لاہور ہائیکورٹ،ڈی جی ایف آئی اے پیر کے روز رپورٹ سمیت دوبارہ طلب

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مس عالیہ نیلم کے حکم پر ڈی جی ایف آئی اے عدالت میں پیش ہو گئے
ڈی جی ایف آئی اے نے عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ این سی سی آئی اے کے ادارے کے قیام کو قرار دیدی،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ عدالت نے 2024 میں درخواست پر تیس دنوں میں فیصلہ کرنے کا حکم دیا تھا،این سی سی آئی اے کب معرض وجود میں آیا اسکی تاریخ سمیت دیگر تفصیلی رپورٹ پیش کرے ،عدالتی حکم کے بعد کتنے ڈی جی اور ڈائریکٹر تبدیل ہوئے انکی بھی تفصیلی رپورٹ پیش کرے ،عدالت نے ڈی جی ایف آئی اے کو پیر کے روز رپورٹ سمیت دوبارہ طلب کرلیا
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مس عالیہ نیلم نے شہری اسماعیل کی درخواست پر سماعت کی ،عدالت نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب ایسی رپورٹس آتی ہیں آپ جاتے ہیں تو آپ کے افسر عدالتوں میں پیش نہیں ہوتے،عدالت کے واضح احکامات تھے 30 دنوں میں فیصلہ کیا جائے ،ڈاکٹر عثمان انورنے کہا کہ مائی لارڈ میں اس میں کچھ گزارش کرنا چاہتا ہوں ،یہ سال 2024 میں درخواست آئی جس کے بعد این سی سی آئی اے الگ ادارہ بن گیا یہ درخواست این سی سی آئی اے سے متعلق تھی ،عدالت نے کہا کہ اس طرح تو ایسے کئی کیسز زیر التوا میں پڑے ہونگے ،ایسے شہریوں درخواستیں ہونگی جو عدالت نہیں آسکے ہونگے،ڈی جی ایف آئی اے نے کہا کہ مائی لارڈ ہم نے کمپیوٹر ڈیٹا کیا ہے زیر التوا درخواستوں پر کام تیزی سے کررہے ہیں،این سی سی آئی اے بن گیا مگر انکے پاس عمارت نہیں تھی،اب علی ناصر رضوی نئے ڈی جی آئے ہیں وہ اس میں کافی کام سر انجام دے رہے ہیں ،ابھی بھی ہمارے ایف آئی اے کے 41 افسران این سی سی آئی اے میں کام کررہے ہیں ،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ آپ مجھے تاریخ بتائیں کب این سی سی آئی اے معرض وجود میں آیا،ہم تاریخ دیکھ لیتے ہیں اس کے بعد تیس دنوں کا حساب لگا کر توہین عدالت کی کاروائی شروع کردیتے ہیں ،سابق ڈائریکٹر کے بعد نئے ڈائریکٹر نہیں تعینات ہوئے تھے،انکی زمہ داری نہیں تھی وہ ڈائریکٹر عدالتی احکامات پر عمل کرتے ،ڈاکٹر عثمان انور نے کہا کہ مدعی ٹھیک نہیں ہے جیسے وہ آتا ہے تو اسکو سن لیتے ہیں ،جس پر عدالت نے کہا کہ آپ مدعی مینج کرلینا اور درخواست عدالت سے واپس کروا لینا،ڈاکٹر عثمان انور نے کہا کہ مائی لارڈ ایسا نہیں ہوگا آپکے احکامات پر عمل ہوگا
دوسری جانب دفعہ144کے نفاذ کا کیس ،ڈی جی رینجرز کو کیوں فریق بنایا فوری ڈیلیٹ کریں جسٹس فاروق حیدر نے درخواست گزار کو حکم دے دیا،عدالت نے دفعہ 144 فوری کا نوٹیفکیشن فوری معطل کرنے کی استدعا مسترد کی ،عدالت نے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ نے ڈی جی رینجر پنجاب کو کیوں فریق بنایا ہے؟ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ اس کیس میں کل کو کچھ رپورٹ آنی ہیں اس بنیاد پر ڈی جی رینجرز کو فریق بنایا ہے ،جسٹس فاروق حیدر نے کہا کہ آپ نے سیکشن 144چیلنج کیا ہے، ابھی تو کسی رپورٹ کی بات نہیں ہے ،آپ ڈی جی رینجر کو فریقین کی لسٹ سے ڈیلیٹ کر دیں ،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ آئن کے آرٹیکل 199 میں ترمیم کے بعد عدلت اضافی ریلیف نہیں دے سکتی اگر رپورٹ میں کچھ ہوا تو کل کو مجھے پھر سے فریق بنانا پڑے گا،عدالت نے کہا کہ آپ فی الحال ڈی جے رینجر کو فریقین کی لسٹ سے ڈیلیٹ اور ترمیمی درخواست دائر کریں عدالت نے درخواست پر کاروائی آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی
مزید پڑھیں


کیا مرد ظالم ہے؟ تحریر: سید آزاد گیلانی

کاہنہ میں مبینہ پولیس مقابلہ، 2 ملزمان ہلاک


