کوئی وزیراعظم کو کچھ کہتا ہے تو ایف آئی اے اسکو جا کر پکڑ لے گی؟،عدالت

0
60
islamabad hoghcourt

کوئی وزیراعظم کو کچھ کہتا ہے تو ایف آئی اے اسکو جا کر پکڑ لے گی؟،عدالت
ایف آئی اے اختیارات اور پیکا ترمیمی آرڈیننس کے خلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کیسز کی سماعت کی پی ایف یو جے اورفرحت اللہ بابر کی آرڈیننس کے خلاف درخواستوں پر بھی سماعت ہوئی،محسن بیگ کی ایف آئی اے کا مقدمہ خارج کرنے کی درخواست پر بھی سماعت ہوئی،تمام درخواستیں چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے یکجا کر کے سماعت کی ،اٹارنی جنرل خالد جاوید خان اسلام آباد ہائیکورٹ روسٹرم پر موجود تھے

درخواست گزاروں کے وکلاء بھی عدالت کے روبرو پیش ہوئے بابر بخت ڈائریکٹر سائبر ونگ ایف آئی اے بھی زاتی حثیت میں عدالت پیش ہوئے

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب یہ جو درخواستیں دائر ہوئی ہیں بالکل صحیح ہے، دنیا ڈیفامیشن کے قانون کو ختم کرنے جاری ہے ہمارے ہاں 2010 میں اس قانون کو شامل کیا گیا، جو بھی ہوا پارلیمنٹ نے کیا اس عدالت نے اس میں ایسا کچھ نہیں کیا،رولنگ پارٹی کے ممبر قومی اسمبلی نے پڑوسی کے ساتھ لڑائی میں ایف آئی اے کو شامل کیا، ماحولیاتی مسئلے پر ایف آئی اے نے رکن پارلیمنٹ کی درخواست پر تنگ کرنا شروع کیا،عدالت کے سامنے ایک کیس آیا جس میں حکومتی شخصیت نے پڑوسی کے ساتھ ہونے والے جھگڑے پر ایف آئی اے کو پیکا قانون کے تحت درخواست دی جس پر ایف آئی اے نے بزرگ شہری کو ہراساں کرنا شروع کردیا ، ایف آئی اے کے پاس کچھ عرصہ پہلے 14 ہزار کیسسز زیر التوا تھے،ایف آئی اے کو بتایا گیا کہ آپ نے جو کرنا ہے احتیاط کے ساتھ کرنا ہے،حکومت کے خلاف آواز اٹھانے والے کے خلاف ایف آئی اے نے کاروائی شروع کی ، ایک سیاسی کارکن نے پبلک آفس ہولڈر کے خلاف بات کرنے پر چھ ماہ میں وہ جیل میں رہے، پہلے سے متنازع چیزوں کو مزید ڈریکونین بنایا گیا، بتایا جائے کیوں نہ پیکا ایکٹ کے سیکشن 20 کو ختم کیا جائے،

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پبلک آفس ہولڈر کو ڈر کس بات کا ہونا چاہیے؟ ایسی پارٹی جس کا طاقت ہی سوشل میڈیا پر ہو، سوشل میڈیا ٹیم بنا کر بلیم گیم شروع کرے گی تو پھر ڈرنا کیوں ؟
پبلک آفس ہولڈر کو بچانے کے لیے کیوں اخراجات اٹھا جائے ؟ آپ بہتر قانون بنائے تو یہ عدالت آپ کو سپورٹ کرے گی، ڈیفامیشن کے قانون کو پوری دنیا نے ختم کردیا، 14 ہزار شکایات میں ایف آئی اے نے کونسا کیس صحیح حل کیا ہوگا؟ ایک سیاسی ورکر نے ایک پبلک آفس ہولڈر کے خلاف تقریر کی اور چھ ماہ جیل میں رہا،یہ قانون پبلک آفس ہولڈرز کے تحفظ اور آزادی اظہار کو دبانے کیلئے استعمال ہو رہا ہے، ایک آرڈیننس کے ذریعے اس ایکٹ کو مزید ڈریکونین بنا دیا گیا ہے،

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت کو پرائیویٹ لوگوں کی ہتک کا اتنا خیال ہے تو پبلک آفس ہولڈرز کو اس سے نکال دے، مجھے چیف جسٹس ہوتے ہوئے تنقید سے نہیں گھبرانا چاہیے، ہر پبلک آفس ہولڈر کی ساکھ اس کے فیصلوں اور اسکے اعمال سے ہوتی ہے، یہ عدالت کافی عرصے سے اس معاملے پر تحمل کا مظاہرہ کر رہی ہے، سیاسی جماعتیں اور سیاسی رہنما سوشل میڈیا پر ہونے والے اقدامات کے خود ذمہ دار ہیں، جب آپ خود یہ چاہتے ہیں تو پھر تنقید سے کیوں ڈرتے ہیں، پوری دنیا میں طے ہے کہ آزادی اظہار پر کوئی کمپرومائز نہیں ہو سکتا، اداروں کے بنیادی حقوق یا ساکھ نہیں ہوتی، وہ ہتک عزت میں کیسے آ سکتے ہیں، یہ عدالت کیوں نہ ہتک عزت کے قانون کو کالعدم قرار دے دے، کیوں نہ ہتک عزت کو فوجداری قانون سے نکال دیا جائے، ہتک عزت کے سول کیسز میں قانون کو مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے، سول کورٹ کو پابند بنا دیتے ہیں کہ تین ماہ میں فیصلہ کیا جائے،

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ واحد سوال یہ ہے کہ سیکشن 20 کو کیوں نہ کالعدم قرار دیا جائے؟ اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ یہ عدالت کا اختیار ہے کہ وہ اسے غیر آئینی قرار دے،میرے خیال سے یہ غیر آئینی نہیں، قانون کا غلط استعمال کو دیکھنا ہے کہ اس کے کچھ سیف گارڈز ہونے چاہئیں، میرے ذہن میں ایک پلان ہے اور وزیراعظم سے بھی ملاقات ہوئی ہے 14 ہزار کیسز زیرالتوا ہونے کے باوجود مخصوص کیسز میں کارروائی مشکوک ہو جاتی ہے،میں نے وزیراعظم عمران خان سے خود ملاقات کی ہے، کسی کو ریپسٹ یا پیڈوفائل کہنا کہاں کا آزادی اظہار ہے اگر کوئی کسی پردہ نشین خاتون کو کہے کہ وہ جادو ٹونے کرتی ہے، چھت پر گوشت پڑا ہوا ہے کیا یہ آزادی اظہارِ رائے ہے،

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بیرون ممالک میں طنزیہ جملے کہے جاتے ہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ باہر کے دنیا میں اور یہاں کے کلچر میں بھی فرق ہے ،عدالت نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو یکجا ہوکر قانون بنانا چاہیے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ جس پارٹی نے یہ قانون بنایا اسی نے آج درخواست دائر کردی ،جہانگیر جدون ایڈووکیٹ نے کہا کہ ہم نے آج ہی درخواست دائر کردی، عدالت نے استفسار کیا کہ آپ کی درخواست کو یہ عدالت کیوں سنے؟
سیاسی جماعتیں اس فورم کا استعمال نہ کرے، جاکر پارلیمنٹ سے ختم کرے ، سیاسی جماعتیں پارلیمنٹ کے اندر جاکر قانون سازی کریں سینیٹ کے اندر اکثریت ہے وہاں جاکر قانون سازی کریں .وکیل پی ایف یو جے نےکہا کہ ان کا کوئی پتہ نہیں، پارلیمنٹ جاکر متفقہ طور پر قانون بنائے، اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ کیا کسی کے بیڈ روم کی ویڈیو جاری کرنا فریڈم آف سپیچ ہے؟ ایک خاتون رکن پارلیمنٹ کی تصاویر کو ایڈیٹ کیا گیا، کیا وہ فریڈم آف سپیچ ہے؟ آگر کسی کی بے ہودہ ویڈیو بناکر شئر کریں تو کیا ڈیفامیشن ہے ؟ عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے ابھی ایف آئی اے کو جاتے ساتھ پکڑنے اور پھر ٹرائل چلانے کا اختیار دیا، پھر آپ اسی سوشل میڈیا کے خلاف قانون لے آتے ہیں،یہی سیاسی جماعتیں اپنی سوشل میڈیا ٹیمز سے یہ سب کراتے ہیں، پھر سوشل میڈیا پر الزام کیوں لگایا جا رہا ہے،میرے خیال میں صرف جماعت اسلامی اس کا حصہ نہیں ہے، اس آرڈیننس میں پبلک باڈیز کی ساکھ بھی بچانے کی کوشش کی گئی ہے، آپ نے تو نیچرل پرسن کی تعریف کو بھی آرڈیننس میں تبدیل کر دیا ہے،اس عدالت کو عوام کے اعتماد کی پرواہ ہے، تنقید کی کوئی پرواہ نہیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایسا نہیں ہے کہ کسی نے تنقید کی تو وہ فوری گرفتار ہو جائے گا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ عدالت نہیں چاہے گی کہ غلط تنقید پر بھی کسی کو جیل بھیج دیا جائے، جتنا نقصان نیب اور اسکے قانون نے پہنچایا ہے اس کی تو کوئی مثال نہیں،

اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرڈیننس کے خلاف کیس میں جس عدالتی معاون نے جواب جمع کرایا پڑھ چکا ہوں، جس نے جواب جمع کرایا سب سے زیادہ ان کے دور حکومت میں آرڈیننس پاس کئے گئے،دونوں ہاؤسز سے ایک ساتھ قانون پاس کرنا مشکل ہوگا،عدالت نے استفسار کیا کہ ایف آئی اے نے محسن بیگ کے گھر جاکر چھاپہ کیوں مارا، کمپوٹر کیوں چیک کئے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ محسن بیگ کا معاملہ ٹرائل کورٹ میں چل رہا ہے، لاہور سے جو دو صحافیوں کو اٹھایا گیا وہ بھی بغیر نوٹس کے ہوا تھا،میں اسی لئے سیف گارڈ کا کہہ رہا ہوں تاکہ کوئی عامر میر یا عمران شفقت گرفتار نہ ہو،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ان دونوں کے کیس میں ایف آئی اے نے بتایا کہ انہوں نے تاریخ پر کوئی بات کی تھی جس پر شکایت موصول ہوئی،عدالت نے استفسار کیا کہ کیا اب کوئی تاریخ پر بھی بات نہ کرے ؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ تاریخ ہو یا کچھ اور، میں ایسے کسی گرفتاری کے حق میں نہیں،

عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ستر سالوں میں ہم وہ سب کچھ کیا جو اس ملک کو اس نہج پر لے ائے،اب ہم ڈر کیوں رہے ہیں کہ کوئی کسی کے خلاف کوئی بات بھی نہ کرے، جتنا اس فوجداری دفعات کا غلط استعمال ہوا شاید ہی کوئی اور ہو،
برطانیہ میں بادشاہت بچانے کے لیے فوجداری مقدمات شروع ہوئے تھے، اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ برطانیہ میں تو احتساب عدالتیں بھی نہیں ہیں،برطانیہ میں وزیراعظم کھا کر بھاگ تو نہیں جاتے،میں کسی کو ڈیفنڈ نہیں کررہا، اگر کوئی کر بھی رہا ہے تو غلط ہے،عدالت نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے آپ بیان حلفی جمع کرائے،آپ نے پبلک باڈیز کی ساکھ کو تحفظ دینے کی بھی کوشش کی ، آپ نے ایکٹ کو بہت ہی chilling کردیا، عدالت کا ایک ہی ٹیسٹ ہے اور وہ ہے لوگوں کا اعتماد ،اس عدالت کو کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ٹرینڈ کیا چل رہا ہے، عدالت نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ گرفتاری کا جو نقظہ ہے وہ نکال دیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ اگر اس نقطے کو نکال دے تو بچ کیا جاتا ہے، عدالت نے کہا کہ سب سے زیادہ نیب نے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کرکے لوگوں کو گرفتار کیا، ایک قومی ادارے کو صحافیوں، سیاسی کارکنان کے خلاف استعمال کیا گیا, یہ عدالت آپ کو کسی ویڈیو پر کچھ نہیں کہے گی ،سیاسی بیان بازی بارے اس عدالت کو بتائیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ اب ایف آئی اے کے ہاتھ کچھ رہا نہیں،عدالت نے کہا کہ بلال غوری نے کتاب سے ایک بات کہی اور ایف آئی اے نے اسے اٹھایا، یہ تمام آئینی ادارے لوگوں کو جوابدہ ہیں, لطیف کھوسہ نے کہا کہ پارلیمنٹ کا سیشن کو ختم کرکے آرڈیننس لایا گیا، اٹارنی جنرل نے لطیف کھوسہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے دور حکومت میں سب سے زیادہ 63 آرڈیننس جاری ہوئے،عدالت نے کہا کہ یورپی یونین عدالتوں کے فیصلوں پر سے عدالت کو معاونت کرے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ سیاسی بیان بازی، تقاریر پر یہ نہیں ہونا چاہیے،

عدالت نے کہا کہ کیا اپوزیشن کی شکایت پر ایف آئی اے حکومتی بندے کے خلاف کاروائی کرے گی ؟ لطیف کھوسہ نے کہا کہ روز چور ڈاکو کہتے ہیں، کوئی کاروائی نہیں ہوگی ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں اس کے بھی خلاف ہوں، نہیں کہنا چاہیے، عدالت نے کہا کہ جو بھی حکومت میں رہی ہے انھوں نے کبھی فریڈم آف پریس کو نہیں مانا، لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہمارے بڑے جگری ہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ سندھ میں سب سے زیادہ صحافیوں کو قتل کیا گیا،عدالت نے کہا کہ ایف آئی اے سیکشن 20 کو صرف وی لاگ پر کتاب کا حوالہ دینے پر ایپلائی کررہے، اجکل تو آپ لوگ صحافیوں کے سورسز تک پہنچ گئے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ صحافیوں سے ان کا سورس نہیں پوچھا جاسکتا اور نہ ہونا چاہیے،

عدالت نے کہا کہ پبلک باڈیر کا کونسا بنیادی حق ہے، اس ہائیکورٹ کا کونسا بنیادی حق ہے؟ جتنی بھی غلط تنقید ہو اس عدالت کو تو گھبرانا ہی نہیں چاہیے، یہ آرڈیننس آئین کے آرٹیکل 19 سے متصادم ہے، عدالت یہ پوچھ رہی ہے کیوں نہ اس قانون کو کالعدم کر دیں، حکومت کو یہ آرڈیننس جاری کرنے کی اتنی جلدی کیا تھی؟ کیا کوئی وزیراعظم کو کچھ کہتا ہے تو ایف آئی اے اسکو جا کر پکڑ لے گی؟ اس آئینی عدالت میں سیاسی باتیں نہ کریں، ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ عدالت نے آرٹیکل 19 کے ساتھ ساتھ آرٹیکل 14 بھی دیکھنا ہے،آپ پھر آج ہی ریاست کی طرف سے ایف آئی اے کے تمام کیسز کا دفاع کریں،ان افسران کے خلاف کیا کارروائی ہوئی جنہوں نے اختیارات کا غلط استعمال کیا؟ اظہار رائے پر قدغن کی وجہ سے آدھا ملک ہم سے چلا گیا، جہاں اظہار رائے کی آزادی نہیں وہاں ترقی ممکن نہیں ،یہ عدالت ایف آئی اے کو صرف پبلک آفس ہولڈر کو تحفظ کے لئے نہیں چھوڑے گی، اس عدالت نے بین الاقوامی سٹینڈرڈز آپ کے سامنے رکھیں ہیں، آپ کو کیا ضرورت ہے کہ آپ عدلیہ کی ساکھ کو تحفظ دے،اگر لوگوں کا ہم پر اعتماد ہوگا تو کسی کی دھمکیوں سے کچھ نہیں ہوگا،ہر بندے کو آئینی سے اظہارِ رائے کی آزادی کا حق حاصل ہے، اگر سیاسی جماعتوں کو سوشل میڈیا سے مسلہ تو خود اقدامات کرے، سیاسی جماعتیں بھی سوشل میڈیا کے غلط استعمال کو روکے ،

عدالت نے اٹارنی جنرل کو الاقوامی قوانین سے عدالت کو مطمئن کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ ایف آئی اے کا کیا ہوگا، وہ کہیں گے ایس او پیز کے تحت گرفتار کیا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں ایف آئی اے کو ڈیفنڈ نہیں کرونگا، اس عدالت کا آرڈر موجود ہے، وکیل پی ایف یو جے نے کہا کہ کینیا کی عدالت نے بھی اس حوالے سے فیصلہ دیا ہے ،عدالت نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی درخواستوں کو خارج کرتے ہیں، سیاسی جماعتیں اگر زمہ داری پوری کرے تو عدالتوں میں آنا ہی کہ پڑے،

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب آپکا بہت مشکل ٹاسک ہے، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ جی سر، بہت مشکل ہے، نظر آ رہا ہے، عدالت نے کہا کہ جو بھی پارٹی اقتدار میں رہی اس نے آزادی اظہار کو قبول نہیں کیا، جو یہاں صحافیوں کے ساتھ ہوتا رہا عدالت کیلئے حیران کن ہے،آپ صحافیوں کے سورسز تک بھی پہنچ گئے ہیں، لطیف کھوسہ نے کہا کہمحسن بیگ کے لیپ ٹاپ اٹھا کر لے گئے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ کم از کم ہم نے کسی صحافی کو مارا نہیں ہے، عدالت نے کہا کہ اگر آزادی اظہار رائے پر پابندی نہ ہوتی تو یہ ملک نہ ٹوٹتا، آپکو کیا ضرورت ہے کہ جوڈیشری کی ساکھ کی حفاظت کریں،جوڈیشری کی ساکھ اسکے فیصلوں سے محفوظ رہے گی،
لوگوں کا ہم پر اعتماد ہو گا تو پھر تنقید سے ڈرنے کی ضرورت نہیں، اس طرح کے قوانین سے کسی کی عزت نہیں بچتی، بادی النظر میں یہ آرڈیننس اور ہتک عزت کو فوجداری قانون میں ڈالنا آئین سے متصادم ہیں، اٹارنی جنرل صاحب آپ اپنے دلائل سے عدالت کو مطمئن کر لیں،کوئی کیس نہیں جس میں گرفتاری کا دفاع نہیں کیا جا سکتا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایک ہفتے کا وقت دیدیں آئندہ سماعت پر دلائل دونگا، عدالت نے کہا کہ اس دوران اگر ایف آئی اے نے کسی کو گرفتار کیا تو پھر کیا ہو گا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ پھر میں اس کا دفاع نہیں کر سکوں گا، اس عدالت نے ایف آئی اے کو گرفتاری سے روکا ہے آرڈر میں توسیع کر دیں، اس عدالت نے آرٹیکل 19 کے ساتھ ساتھ آرٹیکل 14 بھی دیکھنا ہے،عدالت نے کہا کہ آپ پھر آج ہی ریاست کی طرف سے ایف آئی اے کے تمام کیسز کا دفاع کریں ان افسران کے خلاف کیا کارروائی ہوئی جنہوں نے اختیارات کا غلط استعمال کیا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ڈی جی ایف آئی اے کو ترمیمی آرڈیننس پر کام نہ کرنے کا کہا ہے، عالت نے کہا کہ محسن بیگ کو اس ایف آئی آر میں گرفتار کرنے دیں پھر دیکھتے ہیں، عدالت نے کیس کی سماعت 10 مارچ تک کے لئے ملتوی کردی

پیکا قانون پر اٹارنی جنرل خالد جاوید نے پالیسی بیان دیدیا ،اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ قانون غیر قانونی نہیں،لیکن قانون کا غلط استعمال ہوتا ہے،قانون کے تحت منتخب پراسیکیوشن ہو رہی ہے، سیاسی تقریر پر کسی کیخلاف مقدمہ نہیں ہو گا

اسلام آباد ہائیکورٹ نے پیکا قانون کے خلاف سیاسی جماعتوں کی درخواستوں پر ریلیف دینے سے معزرت کرلی۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعتوں کی پارلیمنٹ میں نمائندگی ہے وہاں اپنا کردار ادا کریں، سیاسی نہ بنائیں، آپ اس معاملے کو سیاسی رنگ نا دیں۔ سیاسی جماعتیں یہ فورم استعمال نا کریں۔ جو اصل اسٹیک ہولڈرز( پی ایف یو جے)ہیں صرف ان کی درخواست پر سماعت ہو گی۔

قبل ازیں مسلم لیگ ن نے بھی پیکا ترمیمی آرڈیننس اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا ،مسلم لیگ ن کی درخواست میں پیکا ترمیمی آرڈیننس کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے ،عدالت میں دائر درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ آرڈیننس آئین سے متصادم ہے، کالعدم قرار دیا جائے،

قبل ازیں پاکستان بار کونسل کی جرنلسٹس ڈیفنس کمیٹی نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں (پیکا) ترمیمی آرڈیننس کو چیلنج کردیا۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ آرڈیننس کے تحت قانون سازی آئین کی روح کے منافی ہے ، پیکا ایکٹ اور ترمیمی آرڈیننس آئین کے تحت بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہے ۔

پیکا ایکٹ 2016 میں صدارتی آرڈیننس کے ذریعے ترامیم کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواستوں کی بھرمار، مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، پی ایف یو جے رانا عظیم گروپ، پی ایف یو جے بٹ گروپ، فرحت اللہ بابر سمیت دیگر درخواستیں عدالت میں دائر ہوئی ہیں، اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایف آئی اے اور پیکا ترمیمی آرڈیننس سے متعلق تمام کیسز یکجا کر دیئے گئے اسلام آباد ہائی کورٹ نے تمام کیسز یکجا کردیئے ،

فیک نیوز،جھوٹی خبروں پرپابندی کا قانون:آزادی رائے کے اظہارپرپابندی ہے:مریم نوازآرڈیننس پرسخت برہم 

پینڈورہ پیپرز،فیک نیوز کیخلاف قانون سازی کرنیوالے حکومتی اراکین فیک نیوز پھیلاتے رہے

فیک نیوز کیخلاف قوانین سخت ہوگئے تو عمران خان تقریر کرنی ہی بھول جائے گا،مائزہ حمید

جہانگیر ترین کو عدالت سے بڑی خوشخبری مل گئی

لاہور ہائیکورٹ نے جہانگیر ترین اور شریف فیملی کو دیا ایک ساتھ بڑا جھٹکا

میڈیا کو حکومت نے اشتہارات کی کتنی ادائیگیاں کر دیں اور بقایا جات کتنے ہیں؟ قائمہ کمیٹی میں رپورٹ پیش

نعیم بخاری و دیگر ڈائریکٹرز کی تعیناتی کے خلاف درخواست،وفاقی حکومت نے مہلت مانگ لی

اسلام آباد ہائیکورٹ میں سیکورٹی سخت،رینجرزتعینات،حملہ وکلاء کو عدالت نے کہاں بھجوا دیا؟

باقی یہ رہ گیا تھا کہ وکلا آئیں اور مجھے قتل کر دیں میں اسکے لیے تیار تھا،چیف جسٹس اطہر من اللہ

بے لگام وکلا نے مجھے زبردستی "کہاں” لے جانے کی کوشش کی، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

فیک نیوز، حکومت اور کھرا سچ، نہ کسی کا خوف نہ ڈر، مبشر لقمان نے حکومت کو آئینہ دکھا دیا

اکیسویں صدی،سوشل میڈیا کا ٹائم،کوئی بند نہیں کر سکتا،عمران خان کی 2017 کی ویڈیو وائرل

پیکا قانون میں آرڈیننس کے ذریعے ترمیم ،پی ایف یو جے عدالت پہنچ گئی

پیکا ایکٹ:عدالت نے گرفتاریوں سے روک دیا،اٹارنی جنرل کو معاونت کے لیے نوٹس جاری

پیکا ترمیمی آرڈیننس ،حکومتی اتحادی بھی وزیراعظم سے نالاں،ن لیگ کا بھی بڑا اعلان

پیکا ترمیمی آرڈیننس،وزیراعظم نے ایف آئی اے کو بڑا حکم دے دیا

Leave a reply