fbpx

گلوان وادی سے چینی فوج کیجانب سے نیو ایئر پر جاری ویڈیو نے بھارتیوں کو آگ بگولہ کردیا

گلوان وادی: چین نے منتازع علاقے میں نیو ایئر پر تقریب منقد کر کے بھارت کو نیا پیغام پہنچا دیا جس سے بھارتی آگ بگولہ ہوگئے-

باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق نئے سال کے پہلے ہی دن چین کے سرکاری میڈیا نے ایک ویڈیو جاری کی جس میں پیپلز لبریشن آرمی کے اہلکاروں کو متنازع علاقے گلوان وادی میں چین کا بڑا جھنڈا لہراتے اور مسلح فوجی اہکاروں قومی ترانہ پڑھتے دکھایا گیا ہے ویڈیو میں ایک پہاڑ بھی نظر آرہا ہے جس پر چینی زبان میں لکھا ہے ’’کبھی بھی ایک انچ زمین نہیں دیں گے‘‘

چین نے متنازع ہمالیائی خطے میں سرحد کے قریب کئی مقامات کے نئے نام رکھ لئے،بھارت کا الزام

چین کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو کے بعد سوشل میڈیا پر بھارتیوں نے چین اور مودی حکومت کے خلاف شدید غصے کا اظہار کیا جبکہ بھارتی میڈیا بھی پیپلز لبریشن آرمی کی ویڈیو پر سیخ پا نظر آیا۔

قبل ازیں بھارت نے الزام عائد کیا تھا کہ چین نے متنازع ہمالیائی خطے میں ان کی سرحد کے قریب کئی مقامات کے نئے نام رکھ لیا ہے بھارت کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ اروناچل پردیش ہمیشہ سے بھارت کا حصہ رہا ہے اور رہے گا وزارت خارجہ کے ترجمان اریندم باغچی نے کہا کہ اروناچل پردیش میں مختلف جگہوں کے نئے نام رکھنے سے اس کی حقیقت تبدیل نہیں ہوگی۔

اسرائیل کو مزید طاقتور کرنے کا امریکی منصوبہ :3ارب ڈالرسے زائد کے جنگی سامان کی…

چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لیجان نے کہا تھا کہ ‘جنوبی تبت چین کے تبت خومختار خطے میں ہے اور تاریخی طور پر چین کی حدود میں ہے’ اور نئے نام دینے کا فیصلہ چین کی خودمختاری کے سلسلے میں کیا گیا ہے چین کی وزارت شہری امور نے کہا تھا کہ زینگنان (جنوبی تبت) میں 15 جگہوں کے ناموں کو معیاری بنایا ہے اور مذکورہ علاقوں کے نام چینی میں رکھ دیئے گئے ہیں بھارت جس خطے کو اروناچل پردیش کا نام دیتا ہے، اسی خطے کو چین زینگنان کہتا ہے۔

فلسطینی بچوں کو تحفظ دو، ایمنسٹی انٹرنیشنل کا اسرائیل سے مطالبہ زورپکڑگیا

یاد رہے چین اور بھارت کے درمیان لداخ کا سرحدی تنازع کئی سال سے جاری جس میں جون 2020 میں مشرقی لداخ کی وادی گلوان میں اںڈیااورچین کےفوجیوں کے درمیان جھڑپ کے بعد مزید شدت آئی تھی۔ ان جھڑپوں میں چین کے 4 اور بھارت کے کم از کم 20 فوجی ہلاک ہوئے تھے جھڑپوں کے بعد چین کی افواج نے انیڈین کنٹرول کے کئی علاقوں پر قبضہ حاصل کر لیا تھا، جن میں گلوان وادی، ڈیسپانگ اور ہاٹ سپرنگ جیسے اہم مقامات شامل تھے۔

چینی میڈیا اس سے قبل بھی مختلف ویڈیوز جاری کر چکا ہے جس میں کبھی بھارتی فوج کے اہلکاروں اور افسران کی درگت بنتے تو کبھی گرفتاریاں دیتے دکھایا گیا ہے-

لاک ڈاون برطانوی ماہرین کے لیے سونے کی چڑیا ثابت ہوا

واضح رہے کہ انڈیا اور چین کا سرحدی تنازع بہت پرانا ہے اور سنہ 1962 کی جنگ کے بعد یہ مزید پیچیدہ ہو گیا ہے انڈیا اور چین کے درمیان 3 ہزار 488 کلومیٹر کی مشترکہ سرحد ہے۔ یہ سرحد جموں وکشمیر، ہماچل پردیش، اتراکھنڈ، سکم اور اروناچل پردیش میں انڈیا سے ملتی ہے اور اس سرحد کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے مغربی سیکٹر یعنی جموں و کشمیر، مڈل سیکٹر یعنی ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ اور مشرقی سیکٹر یعنی سکم اور اروناچل پردیش۔

بھارت کی تقسیم کا وقت آگیا:خالصتان ریفرنڈم کا ساتواں مرحلہ آج برطانیہ میں شروع…

بہر حال انڈیا اور چین کے درمیان سرحد کی مکمل حد بندی نہیں ہوئی اور جس ملک کا جس علاقے پر قبضہ ہے اسے ایل اے سی کہا گیا ہے تاہم دونوں ممالک ایک دوسرے کے علاقے پر اپنا علاقہ ہونے کا دعویٰ کرتے رہے ہیں جو کشیدگی کا باعث بھی رہا ہے۔

انڈیا مغربی سیکٹر میں اکسائی چین پر اپنا دعویٰ کرتا ہے لیکن یہ خطہ اس وقت چین کے کنٹرول میں ہے سنہ 1962 کی جنگ کے دوران چین نے اس پورے علاقے پر قبضہ کر لیا تھا دوسری جانب چین مشرقی سیکٹر میں اروناچل پردیش پر اپنا دعویٰ کرتا ہے چین کا کہنا ہے کہ یہ جنوبی تبت کا ایک حصہ ہے چین تبت اور اروناچل پردیش کے مابین میک موہن لائن کو بھی قبول نہیں کرتا ہے۔

مصدقہ اطلاعات ہیں کہ چین فوجیوں کو دماغی مفلوج کرنے کی ٹیکنا لوجی پر کام کر رہا…