فیک نیوز، حکومت اور کھرا سچ، نہ کسی کا خوف نہ ڈر، مبشر لقمان نے حکومت کو آئینہ دکھا دیا

0
82

فیک نیوز، حکومت اور کھرا سچ، نہ کسی کا خوف نہ ڈر، مبشر لقمان نے حکومت کو آئینہ دکھا دیا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ خبریں تو بہت ہیں لیکن اس حکومت کے لیے مسئلہ نمبر ون میڈیا بنا ہوا ہے ۔ آج کی بھی خبریں اور وزراء کے بیانات صرف یہ ہی تھے کہ کیسے بے لگام میڈیا کو لگام ڈالی جائے ۔ یہ حکومت اپنی کارکردگی ، وزراء اور مشیروں کا احتساب کرنے کو تیار نہیں ۔ پر میڈیا کے ہاتھ پاوں باندھا اپنا اولین فرض سمجھتی ہے ۔

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ معیشت کو ٹھیک کرنے اور پاکستان کو پتہ نہیں کیا بنانے کے جو دعوے کیے جاتے ہیں اس کی حقیقت یہ ہے کہ حکومت کی اعلی کارکردگی سے ڈالر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح 170روپے کے قریب پہنچ گیا ۔ جس سے سٹاک مارکیٹ میں 1کھرب ڈوب گئے ہیں ۔ جی ہاں ایک کھرب روپے ۔ یہ وہ خبر ہے جو حکومت سمجھتی ہے کہ فیک نیوز ہے ۔ ایسے جب پیڑول ملکی تاریخ میں بلند ترین سطح پر پہنچ جاتا ہے تو حکومت سمجھتی ہے کہ یہ بھی فیک نیوز ہے ۔ بجلی آٹے چینی کی قیمتوں میں اضافے کو بھی حکومت فیک نیوز کی نظر دے دیکھتی ہے ۔ حقیقت اور کھرا سچ یہ ہے کہ یہ حکومت ہی فیک ہے۔ اس کے کنڑول میں نہ تو اس کے اپنے وزیر ہیں نہ ہی بیوروکریٹ ۔ اور مافیاز تو اس حکومت کو استعمال کرتے ہیں ۔
۔ ان کو کنٹرول کرنا اس حکومت کے بس میں نہیں یہ سچ آپ بتائیں گے تو آپکو غداری سے لے کر پٹواری جیالے سمیت پتہ نہیں کیا کیا طعنے دیے جائیں گے ۔ آپکو کہا جائے گا کہ آپ بھارت چلے جائیں ۔ آپ ایجنٹ ہیں۔ آپ بتائیں گے کہ ملک میں بے روزگاری ، مہنگائی اور کرائم بڑھ رہا ہے ۔ آپ کہیں گے کہ عثمان بزدار اورمحمود خان ٹکے کا کام نہیں کررہے۔ تو یہ اپنی سوشل میڈیا ٹیمیں آپکے پیچھے لگا دیں گے جو ہر سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر آپکو لعن طعن کریں گے ۔ یہ آپکو لفافہ کہیں گے ۔ یہ آپکو ننگی گالیاں دیں گے ۔ یہ آپکی ایسی کردار کشی کریں گے کہ آپ اپنی ہی نظروں میں گر جائیں گے ۔

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ مجھے یہ کہتے ہوئے رتی برابر بھی نہ خوف ہے نہ ڈر ہے کہ سوشل میڈیا کا سب سے پہلے اور سب سے زیادہ غلط استعمال پی ٹی آئی نے کیا۔ بلکہ باقی جماعتوں نے ان کی دیکھا دیکھی میڈیا سیل بنائے ۔ یہ واحد جماعت تھی جس نے کئی سال قبل برطانیہ، امریکہ ،سنگاپور اور یورپ میں خصوصی اور خفیہ سوشل میڈیا سیل قائم کئے تھے جو فیک اکائونٹس سے نقادوں کی کردار کشی کرتے رہے۔ ملک کے اندر مختلف اہم لیڈروں نے سوشل میڈیا کے اپنے اپنے سیٹ اپ بنائے ۔ جبکہ عمران خان اور پی ٹی آئی کی تنظیم کے سوشل میڈیا کے سیٹ اپس اس کے علاوہ تھے ۔ تو اگر یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی فیک ٹرولنگ سے مجھے کوئی فرق پڑے گا تو یہ غلطی پر ہیں ۔ مجھے معلوم ہے کہ سب سے زیادہ فیک نیوز حکومتی پارٹی خود پھیلاتی ہے ۔ میرا کام ہے یہ بتانا کہ لوگ کس حال میں زندگی گزار رہے ہیں ۔ کن مشکلات کا سامنا کررہے ہیں ۔ کن اذیتوں میں مبتلا ہیں ۔ اور میں اپنے کام سے پیچھے نہیں ہٹوں گا ۔ چاہے کسی کو اچھا لگے یا برا لگے ۔ آپ جا کر میری گزشتہ ویڈیوز دیکھیں لیں ۔ کمنٹس پڑھ لیں ساری کہانی آپکو معلوم ہوجائے گی ۔ میں نے اور میری ٹیم نے اس وقت نواز شریف اور آصف زرداری کے کرپشن اسکینڈلز سے لے کر بری گورننس کو ایکسپوز کیا جب وہ حکومت میں تھے ۔ ہم آج بھی کئی کیس اس دور کے بھگت رہے ہیں ۔ ہم پر حملے ہوئے ۔ ہم نوکریوں سے نکالے گئے ۔ لفافے لینے ہوتے تو نواز شریف سے زیادہ کون دے سکتا تھا ۔ میں نے اور میری ٹیم نے اکیلے مریم کے میڈیا سیل کو ٹکر دیے رکھی ۔ تو میں اور میری ٹیم ان سے نہیں ڈری تو یہ جو جھوٹی ٹرولنگ میری کی جارہی ہے ۔ یا مجھے اور میری ٹیم کو برا بھلا کہا جا رہا ہے ۔ میں ڈرنے والا نہیں ہوں میں سچ بولوں گا ۔ کیونکہ مجھے ہے حکم اذان

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ مالشیوں اور پالشیوں کی تو ہی دور میں ہی آؤ بھگت ہوتی ہے ۔ معذرت کے ساتھ میں یہ نہیں کروں گا ۔ یہ میں بتادوں کہ پاکستان میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی پاکستان کے میڈیا کے خلاف ایک بہت بڑی سازش ہے ۔ اگر یہ قانون بن گیا تواس کے بعد حکومت پر تنقید کرنا ناممکن ہوجائے گا۔ صرف اخبار نہیں اور الیکٹرونک چینلز نہیں بلکہ سوشل میڈیا کا کنٹرول بھی حکومت کے ہاتھ میں آجائے گا۔ اس کالے قانون کے لئے عمران خان اور ان کے ترجمان یہ بھونڈی دلیل دے رہے ہیں کہ وہ فیک نیوز کا خاتمہ چاہتے ہیں حالانکہ سب سے زیادہ فیک نیوز خود یہ حکومت پھیلارہی ہے ۔ شائد پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پہلی بارعوام نے یہ افسوسناک منظر دیکھا ہے کہ کسی وفاقی وزیر نے بے دریغ اور بلا جھجک الیکشن کمیشن آف پاکستان پر پیسے لینے کی سنگین تہمت عائد کی ہے۔ کیا وفاقی وزیر کے پاس ثبوت ہیں ۔ کیا یہ فیک نیوز نہیں ہے ۔ اپوزیشن سمیت سب عوام اس الزام پر ہل کر رہ گئے ہیں ۔ چنانچہ مطالبہ کیا جارہا ہے کہ حکومت اُس سیاسی جماعت کا نام بتائے جس نے الیکشن کمیشن کو بطورِ رشوت پیسے دیے ہیں۔ اس پرحکومتی وزیر کہتے ہیں کہ ہم کو بلیک میل کیا جا رہا ہے ۔ ہمارے خلاف میڈیا پر کمپین چلائی جارہی ہے ۔ سچ یہ ہے کہ گزشتہ تین سالوں میں آٹا ، چینی ، گھی ، بجلی ، دوائیوں ، پیٹرول مافیا پر اس حکومت کے بیانات اور فیک نیوز کی ایک داستان ہے جس پر اگرکوئی کتاب لکھنے بیٹھے تو صحفے کم پڑجائیں ۔ حکومت اگر فیک نیوز کا خاتمہ چاہتی ہے تو اس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ جن لوگوں کے خلاف ہتک عزت کے کیسز چل رہے ہیں ۔ قانون بنا دے کہ ان کا فیصلہ ایک ماہ کے اندر ہونا چاہئے ۔ آج بھی تمام حکومتی وزیر ڈھٹائی سے کہتے رہے کہ حکومت کو غلط خبر نشر ہونے پر صحافتی ادارے پر 25 کروڑ جب کہ صحافی پر ڈھائی کروڑ روپے تک جرمانے اور تین سال قید تک سزا دینے کا اختیار ہونا چاہیے ۔ سوال یہ ہے کہ آپ یہ پتہ کیسے لگائیں گے کہ فیک نیوز کونسی ہے؟ کیا فیک نیوز وہ ہوگی جسے حکومت کہہ دے کہ یہ فیک نیوز ہے۔ یعنی حکومت جسے سچ قرار دے، وہ ہی سچ ہو گا۔

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ویسے بھی کون سا صحافی ہے جو چاہے گا کہ وہ فیک نیوز دے ۔ اس ملک میں خبر کی حرمت کی خاطر صحافیوں نے صرف ماریں نہیں کھائیں اپنے گلے تک کٹوائے ہیں ۔ موجودہ حکومت کے دور میں میڈیا کی شکل بگاڑنے کی جو کوششیں کی گئی ہیں ۔ اُن سے کون واقف نہیں۔ کئی چینل و اخبارات سخت مالی دباؤ کا شکار ہوکر بند ہوگئے ہیں ہزاروں صحافی بے روز گار ہوگئے اور کئی ادارے مقروض ہوگئے۔ پاکستان صحافت کے حوالے سے عالمی رینکنگ میں 138ویں پوزیشن سے145ویں پوزیشن پر چلا گیا ہے ۔ سچ یہ ہے کہ اس حکومت نے خود ایک فیک نیوز کا بازار گرم کر رکھا ہے ۔ اس حکومت میں جو جتنا جھوٹ بولے ۔ جو جتنے اچھےطریقے سے مخالفین کو لتراڑے اس کو اتنا ہی اچھا عہدہ مل جاتا ہے ۔ اس حکومت نے چن چن کر بدتمیز ، اخلاق سے گری گفتگو کرنے والوں ، رنگ بازوں اور نااہلوں کی فوج کو جمع کر رکھا ہے ۔ جس کا کام بس روز دن میں دس دفعہ میڈیا پر آکر لوگوں کی کردار کشی کرنا ہے ۔یعنی جتنا لُچا اتنا اُچا۔ میڈیا پر اس قدر پابندیاں تو شاید ڈکٹیٹر شپ کے دور میں بھی نہیں لگی تھیں جتنی آج لگائی جا رہی ہیں ۔ لہٰذا حکومت، عمران خان اور پی ٹی آئی کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ حد سے آگے نہ بڑھے۔ کیونکہ نہ یہ حکومت صدا رہنے ہے ۔ نہ عہدے صدا رہنے ہیں ۔ نہ کرسی صدا رہنی ہے ۔ دراصل پی ٹی آئی کی حکومت اپوزیشن کے ساتھ ساتھ ملکی میڈیا پر بھی مکمل کنٹرول چاہتی ہے۔ اس خواہش کا عملی اظہار پی ٹی آئی نے حکومت سنبھالتے ہی کر دیا تھا۔ پچھلے تین برسوں کے دوران بھی خان صاحب کی حکومت ملکی میڈیا کو زیرکرنے اور اپنے ڈھب پر کرنے کی لاتعداد کوششیں کر چکی ہے۔ کئی صحافی اور میڈیا ورکرز لمبے حکومتی ہاتھوں کا ہدف بنے ہیں۔ یہ میڈیا ورکرز اور پریس کلبوں کے عزم کا بھی امتحان ہے۔ اپوزیشن کی ساری قیادت اور ملک کی نمایاں وکلا تنظیموں نے بھی میڈیا ورکرز کے اس احتجاج میں شرکت کرنے کا وعدہ کیا ہے ۔ دیکھتے ہیں یہ وعدہ کہاں تک ایفا ہوتا ہے ۔

Leave a reply