شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات ۔
ہر خبر کے نیچے ایک ہی جملہ گردش کرتا نظر آتا ہے: "مرد ظالم ہے"۔ اگر عورت بے پردہ ہو کر ٹک ٹاک پر آئے تو کہا جاتا ہے مرد کی نظر گندی ہے۔ اگر گھر ٹوٹے تو کہا جاتا ہے مرد نے عزت نہیں دی۔ گویا معاشرے کی تمام اخلاقی گراوٹ، بگاڑ اور بے راہ روی کا ٹھیکہ صرف مرد نے لے رکھا ہے۔
کیا یہ انصاف ہے؟ آئیے اس مقدمے کو جذباتی نعرے بازی سے نکال کر قرآن و سنت اور معاشرتی حقیقت کی عدالت میں رکھتے ہیں۔
اسلام نے ذمہ داری برابر رکھی ہے، الزام نہیں
قرآن مجید نے جب حیا اور پاکدامنی کا حکم دیا تو اس کا آغاز مرد سے کیا۔
> > قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ
> "مومن مردوں سے کہہ دو اپنی نظریں نیچی رکھیں" (سورۃ النور: 30)
اور اس کے فوراً بعد اگلی ہی آیت میں عورت سے مخاطب ہو کر فرمایا:
> وَقُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغُضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ وَ یَحْفَظْنَ فُرُوْجَهُنَّ وَلَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ
> مومن عورتوں سے کہہ دو اپنی نظریں نیچی رکھیں، اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت ظاہر نہ کریں (سورۃ النور: 31)
یعنی حکم دونوں کے لیے ہے۔ نظریں دونوں کو جھکانی ہیں اور حیا دونوں پر برابر فرض ہے۔
پھر فرمایا:
اَلرِّجَالُ قَوَّامُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ "مرد عورتوں پر نگہبان ہیں" (سورۃ النساء: 34)۔
قوام کا مطلب ظالم یا جابر نہیں، بلکہ قیمتی اثاثے کی حفاظت کرنے والا ہے۔ جیسے کسی قافلے کا امیر ظالم نہیں بلکہ اس کا محافظ ہوتا ہے، اسی طرح مرد پر نان نفقہ، تحفظ اور تربیت کی ذمہ داری ڈالی گئی ہے۔ عورت پر اسی قیادت کے دائرے میں رہ کر گھر کو سکون کا گہوارہ بنانے کی ذمہ داری ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانِ مبارک ہے:
> كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ
> تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا (بخاری و مسلم)۔
قیامت کے دن مرد سے اس کی قوامیت اور گھر کے بارے میں سوال ہوگا، اور عورت سے اس کی اولاد کی تربیت اور شوہر کے مال و ناموس کی حفاظت کے بارے میں۔ تو پھر یہ مقدمہ یک طرفہ کیسے ہو سکتا ہے؟
مرد کہاں غلط ہے؟ اس سے انکار ممکن نہیں
اس حقیقت سے آنکھیں چرانا ممکن نہیں کہ بہت سے مردوں نے قوامیت کو محافظ بننے کے بجائے حاکمیت اور جابرانہ تسلط سمجھ لیا ہے۔ وہ نگہبان بننے کے بجائے آمر بن گئے۔
نظر کی خیانت، گلی محلوں میں آوازے کسنا، دفاتر میں عورت کی مجبوری کا فائدہ اٹھانا—یہ سب مرد کی کھلی اخلاقی شکست ہے۔ دین نے اسے نظریں جھکانے کا حکم دیا تھا، اس نے آنکھیں گاڑ دیں۔ دین نے اسے عورت کو تحفظ اور وقار دینے کا کہا تھا، اس نے عورت کو کمانے کے لیے بازار میں دھکیل دیا اور خود فارغ بیٹھ گیا۔ یہ ظلم ہے، اور اس ظلم کا حساب مرد کو بارگاہِ الٰہی میں دینا ہی ہوگا۔ مرد کو اس جرم سے ہرگز بری نہیں کیا جا سکتا۔
لیکن کیا داستانِ بگاڑ صرف مرد کی غلطی پر ختم ہو جاتی ہے؟
دوسرا رخ کیوں بیان نہیں ہوتا
قرآن نے عورت کو پردے کا حکم قید و بند کے لیے نہیں، بلکہ اس کی عزت و وقار کی حفاظت کے لیے دیا تھا:
> يُدْنِيْنَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيْبِهِنَّ ذٰلِكَ اَدْنٰٓى اَنْ يُّعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ
> اپنی چادریں اپنے اوپر لٹکا لیا کریں، یہ اس سے قریب تر ہے کہ وہ پہچانی جائیں اور انہیں تکلیف نہ پہنچائی جائے (سورۃ الأحزاب: 59)
>
اور فرمایا:
> وَقَرْنَ فِيْ بُيُوْتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْاُوْلٰى
> اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور پہلے جاہلیت کی طرح بناؤ سنگھار دکھاتی نہ پھرو (سورۃ الأحزاب: 33)
آج اس حکمت سے بھرپور حکم کا کیا حشر کیا گیا؟
جب سوشل میڈیا پر غیر شرعی رقص اور بے لباسی کو "میرا جسم میری مرضی" اور "خود اعتمادی" کا نام دیا جائے، جب شادی شدہ عورت اپنے شوہر کے لیے سجنے کے بجائے ہزاروں نامحرموں کے سامنے لائیو آئے، جب بیٹی باپ یا بھائی کی غیرت و حیا کو "دقیانوسی سوچ" کہہ کر مسترد کر دے، تو کیا یہ اخلاقی گراوٹ نہیں؟ ایسے میں مرد قوام بنے تو ظالم و جابر اور اگر چپ سادھ لے تو بیغیرت کہلاتا ہے ۔ ہر دو طرف سے گنہگار و قصوروار مرد ہی کہلاتا ہے ۔
اس بگاڑ کی تمام تر ذمہ داری صرف مرد کی آنکھ پر کیسے ڈالی جا سکتی ہے؟ کیا دعوتِ نظر دینے والی آنکھ اور خود کو نمائش کے لیے پیش کرنے والے وجود پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی؟
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
> مَا تَرَكْتُ بَعْدِي فِتْنَةً أَضَرَّ عَلَى الرِّجَالِ مِنَ النِّسَاءِ
> میں نے اپنے بعد مردوں کے لیے عورتوں سے بڑھ کر آزمائش کا باعث بننے والا کوئی فتنہ نہیں چھوڑا (صحیح بخاری)۔
یہ عورت کی تذلیل نہیں، بلکہ اس کی زبردست طاقت اور کشش کا اعتراف ہے کہ اگر وہ اپنی حدود سے نکل جائے تو پورے معاشرے کا شیرازہ بکھر جاتا ہے۔
معاشرتی طور پر دیکھیے! آج گھر سے ماں کی گود کا تربیت گاہ والا کردار کمزور ہو گیا۔ بچہ موبائل کے سپرد ہے اور ماں سوشل میڈیا پر فالوورز گننے میں مصروف ہے۔ شوہر کی نافرمانی، بدزبانی، اور گھر کے رازوں کو سہیلیوں اور انٹرنیٹ پر اچھالنا—کیا یہ دینی و اخلاقی جُرم نہیں؟ قرآن نے نیک عورت کا معیار یوں بیان کیا:
> فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلْغَيْبِ
> "نیک عورتیں فرمانبردار ہوتی ہیں، غیب میں (شوہر کی عدم موجودگی میں) حفاظت کرنے والی ہوتی ہیں" (النساء: 34)
>
تو پھر مجرم کون؟
حقیقت یہ ہے کہ مجرم کوئی ایک صنف نہیں، بلکہ بے لگام خواہشات ہیں۔
مرد نے اپنی آنکھ کو آزاد چھوڑ دیا، عورت نے اپنی زینت کی نمائش کو آزاد کر دیا۔ مرد نے غیرت کے نام پر سختی اور ظلم کو اپنامیہ بنایا، عورت نے آزادی کے نام پر بے حیا کا راستہ چن لیا۔ دونوں نے دین کو اپنی سہولت کا کھیل بنا لیا—مرد کو قوامیت کی آیت یاد رہی لیکن عورت کے حقوق اور اپنے عزائم بھول گیا؛ عورت کو مرد کے مظالم کی احادیث یاد رہیں لیکن شوہر کی اطاعت اور اپنے گھر کی پاسداری کی احادیث بھلا دیں۔
معاشرے میں تباہی اس وقت آتی ہے جب دونوں فریق اپنے اپنے مقرر کردہ دائرے سے باہر نکل جاتے ہیں۔
مرد بلاوجہ ظالم نہیں، لیکن ظالم وہ یکطرفہ سوچ بھی ہے جو عورت کی ہر غلطی کا ملبہ مرد کے سر ڈال دیتی ہے۔ مرد بھی مظلوم بن جاتا ہے جب اس کی دن رات کی حلال کمائی اور خون پسینے کی قربانیوں کو "آخر تم نے ہمارے لیے کیا ہی کیا ہے؟" کے ایک جملے سے روند دیا جاتا ہے۔
یہ تحریر عورت کی تذلیل یا دل آزاری کے لیے ہرگز نہیں لکھی گئی۔ عورت اگر ماں ہے تو (ہر ماں کے قدموں میں اولاد کی جنت رکھی گئی ہے، جنت ان قدموں تلے ہے جو خود تقویٰ اور صحیح اسلامی تربیت کے راستے پر چلتے ہوں)؛ عورت اگر بیٹی ہے تو گھر کی رحمت ہے، بیوی ہے تو شوہر کا لباس ہے، اور بہن ہے تو مان اور غیرت ہے۔ اس کے مقام و مرتبے پر کوئی حرف نہیں آ سکتا۔
مقصد صرف یہ ہے کہ شیشہ صاف کیا جائے۔ اخلاقی پستی کسی ایک دیوار پر نہیں ، یہ بارش کی طرح پورے مکان پر برستی ہے۔ اس کا حل صرف مرد کو کوسنے یا صرف عورت کو قصوروار ٹھہرانے سے نہیں نکلے گا۔
معاشرتی بگاڑ کی ذمہ داری کسی ایک صنف پر نہیں، بلکہ مرد اور عورت دونوں کے اپنے اپنے شرعی و اخلاقی دائرے سے نکلنے کا نتیجہ ہے۔
قصور صرف ایک کا نہیں ہے، تو اصلاح بھی کسی ایک کے سدھرنے سے نہیں ہوگی۔ دونوں کو اپنی اپنی قرآن و سنت والی ذمہ داریوں کی طرف لوٹنا ہوگا۔






