبینہ طور پر مناسب پروٹوکول اور سہولیات فراہم نہ کیے جانے کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔
اجلاس میں رکن کمیٹی مس نیلم نے کہا کہ حکومت نے ملازمتوں اور دیگر شعبوں میں خواتین کے لیے کم از کم 5 فیصد کوٹہ مقرر کر رکھا ہے، وزارت مذہبی امور نے خواتین کے لیے صرف 3 فیصد کوٹہ کیوں مقرر کیا؟ رکن کمیٹی نعیمہ کشور نے سوال اٹھایا کہ خواتین کو عازمین حج کی خدمت کا برابر موقع کیوں فراہم نہیں کیا جا رہا۔سیکرٹری مذہبی امور ابرار مرزا نے بتایا کہ خدام میڈیکل مشن میں خواتین کے لیے 30 فیصد کوٹہ رکھا گیا ہے، جبکہ حج معاونین میں خواتین مقررہ کوٹے کے علاوہ اوپن میرٹ پر بھی آسکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حج معاونین کو ٹرانسپورٹ اور خوراک سمیت مختلف ذمہ داریاں انجام دینا ہوتی ہیں اور سڑکوں پر کھڑے ہو کر ڈیوٹی کرنا خواتین کے لیے مشکل ہو سکتا ہے۔کمیٹی ارکان نے موقف اختیار کیا کہ خواتین کو مردوں کے برابر سمجھتے ہوئے عازمین حج کی خدمت کا موقع دیا جانا چاہیے۔ سیکرٹری مذہبی امور نے کہا کہ اگر کمیٹی سفارش کرے گی تو خواتین کا کوٹہ بڑھا دیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ خواتین کے لیے 3 فیصد کوٹے کی منظوری وفاقی کابینہ نے دی ہے۔
پارلیمانی وفد کو پروٹوکول نہ ملنے پر بھی ارکان برہم
اجلاس میں حجاز مقدس جانے والے پارلیمانی وفد کو مبینہ طور پر مناسب پروٹوکول نہ ملنے کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ رکن کمیٹی نعیمہ کشور نے کہا کہ حجاز مقدس میں ڈی جی حج نہ تو وفد کے استقبال کے لیے آئے اور نہ ہی رخصت کرنے کے لیے موجود تھے۔نعیمہ کشور نے کہا کہ وفد کو بتایا گیا تھا کہ ڈی جی حج ان کا استقبال کریں گے، تاہم انہوں نے شکل تک نہیں دکھائی۔ ان کے مطابق پارلیمانی وفد 12 ربیع الاول کو روضہ رسول ﷺ پر سلام پیش کرنے کے لیے مدینہ منورہ پہنچا تھا۔سیکرٹری مذہبی امور ابرار مرزا نے کہا کہ ڈائریکٹر حج کو وفد کو تمام سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ذمہ داروں کا تعین کرکے سخت تادیبی کارروائی کی جائے گی۔
نعیمہ کشور نے اجلاس میں بتایا کہ پارلیمانی وفد کا مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ تک بس کا سفر 10 گھنٹے میں مکمل کروایا گیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر دوران سفر کسی رکن کو باتھ روم جانا ہو تو وہ اتنی دیر کیا کرے؟انہوں نے کہا کہ وفد کو چھ دن مدینہ منورہ میں رکھا گیا، جبکہ مکہ مکرمہ سے واپسی جمعرات کو ہوئی جس کے باعث وفد کے ارکان وہاں جمعہ کی نماز سے محروم رہے۔ ان کے مطابق ایک میٹنگ کے علاوہ وفد کی کوئی ملاقات بھی نہیں کروائی گئی۔ ایک رکن کمیٹی نے کہا کہ رابطہ عالم اسلامی کے چیئرپرسن سے ملاقات کی اطلاع وفد کو صرف چند گھنٹے پہلے دی گئی۔
نعیمہ کشور نے کہا کہ وفد کے حکومتی ارکان کو سہولیات فراہم کی گئیں تو اپوزیشن ارکان کو ان سے محروم کیوں رکھا گیا۔ انہوں نے حکومتی ارکان کے اخراجات کی تفصیلات بھی طلب کر لیں۔رکن کمیٹی اعجاز الحق نے کہا کہ انہوں نے ہوائی ٹکٹ، ٹرانسپورٹ اور رہائش کے اخراجات خود برداشت کیے۔ چیئرپرسن کمیٹی شگفتہ جمانی نے وزارت مذہبی امور سے حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان فرق رکھنے کی وضاحت طلب کرلی۔چیئرپرسن نے ہدایت کی کہ اگلے اجلاس میں تمام تفصیلات سے آگاہ کیا جائے اور ڈی جی حج سے بھی جواب طلب کیا جائے۔ انہوں نے ڈی جی حج کا سعودی عرب سے آن لائن موقف لینے کی ہدایت بھی کی۔وزیر مملکت مذہبی امور کھئیل داس کوہستانی نے کہا کہ اجلاس میں اٹھائے گئے اعتراضات معقول ہیں اور ڈی جی حج سے آن لائن موقف معلوم کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں




