Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

پاکستان 2027 میں کیئرک کی صدارت سنبھالنے اور26ویں وزارتی کانفرنس کی میزبانی کیلئےتیار ہے؛احسن اقبال


وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ کیئرک کی نقل و حمل کی راہداریوں کو جدید اقتصادی راہداریوں میں تبدیل کرنے کے لیے بنیادی ڈھانچے، رسد، ڈیجیٹل رابطہ، توانائی کے تعاون اور موسمیاتی تحفظ کو مربوط کرنا ہوگا۔ اولان باتور منگولیا میں منعقدہ 25 ویں کیئرک وزارتی کانفرنس کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کیئرک کی پانچویں اور چھٹی راہداریوں کو وسطی ایشیا کو بحیرۂ عرب سے ملانے اور ان راستوں پر معاشی سرگرمیوں کے فروغ کا اہم موقع سمجھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب سوال صرف یہ نہیں کہ ’’کیا کوئی ٹرک اس راستے سے گزر سکتا ہے؟‘‘ بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ’’کیا کوئی کاروبار اس راستے کو قابلِ اعتماد، مسابقتی اور منافع بخش انداز میں استعمال کرسکتا ہے؟‘‘ احسن اقبال نے کہا کہ علاقائی راہداریوں کی مؤثر تکمیل کے لیے کیئرک شاہراہوں کو بہتر بنانے، طورخم اور چمن پر جدید سرحدی سہولیات فراہم کرنے، مجوزہ ایم ایل ون منصوبے کے ذریعے ریل کے ذریعے مال برداری کی استعداد بڑھانے اور ڈرائے پورٹس کو سمندری بندرگاہوں سے مؤثر انداز میں منسلک کرنے کی ضرورت ہے۔


وفاقی وزیر نے کہا کہ اہم مقامات پر رسد اور پیداواری مراکز قائم کیے جائیں، جہاں سرد خانے، پیکنگ، گودام اور ہلکی صنعتوں کی سہولیات فراہم کی جائیں۔ اس اقدام سے محض سامان کی ترسیل کے بجائے برآمدات، روزگار اور مقامی آبادی کے لیے معاشی مواقع پیدا کیے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے کیئرک خطے میں ایک مربوط ڈیجیٹل راہداری کے قیام پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان سنگل ونڈو علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مرحلہ وار ڈیجیٹل انضمام کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’کسی بھی مال بردار کھیپ کے کاغذات سرحد تک پہنچنے سے پہلے ہی جانچ لیے جانے چاہییں۔‘‘علاقائی توانائی تعاون اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ کاسا ایک ہزار جیسے منصوبے سرحد پار توانائی کے رابطوں کی بھرپور صلاحیت کا مظہر ہیں،انہوں نے کہا کہ نئی شاہراہوں، ریلوے اور رسد کے بنیادی ڈھانچے کو سیلاب اور شدید گرمی جیسے موسمیاتی خطرات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کے ساتھ تعمیر کیا جانا چاہیے۔


وفاقی وزیر نے کہا کہ ’’حقیقی تبدیلی اس وقت آتی ہے جب ایک راہداری صرف سامان نہیں بلکہ سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، توانائی اور مواقع بھی منتقل کرے۔‘‘ علاقائی سطح پر مشترکہ فوائد کے حصول کے لیے درکار اقدامات سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پوری راہداری کے مربوط منصوبہ بندی، سرحد پار تعاون کے فروغ اور کاروباری اداروں اور مقامی آبادی پر رابطہ کاری کے اثرات جانچنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ کیئرک ممالک کو سرحد پار ترجیحی منصوبوں کی نشاندہی کرکے انہیں مشترکہ معیار کے مطابق تیار کرنا چاہیے اور سرمایہ کاری و تعمیرات کے اوقات کار میں باہمی رابطہ قائم کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک اس سلسلے میں مالی وسائل متحرک کرنے، بالخصوص جہاں موزوں ہو نجی سرمایہ کاری کے حصول میں اہم کردار ادا کرسکتا ہےاحسن اقبال نے کہا کہ سرحدوں کو مشترکہ سہولت کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے، جہاں یکساں اوقاتِ کار، پیشگی برقی معلومات، مربوط طریقۂ کار اور بار بار کی جانچ میں کمی کے ذریعے تجارتی سرگرمیوں کو آسان بنایا جائے۔ انہوں نے سرحدی تاخیر، سامان کی ترسیل کے دورانیے، مقامی روزگار، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کی شمولیت اور خواتین و نوجوانوں کے لیے پیدا ہونے والے مواقع کی باقاعدہ پیمائش پر بھی زور دیا۔


انہوں نے کہا کہ ’’علاقائی تعاون اس وقت کامیاب ہوتا ہے جب ایک تاجر سفر کے دورانیے کی پیش گوئی کرسکے، ایک کسان اپنی پیداوار ضائع کیے بغیر دور دراز منڈی تک پہنچ سکے اور راہداری کے ساتھ آباد کمیونٹیز اس خوشحالی میں شریک ہوں۔ یہی رابطہ کاری سے مسابقتی صلاحیت کی جانب پیش رفت کا راستہ ہے۔‘‘ اس سے قبل پچیسویں کیئرک وزارتی کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، جس کا موضوع ’’پچیس برس کی شراکت داری، مل کر مستقبل کی تشکیل‘‘ تھا، وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان 2027 میں کیئرک کی صدارت سنبھالنے اور چھبیسویں وزارتی کانفرنس کی میزبانی کے لیے پرعزم ہے۔


انہوں نے کہا کہ پاکستان وسطی ایشیا، جنوبی ایشیا اور سمندری راستوں کے سنگم پر واقع ہے اور وہ اپنی جغرافیائی حیثیت کو مضبوط علاقائی رابطہ کاری، تجارت، ڈیجیٹل انضمام اور علاقائی قدر کی زنجیروں کے ذریعے مشترکہ علاقائی ترقی کے محرک میں تبدیل کرنا چاہتا ہےپچیسویں کیئرک وزارتی کانفرنس کے موقع پر وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کیئرک سرمایہ منڈی ترقی فورم اور آسیان سرمایہ منڈی فورم کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط بھی کیے۔ مفاہمت کی یادداشت کا مقصد کیئرک اور آسیان کے رکن ممالک کی سرمایہ منڈیوں کے درمیان تعاون اور روابط کو فروغ دینا، تجربات اور معلومات کے تبادلے، ضابطہ جاتی تعاون اور علاقائی مالیاتی انضمام کو مزید گہرا کرنے کے مواقع پیدا کرنا ہے۔