بین المذاہب ہم آہنگی کیوں ضروری ہے؟تحریر: طاہر محمود ملک
نقطہ نظر
اسلام کا پیغامِ رواداری، انسانی وقار اور پائیدار عالمی امن
دنیا کی خوبصورتی اس کے تنوع میں ہے۔ مختلف مذاہب، تہذیبیں، زبانیں، ثقافتیں اور نظریات انسانی معاشرے کو رنگا رنگ بناتے ہیں۔ اختلافِ عقیدہ اور اختلافِ فکر انسانی فطرت کا حصہ ہیں، مگر اصل امتحان یہ ہے کہ ہم اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کے ساتھ کس طرح پیش آتے ہیں۔ یہی سوال بین المذاہب ہم آہنگی کی بنیاد بنتا ہے۔
اسلام نے اس معاملے میں ایک نہایت متوازن اور باوقار تصور پیش کیا ہے۔ قرآنِ مجید انسانوں کو تعارف، عدل اور حسنِ سلوک کی بنیاد پر تعلقات قائم کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’دین میں کوئی جبر نہیں‘‘۔ اسی طرح قرآن ان لوگوں کے ساتھ نیکی اور انصاف سے پیش آنے کی تعلیم دیتا ہے جو دین کے معاملے میں جنگ یا زیادتی نہیں کرتے۔ یہ تعلیمات واضح کرتی ہیں کہ عقیدے کا معاملہ انسانی ضمیر سے تعلق رکھتا ہے، جبکہ معاشرتی زندگی میں عدل، احترام اور حقوق کی پاسداری بنیادی ذمہ داری ہے۔
اسلامی تصورِ ہم آہنگی کا مطلب یہ نہیں کہ تمام مذاہب کے عقائد کو یکساں قرار دیا جائے یا اپنے عقیدے سے دستبردار ہوا جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنے ایمان پر قائم رہتے ہوئے دوسرے انسان کے حقِ زندگی، حقِ عزت، حقِ مذہبی شناخت اور حقِ امن کا احترام کیا جائے۔ اختلاف کو دشمنی اور مذہبی شناخت کو نفرت کا عنوان نہ بننے دیا جائے۔
رسولِ اکرم ﷺ کی سیرتِ طیبہ اس اصول کی عملی تشریح پیش کرتی ہے۔ مختلف مذہبی اور سماجی گروہوں کے ساتھ معاہدات، حسنِ معاشرت، عدل اور باہمی ذمہ داریوں کی مثالیں اسلامی معاشرتی فکر کا اہم حصہ ہیں۔ میثاقِ مدینہ بھی اسی تاریخی تناظر میں مختلف گروہوں کے درمیان حقوق و ذمہ داریوں اور اجتماعی نظم کی ایک اہم مثال کے طور پر سامنے آتا ہے۔
اسلام انسانی جان، عزت اور حقوق کی حرمت کو غیر معمولی اہمیت دیتا ہے۔ قرآنِ مجید دوسرے مذاہب کے مقدسات کی توہین سے بھی روکتا ہے، تاکہ مذہبی اختلاف اشتعال اور باہمی نفرت کا سبب نہ بنے۔ یہ تعلیم اس بات کی طرف رہنمائی کرتی ہے کہ ایک مہذب معاشرے میں اپنے عقیدے سے وابستگی کے ساتھ دوسروں کے مذہبی جذبات اور انسانی وقار کا احترام بھی ضروری ہے۔
یہی نقطۂ نظر جدید دنیا میں انسانی حقوق کے بنیادی تصور سے بھی گہرا تعلق رکھتا ہے۔ انسانی وقار، مساوات، مذہبی آزادی، آزادیِ ضمیر، عدمِ امتیاز، جان و مال کا تحفظ اور قانون کے سامنے برابری کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیادی ضرورت ہیں۔ انسانی حقوق کا اصل حسن یہ ہے کہ وہ انسان کو اس کی اکثریتی یا اقلیتی شناخت سے پہلے ایک باوقار انسان سمجھتے ہیں۔
مذہبی آزادی بھی انسانی حقوق کا اہم حصہ ہے۔ کسی فرد کو اپنے مذہب پر عمل کرنے، عبادت کرنے اور اپنی مذہبی شناخت برقرار رکھنے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ اسی طرح اکثریت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اقلیتوں کے حقوق، عزت، عبادت گاہوں اور مذہبی تشخص کے تحفظ میں کردار ادا کرے۔ جو معاشرہ اپنے کمزور اور اقلیتی طبقات کے حقوق کی حفاظت کرتا ہے، وہی حقیقی معنوں میں انصاف اور انسانی وقار کی پاسداری کرتا ہے۔
بین المذاہب ہم آہنگی کا سب سے مؤثر راستہ مکالمہ ہے۔ مکالمہ عقائد کی یکسانیت کا نام نہیں؛ یہ ایک دوسرے کو سمجھنے کا راستہ ہے۔ جب مختلف مذاہب کے اہلِ علم، مذہبی رہنما، دانشور، اساتذہ، صحافی اور سماجی نمائندگان ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھتے ہیں تو غلط فہمیوں کی جگہ آگاہی، بداعتمادی کی جگہ اعتماد اور فاصلے کی جگہ انسانی قربت پیدا ہو سکتی ہے۔
دنیا کے مختلف مذاہب میں عدل، رحم، سچائی، خدمت، اخلاق، خاندان کے احترام اور کمزوروں کی مدد جیسے مشترکہ انسانی اقدار موجود ہیں۔ یہی مشترکہ اقدار مختلف مذہبی برادریوں کو امن، تعلیم، غربت کے خاتمے، انسانی خدمت اور معاشرتی بہبود جیسے مشترکہ مقاصد کے لیے ایک پلیٹ فارم پر لا سکتی ہیں۔
پاکستان جیسے متنوع معاشرے میں بین المذاہب ہم آہنگی کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ مختلف مذہبی برادریاں ملکی تاریخ اور قومی زندگی کا حصہ ہیں اور تعلیم، طب، تجارت، سماجی خدمت، فنون اور دیگر شعبوں میں اپنا کردار ادا کرتی ہیں۔ قومی یکجہتی اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب ہر شہری اپنے مذہبی تشخص کے ساتھ خود کو محفوظ، باعزت اور برابر کا شہری محسوس کرے۔
اس مقصد کے لیے ریاست، مذہبی قیادت، تعلیمی اداروں، ذرائع ابلاغ اور سول سوسائٹی سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ تعلیمی اداروں میں برداشت، انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کا شعور پیدا کیا جائے۔ مذہبی رہنما اپنے پیروکاروں کو عدل، حسنِ اخلاق اور احترامِ انسانیت کی تعلیم دیں۔ ذرائع ابلاغ مذہبی معاملات میں تحقیق، ذمہ داری اور شائستگی کو مقدم رکھیں اور ایسی زبان سے گریز کریں جو معاشرتی تقسیم یا نفرت کو بڑھا سکتی ہو۔
خصوصاً نوجوان نسل کو یہ پیغام دینا ضروری ہے کہ اختلاف دشمنی نہیں، تنوع کمزوری نہیں اور مختلف مذہبی شناخت کسی انسان کے بنیادی حقوق کو کم نہیں کرتی۔ علم اگر انسان کو دوسرے انسان کا احترام کرنا نہ سکھائے تو وہ اپنی اخلاقی تکمیل سے محروم رہ جاتا ہے۔
حقیقی امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں۔ حقیقی امن وہ ہے جہاں انسان خوف سے آزاد ہو، اس کی عزت محفوظ ہو، اس کے بنیادی حقوق تسلیم کیے جائیں، اسے اپنے مذہب اور ضمیر کے مطابق زندگی گزارنے کا حق حاصل ہو اور اختلاف کے باوجود اسے انصاف ملے۔ اسی لیے بین المذاہب ہم آہنگی کا تعلق صرف مذہبی رواداری سے نہیں بلکہ انصاف، انسانی وقار، مساوات، آزادی اور پائیدار امن سے ہے۔
آج دنیا کو ایسے مکالمے کی ضرورت ہے جو دیواریں نہیں، پل تعمیر کرے؛ ایسے علم کی ضرورت ہے جو تعصب نہیں، فہم پیدا کرے؛ ایسے ذرائع ابلاغ کی ضرورت ہے جو اشتعال نہیں، شعور دیں؛ اور ایسی اجتماعی سوچ کی ضرورت ہے جو مذہبی اختلاف کو انسانی دشمنی میں تبدیل نہ ہونے دے۔
ہمیں ایک جیسا بننے کی ضرورت نہیں، ہمیں ایک دوسرے کا احترام کرنا سیکھنے کی ضرورت ہے۔
بین المذاہب ہم آہنگی دراصل انسانیت کے مشترکہ مستقبل کی حفاظت کا نام ہے۔ جب مذہبی آزادی انسانی حقوق کے ساتھ، عقیدے کی وابستگی انسانی احترام کے ساتھ، اور اختلاف مکالمے کے ساتھ جڑ جاتا ہے تو ایک ایسا معاشرہ تشکیل پاتا ہے جہاں امن محض ایک خواب نہیں رہتا بلکہ اجتماعی زندگی کا اصول بن جاتا ہے۔
کیونکہ مذہب انسان کو شناخت دیتا ہے، مگر انسانیت اسے دوسرے انسان سے جوڑتی ہے؛ اور جب شناخت کے ساتھ احترام، اختلاف کے ساتھ مکالمہ اور آزادی کے ساتھ ذمہ داری شامل ہو جائے تو یہی بین المذاہب ہم آہنگی ایک پُرامن اور باوقار دنیا کی بنیاد بن جاتی ہے۔





