ہمارے معاشرے میں خواجہ سرا کا ذکر آتے ہی ہمارے ذہن میں ایک مخصوص تصویر ابھرتی ہے، ہاتھ میں تالیاں، چہرے پر بناؤ سنگھار، سڑکوں پر آتے جاتے لوگوں سے پیسے مانگنا، شادی بیاہ یا بچے کی پیدائش پر گھر آنا اور چند لمحوں کے لیے لوگوں کی توجہ کا مرکز بن جانا، لیکن شاید ہم نے کبھی اس تصویر کے پیچھے چھپی ہوئی پوری زندگی کو دیکھنے کی کوشش نہیں کی۔ ہم نے انہیں اکثر ایک مکمل انسان کے طور پر نہیں بلکہ ایک مخصوص کردار کے طور پر دیکھا ہے، اور یہی ہماری اجتماعی غلطی ہے۔ خواجہ سرا بھی اسی معاشرے میں پیدا ہوتے ہیں، کسی ماں کے بطن سے دنیا میں آتے ہیں، کسی باپ کی اولاد ہوتے ہیں، ان کے بھی بچپن کے خواب ہوتے ہیں، انہیں بھی کسی کے ہاتھ سے محبت چاہیے ہوتی ہے، انہیں بھی عزت، تحفظ، تعلیم، روزگار اور اپنے مستقبل کے بارے میں سوچنے کا حق ہے۔ پاکستان کی سرکاری انسانی حقوق کی پالیسی بھی اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ خواجہ سرا افراد کو خاندان، معاشرے اور ریاستی سطح پر طویل عرصے سے محرومی اور تشدد کا سامنا رہا ہے، جبکہ آئینی اصول تمام شہریوں کے وقار اور برابری کو بنیادی اہمیت دیتے ہیں۔ لیکن یہاں ایک سوال بھی ہمارے سامنے کھڑا ہوتا ہے کہ اگر ہم انہیں معاشرے کا حصہ کہتے ہیں تو پھر ان کے لیے معاشرے کے دروازے کہاں ہیں؟ اگر ہم کہتے ہیں کہ ہر انسان عزت کے ساتھ جئے تو پھر وہ بچہ جس کی جنس یا جسمانی ساخت ہماری روایتی توقعات سے مختلف ہے، اسے بچپن ہی سے شرمندگی کیوں دی جاتی ہے؟ اسے اسکول میں مذاق کا نشانہ کیوں بنایا جاتا ہے؟ خاندان اسے چھپانے کی کوشش کیوں کرتا ہے؟ اور جب وہ بڑا ہو کر سڑک پر آتا ہے تو ہم اس کی موجودگی پر حیران کیوں ہوتے ہیں؟ شاید ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ بعض اوقات جس شخص کو ہم معاشرے سے باہر کھڑا دیکھ رہے ہوتے ہیں، اسے باہر دھکیلنے میں ہمارا اپنا معاشرہ بھی شریک ہوتا ہے۔
لیکن اس پوری بحث کا ایک دوسرا رخ بھی ہے جسے نظر انداز کرنا بھی انصاف نہیں ہوگا۔ یہ کہنا درست نہیں کہ ہر خواجہ سرا مظلوم ہے اور ہر خواجہ سرا کا ہر عمل درست ہے، جس طرح کسی بھی طبقے کے تمام افراد کو ایک ہی پیمانے سے ناپنا غلط ہے۔ خواجہ سرا افراد میں بھی مختلف مزاج، مختلف تربیت، مختلف حالات اور مختلف راستے اختیار کرنے والے لوگ موجود ہیں۔ بعض ایسے افراد بھی دکھائی دیتے ہیں جو سڑکوں پر بھیک مانگتے ہیں، بعض جگہوں پر ایسے مرد بھی خواجہ سرا کا حلیہ اختیار کرکے لوگوں سے پیسے بٹورتے ہیں، اور یہ ایک الگ مسئلہ ہے جسے خواجہ سرا برادری کے ساتھ خلط ملط نہیں کرنا چاہیے۔ اگر کوئی شخص محض لوگوں کی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے کسی خواجہ سرا کا روپ دھار کر بھیک مانگتا ہے تو یہ دھوکا ہے اور اس کا تعلق کسی پیدائشی یا حقیقی جنس کی کیفیت سے نہیں بلکہ اس فرد کے اپنے عمل سے ہے۔ اسی طرح بعض علاقوں میں رات کے اوقات میں ایسے افراد بھی سڑکوں یا گاڑیوں کے قریب نظر آتے ہیں جو غیر اخلاقی یا جنسی نوعیت کی سرگرمیوں میں ملوث ہوتے ہیں۔ ان اعمال کو صرف اس بنیاد پر درست قرار نہیں دیا جا سکتا کہ انہیں کرنے والا خواجہ سرا ہے۔ دین ہو یا اخلاق، قانون ہو یا معاشرت، غلط کام غلط ہی رہتا ہے اور کسی محروم طبقے سے تعلق کسی شخص کو دوسروں کے حقوق پامال کرنے یا غیر اخلاقی عمل اختیار کرنے کا جواز نہیں دیتا۔ لیکن یہاں بھی ہماری زبان اور رویہ محتاط ہونا چاہیے، کیونکہ چند افراد کے عمل کو پورے طبقے کی شناخت بنا دینا بھی ناانصافی ہے۔ جس طرح ایک چور کی وجہ سے پورے مردوں کو چور نہیں کہا جا سکتا، ایک بدعنوان افسر کی وجہ سے پوری سرکاری ملازمت کو بدعنوان نہیں کہا جا سکتا، اسی طرح چند افراد کے غلط عمل کی بنیاد پر ہر خواجہ سرا کو بدکردار کہنا بھی انصاف نہیں۔
دین ہمیں ایک اور اہم بات سکھاتا ہے اور وہ یہ کہ انسان کی عزت محض اس لیے ختم نہیں ہوجاتی کہ اس کی زندگی ہماری توقع کے مطابق نہیں۔ قرآن مجید انسان کے شرف اور عزت کی بات کرتا ہے اور اسلام میں کسی انسان کو محض اس کی پیدائشی کیفیت کی وجہ سے تضحیک کا نشانہ بنانا دین داری نہیں۔ البتہ دین حرام کو حلال بھی نہیں کرتا اور اخلاقی حدود کو بھی ختم نہیں کرتا۔ اس لیے خواجہ سرا کے معاملے میں بھی دو انتہاؤں سے بچنا ضروری ہے؛ ایک انتہا یہ ہے کہ ہر خواجہ سرا کو گناہ گار، بدکردار اور معاشرے کے لیے مسئلہ سمجھ لیا جائے، دوسری انتہا یہ ہے کہ خواجہ سرا ہونے کی بنیاد پر ہر عمل کو جائز قرار دے دیا جائے۔ اسلام کا راستہ انسان کی عزت اور عمل کی ذمہ داری دونوں کو ساتھ رکھتا ہے۔ اگر کوئی خواجہ سرا نماز پڑھتا ہے، روزہ رکھتا ہے، قرآن پڑھتا ہے، حیا اختیار کرتا ہے، حلال روزگار کی کوشش کرتا ہے اور اپنی زندگی کو دین کے مطابق بہتر بنانے کی کوشش کرتا ہے تو اس کی اس کوشش کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔ اگر کسی شخص نے تبلیغ، دینی صحبت، اچھے لوگوں کی صحبت یا اپنی ذاتی توبہ کے ذریعے اپنی زندگی بدلنے کی کوشش کی ہے تو اسے ماضی کے نام سے پکار پکار کر دوبارہ اسی اندھیرے میں دھکیلنا ہمارا کام نہیں۔ توبہ کا دروازہ اگر عام انسان کے لیے کھلا ہے تو کسی دوسرے انسان کے لیے بند نہیں ہو سکتا۔ کسی کے ماضی کو اس کی پوری زندگی کا فیصلہ بنا دینا بھی ظلم کی ایک شکل ہے۔
ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ اسی معاشرے میں ایسے خواجہ سرا بھی موجود ہیں جو اپنی محنت سے زندگی بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کچھ تعلیم حاصل کر رہے ہیں، کچھ ہنر سیکھ رہے ہیں، کچھ کاروبار کر رہے ہیں، کچھ فنون سے وابستہ ہیں، کچھ سماجی خدمت میں کام کر رہے ہیں اور بعض سرکاری یا نجی اداروں میں ملازمت بھی کر رہے ہیں۔ یہ وہ پہلو ہے جسے ہماری گفتگو میں جگہ ملنی چاہیے، کیونکہ اگر ہم ہر وقت صرف سڑک پر بھیک مانگنے والے یا رات کے وقت غلط سرگرمیوں میں نظر آنے والے افراد کو دکھائیں گے تو معاشرے میں یہ تاثر پیدا ہوگا کہ خواجہ سرا ہونا اور ان تمام چیزوں میں ملوث ہونا ایک ہی بات ہے، حالانکہ حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ پاکستان کی سرکاری پالیسی میں بھی خواجہ سرا افراد کے لیے ہنر مندی، روزگار اور معاشی خودمختاری کے راستے پیدا کرنے کی سفارش کی گئی ہے، جبکہ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام نے بھی تعلیم، ہنر اور باعزت روزگار کے مواقع کو ان کی معاشی شمولیت کے اہم راستوں میں شمار کیا ہے۔ لہٰذا اگر کوئی خواجہ سرا اپنی محنت سے دفتر جاتا ہے، سرکاری کام کرتا ہے، کاروبار کرتا ہے، تعلیم حاصل کرتا ہے یا اپنے گھر کا خرچ حلال طریقے سے چلاتا ہے تو اسے محض خواجہ سرا ہونے کی وجہ سے حیرت یا تماشے کا موضوع بنانے کے بجائے ایک محنت کرنے والے انسان کی حیثیت سے دیکھنا چاہیے۔ اچھے کام کی تعریف صرف اس لیے کم نہیں ہونی چاہیے کہ اسے کرنے والا ہماری سماجی اکثریت جیسا نہیں۔
یہاں معاشرے کا اپنا قصور بھی بہت بڑا ہے۔ ہم اکثر کہتے ہیں کہ خواجہ سرا بھیک کیوں مانگتے ہیں، سڑکوں پر کیوں کھڑے ہوتے ہیں، مخصوص محفلوں میں کیوں جاتے ہیں، لیکن ہم نے کبھی یہ سوال کم پوچھا کہ انہیں متبادل راستے کتنے دیے گئے؟ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے مطابق پاکستان میں خواجہ سرا افراد کو تعلیم، روزگار اور معاشرتی قبولیت میں مختلف رکاوٹوں کا سامنا رہا ہے، اور ایک مطالعے میں یہ بھی سامنے آیا کہ بعض افراد نے دفاتر میں امتیازی سلوک کی وجہ سے ملازمتیں چھوڑ دیں۔ اگر ایک شخص کو دفتر میں صرف اس لیے مذاق کا سامنا کرنا پڑے کہ وہ خواجہ سرا ہے، اگر دکاندار اس کے ساتھ معمول کا معاملہ کرنے سے گریز کرے، اگر اسکول میں بچے اسے تماشہ سمجھیں، اگر گھر والے اسے قبول نہ کریں اور اگر معاشرہ اسے صرف بھیک یا مخصوص محفلوں کے دائرے میں دیکھنا چاہے تو پھر ہم اس سے یہ توقع کیسے کرسکتے ہیں کہ وہ ایک دن اچانک مکمل طور پر مرکزی دھارے میں شامل ہوجائے گا؟ تبدیلی صرف خواجہ سرا سے نہیں مانگنی چاہیے، معاشرے کو بھی اپنے رویے بدلنے پڑیں گے۔
لیکن معاشرے کی ذمہ داری کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ہم ہر غلطی پر خاموش ہوجائیں۔ اگر کوئی خواجہ سرا کسی شخص کو دھمکا کر پیسے لیتا ہے تو یہ غلط ہے، اگر کوئی گاڑیوں کے شیشے پر دستک دے کر زبردستی پیسے وصول کرتا ہے تو یہ غلط ہے، اگر کوئی غیر اخلاقی سرگرمی میں ملوث ہوتا ہے تو اسے بھی اسی طرح غلط کہا جانا چاہیے جیسے کسی دوسرے انسان کے ایسے عمل کو غلط کہا جاتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہونا چاہیے کہ ہم فرد کے عمل اور پورے طبقے کی شناخت کو ایک نہ بنائیں۔ اگر کوئی مرد خواجہ سرا کا حلیہ بنا کر لوگوں کو دھوکا دیتا ہے تو اس کے فعل کو خواجہ سرا برادری کے سر نہیں ڈالا جا سکتا۔ اسی طرح اگر کوئی حقیقی خواجہ سرا اچھا کام کر رہا ہے تو اسے بھی اس لیے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ معاشرے کے ذہن میں خواجہ سرا کی ایک منفی تصویر پہلے سے بنی ہوئی ہے۔ انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ ہر شخص کو اس کے عمل کے مطابق دیکھا جائے۔
ہمیں اپنے گھروں سے بھی اس مسئلے کو سمجھنا ہوگا۔ ایک خواجہ سرا بچہ صرف سڑک پر نہیں بنتا، اکثر اس کی کہانی گھر سے شروع ہوتی ہے۔ اگر خاندان اسے محبت، تعلیم، تربیت اور تحفظ دے تو ممکن ہے اس کی زندگی کا رخ بالکل مختلف ہو۔ اگر اسے گھر سے نکال دیا جائے، اس کے وجود کو شرمندگی سمجھا جائے اور اسے صرف اس لیے چھوڑ دیا جائے کہ خاندان کے لیے اس کی موجودگی سماجی سوال بن رہی ہے تو پھر وہ باہر کی دنیا میں جس گروہ، ماحول یا پیشے میں پناہ لے گا، اس پر حیرت کرنے سے پہلے ہمیں اپنے گھر کی طرف بھی دیکھنا ہوگا۔ والدین کے لیے یہ آسان نہیں، معاشرتی دباؤ بھی حقیقت ہے، مگر بچے کو دھتکار دینا مسئلے کا حل نہیں۔ تربیت، محبت، دینی رہنمائی، تعلیم اور مناسب طبی و نفسیاتی مشاورت کے ذریعے خاندان بہت سے مشکل حالات کو بہتر انداز میں سنبھال سکتا ہے۔ ہر اختلاف کو نفرت میں بدل دینا نہ دین ہے نہ انسانیت۔
آج ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ حکومت اور ادارے صرف قانون بنا کر مطمئن نہ ہوں بلکہ عملی سطح پر تعلیم، ہنر، روزگار، صحت، شناختی دستاویزات اور تحفظ کے مواقع پیدا کریں۔ پاکستان میں خواجہ سرا افراد کے خلاف تعلیم، ملازمت، صحت اور عوامی سہولیات میں امتیاز کی ممانعت کا قانونی فریم ورک موجود ہے، لیکن قانون کی اصل قدر اس وقت سامنے آتی ہے جب وہ کاغذ سے نکل کر عام زندگی میں نظر آئے۔ اسی طرح معاشرے کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ کسی محروم شخص کو صرف خیرات دینا کافی نہیں؛ اگر وہ کام کرسکتا ہے تو اسے کام کا موقع دینا زیادہ باوقار راستہ ہے، اگر وہ پڑھ سکتا ہے تو اسے تعلیم کا راستہ دینا چاہیے، اگر وہ ہنر سیکھ سکتا ہے تو اسے ہنر سکھانا چاہیے، اور اگر وہ پہلے سے محنت کرکے اپنی زندگی سنوار رہا ہے تو اس کے لیے تالیاں صرف شادیوں میں نہیں بلکہ اس کی محنت کے اعتراف میں بھی بجنی چاہئیں۔
ہمیں خواجہ سرا کو نہ فرشتہ بنانا ہے نہ شیطان۔ وہ بھی انسان ہیں، اور انسانوں کی طرح ان میں اچھے بھی ہوں گے، برے بھی، نیک بھی ہوں گے، گناہ گار بھی، محنت کرنے والے بھی ہوں گے اور غلط راستہ اختیار کرنے والے بھی۔ فرق صرف یہ ہے کہ معاشرہ عام انسان کی غلطی کو اکثر فرد کی غلطی کہہ کر چھوڑ دیتا ہے مگر خواجہ سرا کی غلطی کو پوری برادری کی شناخت بنا دیتا ہے۔ یہی دوہرا معیار ختم ہونا چاہیے۔ جو غلط کرے اسے قانون اور اخلاق کے مطابق جواب دہ ہونا چاہیے، جو اچھا کرے اسے عزت ملنی چاہیے، جو دین کی طرف آنا چاہے اسے راستہ ملنا چاہیے، جو روزگار کرنا چاہے اسے موقع ملنا چاہیے، اور جو اپنے ماضی سے نکل کر نئی زندگی شروع کرنا چاہے اسے ہر روز اس کا ماضی یاد دلا کر واپس اندھیرے میں نہیں دھکیلا جانا چاہیے۔
آخر میں شاید ہمیں خواجہ سرا سے کم اور اپنے آپ سے زیادہ سوال کرنا چاہیے۔ ہم نے ان کے لیے کون سا راستہ چھوڑا ہے؟ ہم نے ان کے لیے کتنے اسکول کھولے، کتنی ملازمتیں پیش کیں، کتنے ہنر سکھائے، کتنے گھر والوں کو سمجھایا، کتنے اچھے کام کرنے والوں کی تعریف کی اور کتنی مرتبہ کسی خواجہ سرا سے صرف اس لیے عزت سے بات کی کہ وہ بھی اللہ کی بنائی ہوئی ایک انسانی جان ہے معاشرہ اگر کسی انسان کو مسلسل دھکیلتا رہے تو پھر اس کے گرنے پر صرف اسے قصوروار ٹھہرانا انصاف نہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ اگر کوئی شخص غلط راستہ اختیار کرتا ہے تو اسے صرف اپنی شناخت کی وجہ سے معصوم قرار دینا بھی انصاف نہیں۔ ہمیں دونوں حقیقتیں ایک ساتھ دیکھنی ہوں گی۔ خواجہ سرا کے مسئلے کا حل نہ اندھی نفرت ہے، نہ اندھی حمایت؛ حل انصاف، تربیت، دین، قانون، روزگار، تعلیم اور انسان کی عزت کو ایک ساتھ سمجھنے میں ہے۔ شاید اس دن ہم خواجہ سرا کو سڑک پر تماشہ سمجھ کر دیکھنے کے بجائے معاشرے کا ایک ذمہ دار فرد سمجھ کر دیکھنا شروع کردیں گے، اور شاید اسی دن ہمیں احساس ہوگا کہ آئینہ صرف ان کے ہاتھ میں نہیں تھا، اصل چہرہ تو ہمارا اپنا بھی اس میں نظر آرہا تھا۔
مزید پڑھیں






