Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

شاہین کی پہلی اڑان ،تحریر : سدرہ قیوم

نقطہ نظر

9 نومبر کی صبح کچھ الگ ہی ہوتی ہے۔

ہوا میں ایک عجیب سی مہک ہوتی ہےشاید گیندے کے پھولوں کی، شاید خوابوں کی۔ کپس کالج کے دروازے پر جب نوید نے قدم رکھا تو اسے لگا جیسے زمین نے اسے تھوڑا اوپر اٹھا لیا ہوآ ٹھ نومبر کی شام کو تمام بچے مل کر اپنے کالج کو مس سدرہ جو اردو ڈیپارٹمنٹ کی ہیڈ ہیں ۔کی نگرانی میں سبز جھنڈیوں اور پھولو ں سے خوب سجا کر گئے تھے ۔جگہ جگہ علامہ اقبال رح کی تصاویر لگی تھیں ۔

صحن میں سبز جھنڈیاں لہرا رہی تھیں۔ ہال کی دیوار پر ایک بڑی سی تصویر تھی گہری آنکھیں، اور ایک ایسا چہرہ جو دیکھنے والے سے کچھ پوچھتا لگتا تھا

اس کےسامنے خوبصورت اسٹیج تھا ساتھ ایک بڑی میز تھی جس پر علامہ اقبال کی تمام کتب رکھی تھیں ۔دیکھنے والوں کے لیے یہ نظارہ بہت خوبصورت تھا۔

نوید رک گیا۔ اس تصویر کو دیکھتا رہا۔اس کے سب دوست بھی وہاں آ گیے ۔

"کیا دیکھ رہے ہو؟"

فاطمہ نے پوچھا۔ ہمیشہ کی طرح بے آواز، ہمیشہ کی طرح مسکراتی ہوئی۔

"کچھ نہیں،" نوید نے کہا مگر یہ سچ نہیں تھا۔

رات بھر نوید سویا نہیں تھا۔ آ نکھیں سرخ ہوئی تھی ۔

نظم کے الفاظ تھے جو کبھی دماغ میں آتے، کبھی بھاگ جاتے جیسے پانی میں مچھلی کو پکڑنے کی کوشش کرو اور وہ ہاتھ سے پھسل جائے۔ نوید کو نظم یاد تو تھی مگر پڑھنے کے لیےہمت اور حوصلہ کم تھا ۔وہ بہت ڈر رہا تھا ۔ امی نے رات کو چائے بنا کر دی اور کہا کہ علامہ اقبال بھی ایک عام گھر میں پیدا ہوئے تھے مگر انہوں نے دل کی آواز سنی محنت کی ۔نوید نے سوچا تھا کاش میرے دل کی آواز اتنی اونچی ہوتی۔ہال کے اندر رونق بڑھنے لگی ۔مہمان اور کالج کے بچے آ رہے تھے۔

زید آیا تو اس نے شیروانی پہنی ہوئی تھی اور پگڑی کچھ ٹیڑھی تھی جو اسے بالکل بھی علامہ اقبال جیسا نہیں بلکہ کسی پرانی فلم کے مزاحیہ کردار جیسا بناتی تھی۔ نوید ہنسا پہلی بار اس دن۔

فاطمہ کے ہاتھ میں ایک خطاطی کارڈ تھا۔ رات کو تین بجے تک لکھا ہوا، سرخ اور سنہری رنگوں میں اور اس پر اقبال کا وہ شعر جو نوید کو سب سے زیادہ پسند تھا مگر اس نے کبھی کسی کو بتایا نہیں تھا:

"خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے

خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے"۔

نوید نے فاطمہ کی طرف دیکھا۔ فاطمہ نے کندھے اچکائے جیسے کہہ رہی ہو، ہاں، میں جانتی تھی۔

تقریب سے پہلے سر سلیم نے بچوں کو پاس بلایا۔

سر سلیم وہ استاد تھے جن کی کلاس میں گھڑی کی سوئی تیز چلتی۔ وقت گزرنے کا احساس نہیں ہوتا تھا۔ ان کی آواز میں ایک عجیب سکون تھا، جیسے کوئی پرانا دریا گہرا، پُرسکون، مگر طاقتور۔

انہوں نے کہا، "بچو، آج ہم صرف علامہ اقبال کی سالگرہ نہیں منا رہے۔ آج ہم اس شخص کو یاد کر رہے ہیں جس نے ہمیں بتایا کہ ہم کون ہیں۔"

پھر انہوں نے ایک کہانی سنائی۔

علامہ اقبال لندن میں قیام پزیر تھے موسم بہت ٹھنڈا تھا۔ برف پڑتی، شہر روشنیوں سے چمکتا اور ہر طرف ترقی کا دور تھا۔ لوگوں نے کہا دیکھو، یہ ہے ہمارا مستقبل۔ یہی اپناؤ، یہی بنو۔ مگرعلامہ اقبال نے کھڑکی سے باہر دیکھا اور انہیں ایک اور آسمان نظر آیا۔ ایک ایسا آسمان جو ان کے اپنے سینے میں موجود تھا۔

اور انہوں نے لکھ دیا:

"ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں

سر سلیم خاموش ہو گئے۔

نوید نے محسوس کیا کہ اس کی سانس رک گئی ہے اور پھر آہستہ سے واپس آئی۔

تقریب شروع ہوئی۔

قومی ترانہ پڑھا گیا سب کھڑے ہو گئے، نوید کو ان لمحوں میں ہمیشہ ایک عجیب سا فخر محسوس ہوتا جسے وہ الفاظ میں نہیں کہہ سکا

پھر ایک بچی نے تلاوت کی آواز ایسی صاف جیسے صبح کی پہلی کرن۔

پھر ایک بچی زینب نے نعت رسول ﷺ پڑھی جس سے دل کو بے حد سکون ملا۔

پھر زید آیا۔

اپنی ٹیڑھی پگڑی کے ساتھ، اپنی بھاری آواز کے ساتھ اور "اس نےعلامہ اقبال بن کر کہا:

تو شاہین ہے، پرواز ہے کام تیرا"

تیرے سامنے آسمان اور بھی ہیں!"

لوگ ہنسے بھی تالیاں بھی بجائیں اور زید نے شاہانہ انداز سے سر جھکایا جیسے اس نے دنیا فتح کر لی ہو۔

پھر نیلم آئی۔ اس نے علامہ اقبال کی نظم "بچے کی دعا" پڑھی اور اس کی آواز میں کچھ ایسا تھا کہ پیچھے بیٹھی ایک استانی نے چپکے سے آنکھ پونچھی۔

پھر فاطمہ آئی۔ اس نے تقریر کی خودی پر، شاہین پر، اس آسمان پر جو ہر انسان کے اندر ہوتا ہے۔

"علامہ اقبال نے کہا پہلے اپنے آپ کو جانو۔ جب تم اپنے آپ کو جان لو گے، تو دنیا خود تمہیں جان لے گی۔"

نوید نے سنا اور لگا جیسے یہ الفاظ براہِ راست اسی کے لیے کہے گئے ہیں۔

پھر سر سلیم نے کہا، "اور اب نوید۔"

بس یہی دو لفظ

مگر ان دو لفظوں نے نوید کو ہمت دی۔

وہ اٹھا۔

اسے لگا سب اسے ہی دیکھ رہے ہیں اور واقعی سب دیکھ رہے تھے۔

فاطمہ نے آہستہ سے کہا، "شاہین ڈرتا نہیں۔"

زید نے بس ایک نظر ڈالی اس نظر میں سب کچھ تھا

نوید اسٹیج کی سیڑھیاں چڑھا۔ ایک قدم، دو قدم، تین قدم۔

مائیک کے سامنے کھڑا ہوا۔

اس نے علامہ اقبال کی تصویر کی طرف دیکھااور نہ جانے کیوں، اسے لگا جیسے وہ بوڑھے شاعر کہہ رہے ہیں : میں بھی ڈرا تھا کبھی مگر میں رکا نہیں۔

نوید نے آنکھیں بند کیں۔

ایک لمحہ۔

بس ایک لمحہ۔

اور پھر آواز نکلی

"ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں

ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں"

آواز کانپی ہاں، کانپی تھی۔ مگر رکی نہیں۔

"تہی زندگی سے نہیں یہ فضائیں

یہاں سینکڑوں کارواں اور بھی ہیں"

اور جب آخری مصرع آیا

"قناعت نہ کر عالمِ رنگ و بو پر

چمن اور بھی، آشیاں اور بھی ہیں!"

تو ہال میں ایک ایسی خاموشی آئی جو صرف اس وقت آتی ہے جب کوئی بات دل کو چھو جائے۔

پھر تالیاں۔

نوید کے کانوں میں شور تھا مگر دل میں سکون

جیسے کوئی چیز جو برسوں سے دبی ہو، آج باہر آ گئی ہو۔

ہال میں ہلکی سی سرگوشیاں تھیں بچے ایک دوسرے سے پوچھ رہے تھے، کون جیتے گا، کس کو انعام ملے گا۔ مگر سب سے پہلے مس سدرہ اسٹیج پر آئیں۔

مس سدرہ صاحبہ کو جو بچہ ایک بار دیکھ لے، بھول نہیں سکتا۔ان کی آواز میں ایک ایسی گرمجوشی تھی جو سردی کے دن دھوپ کی طرح محسوس ہوتی ہے۔ جب وہ بولتی تھیں تو لگتا تھا جیسے وہ ہر بچے سے الگ الگ بات کر رہی ہیں

انہوں نے مائیک تھاما پھر بولیں ۔

"آج تم سب نے جو کچھ کیا وہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور دل سے محسوس کیا۔ علامہ اقبال نے کہا تھا کہ نسلِ نو اگر جاگ جائے تو تقدیر بدل جاتی ہے۔ آج تم سب کو دیکھ کر لگا یہ نسل سو نہیں رہی۔ یہ نسل جاگ رہی ہے۔"

مس سدرہ نے مزید کہا

"علامہ اقبال نے شاہین کو اس لیے نہیں چنا کہ شاہین طاقتور ہے۔ انہوں نے شاہین کو اس لیے چنا کہ شاہین اکیلا اڑتا ہے بھیڑ کا محتاج نہیں ہوتا۔ تم میں سے ہر بچہ آج اکیلا اسٹیج پر گیا اور یہی اصل ہمت ہے۔"

مس سدرہ نے مسکرا کر کہا ۔

"ایک بات اور علامہ اقبال کو پڑھنا صرف امتحان پاس کرنے کے لیے نہیں ہے۔ ہر صبح جب تم اٹھو ایک شعر یاد کرو اور سوچو کہ آج میں اسے اپنی زندگی میں کہاں استعمال کروں گا۔ بس یہی اصل فلسفہ ہے۔۔"

پھر سر سلیم اٹھے۔۔

انہوں نے کہا

"آج میں بہت کم بولوں گا کیونکہ آج بچوں نے مجھ سے زیادہ بہتر بول لیا۔"

بچے مسکرائے۔

سر سلیم نے مزید کہا

"علامہ اقبال کو قریب سے جاننا ہو تو بس ایک کام کرو جب بھی ڈرو، علامہ اقبال کو یاد کرو۔ جب بھی تھکو، علامہ اقبال کو یاد کرو۔ جب بھی لگے کہ میں نہیں کر سکتا علامہ اقبال کو یاد کرو۔ کیونکہ علامہ اقبال نے پوری زندگی یہی کیا ہر تھکاوٹ میں، ہر مایوسی میں، انہوں نے قلم اٹھایا اور لکھ دیا کہ ہمت نہیں ہارنی۔"

پھر انہوں نے ایک شعر پڑھا اتنے آہستہ کہ لگا جیسے اپنے آپ سے کہہ رہے ہوں:

نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی


پرنسپل صاحب اٹھے فہرست ہاتھ میں تھی مگر انہوں نے اسے ایک طرف رکھ دیا۔

بولے ۔

"آج جو بچے انعام لیں گے، وہ خوش ہوں۔ اور جو نہیں لیں گے، وہ بھی خوش ہوں کیونکہ آج سب نے حصہ لیا، اور حصہ لینا ہی سب سے بڑا انعام ہے۔"

حمد اور نعت پڑھنے والے بچوں کو خصوصی انعامات سے نوازا گیا۔ تمام بچو ں کی حوصلہ افزائی کی گئی ۔

پہلا انعام بہترین نظم خوانی۔

نیلم کا نام پکارا گیا۔

وہ اٹھی شرماتی ہوئی، آنکھیں جھکی ہوئیں۔ جب اس نے انعام لیا تو اس کے ہاتھ تھوڑے کانپ رہے تھے۔ تالیاں بجیں ۔

دوسرا انعام بہترین تقریر۔

فاطمہ کا نام آیا۔

وہ اٹھی بالکل پراعتماد۔، سیدھے نوید کی طرف دیکھ کر مسکرائی جیسے کہہ رہی ہو، دیکھا، ہمت کا پھل ایسا ہوتا ہے؟

تیسرا انعام بہترین کردار۔

زید دوڑتا ہوا آیا پگڑی پھر سے ٹیڑھی ہو گئی تھی۔

اس نے انعام لیا اور مائیک کے سامنے بولا، "یہ انعام میں علامہ اقبال کو دیتا ہوں انہوں نے مجھے لباس دیا!"

سب لوگ ہنس پڑے ۔

پرنسپل صاحب نے کہا

"یہ انعام کسی پیشکش کے لیے نہیں ہے۔ یہ انعام اس بچے کے لیے ہے جس نے آج ہمیں سب سے بڑا سبق دیا۔"

ہال خاموش ہو گیا۔

"نوید بہترین ہمت کا انعام۔"

نوید کو لگا جیسے اس کے کانوں نے غلط سنا۔

فاطمہ نے کہا، "جاؤ!"

زید نے دھکا دیا پیار سے۔

نوید اٹھا۔ اسٹیج پر گیا۔

پرنسپل صاحب نے انعام دیتے ہوئے دھیرے سے کہا، "بیٹا، آج تم نے ڈر کو ہرایا یہ کوئی چھوٹی بات نہیں۔"

نوید کچھ نہ بول سکا۔

تالیاں بجتی رہیں۔

تقریب ختم ہوئی ۔

کچھ لمحے ایسے ہوتے ہیں جو گھڑی کے ساتھ نہیں چلتے

مس سدرہ کے الفاظ، سر سلیم کا وہ شعر، نیلم کے آنسو، زید کی پگڑی، فاطمہ کی مسکراہٹ اور نوید کا وہ جھکا ہوا سر جس میں ہزار خواب تھے۔

سال گزریں گے۔

یہ بچے بڑے ہوں گے کوئی ڈاکٹر بنے گا، کوئی استاد، کوئی شاعر، کوئی انجینیئر۔

مگر جب کبھی کوئی مشکل آئے گی، ان کو یاد آئے گی:

وہ 9 نومبر کی صبح۔

وہ سجا ہوا ہال۔

وہ علامہ اقبال کی تصویر خوبصورت چہرہ ، گہری آنکھیں۔جو دل میں ہمیشہ رہے گی ۔

اور وہ آواز جو کانپی تھی مگر رکی نہیں تھی

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں...

شام کو واپسی پر تینوں ساتھ چل رہے تھے۔

آسمان پر سنہری رنگ پھیلا تھا وہ رنگ جو دن اور رات کے درمیان صرف چند لمحوں کے لیے آتا ہے۔

زید نے کہا، "آج کا دن میں کبھی نہیں بھولوں گا۔"

فاطمہ بولی، "نوید، بتاؤ آج کیا سیکھا؟"

نوید نے کہا ۔

"یہ کہ ڈر ختم نہیں ہوتا۔ مگر جب ہم ڈر کے باوجود چلتے ہیں تو ڈر پیچھے رہ جاتا ہے اور ہم آگے نکل جاتے ہیں۔ علامہ اقبال نے یہی کیا پوری زندگی۔"

فاطمہ کی مسکراہٹ نے سب کچھ کہہ دیا۔

اور تینوں ہنستے ہنستے اپنے گھروں کی طرف مڑ گئے

اس رات نوید نے اپنی ڈائری کھولی۔

قلم اٹھایا۔

اور لکھا:

"آج میں نے جانا شاہین پیدا نہیں ہوتا۔ شاہین بنتا ہے۔ ہر اس دن جب وہ ڈرتا ہے اور پھر بھی اڑتا ہے۔"

باہر رات کا منظر تھا ۔

ستارے جگمگا رہے تھے اور ان سے بھی آگے، نہ جانے کتنے اور جہاں تھے۔

جیسےعلامہ اقبال نے کہا تھا۔


ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں...


"نہیں ہے نشیمن تیرا قصرِ سلطانی میں

تو شاہیں ہے، بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں"