کرونا لاک ڈاؤن، مودی کے بھارت میں خواتین اور بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں کمی نہ آ سکی

کرونا لاک ڈاؤن، مودی کے بھارت میں خواتین اور بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں کمی نہ آ سکی

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کرونا وائرس لاک ڈاؤن کے باوجود بھارت میں خواتین اور بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں کوئی کمی نہیں آئی

دہلی خواتین کمیشن نے انکشاف کیا کہ اگرچہ جرائم میں کمی ہوئی ہے لیکن خواتین اور بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں کوئی کمی نہیں ہوئی، کرونا وائرس کی وجہ سے ملک بھر میں لاک ڈاؤن ہے ، دفعہ 144 نافذ ہے اسکے باوجود روزانہ خواتین ہیلپ لائن کو زیادتی کی تقریبا 1400 کالز موصول ہو رہی ہیں جن میں زیادتی کی شکایت درج کروائی جاتی ہے

دہلی خواتین کمیشن کے مطابق چوری، گھریلو تشدد، ڈکیتی کی وارداتوں میں 90 فیصد کمی آئی ہے لیکن حیران کن طور پر خواتین اور بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات میں ذرا بھی کمی نہیں آئی، اسی طرح کے واقعات ہو رہے ہیں بلکہ یہاں تک کہ ہسپتال میں داخل مریضہ کے ساتھ بھی زیادتی کی گئی اور یہ ایک واقعہ نہیں کئی ایسے واقعات رونما ہو چکے ہیں جہاں مریضہ کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے،

دہلی خواتین کمیشن کو 26 سے 31 مارچ کے دوران زیادتی کے کیسز کی سب سے زیادہ شکایات موصول ہوئیں، دہلی خواتین کمیشن کا خواتین ہیلپ لائن 24 گھنٹے کام کر رہا ہے، وہاں آنے والی کالز کا ریکارڈ درج کر متعلقہ پولیس کو اطلاع دی جاتی ہے اور کرائم برانچ کے ذریعے ملزمان کے خلاف کاروائی کی جاتی ہے.

بھارت میں دو ڈاکٹروں نے 25 سالہ لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنا دیا، مریضہ کو اسقاط حمل کے عمل سے گزرنے کے بعد اسپتال لایا گیا تھا، پولیس نے دونوں ملزمان کو حراست میں لے لیا۔

بھارت میں جنسی بے راہ روی خطرناک حد تک بڑھ گئی، مسیحاؤں نے اپنے مقدس پیشے کا بھی خیال نہ کیا، کورونا وائرس کی 25سالہ مبینہ مریضہ کو زیادتی کرکے قتل کرڈالا، پولیس نے دونوں ڈاکٹروں کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کرلیا۔بھارت کے ضلع گایا کے ایک اسپتال میں25سالہ لڑکی کے ساتھ زیادتی کا واقعہ پیش آیا ہے, متاثرہ لڑکی کو کرونا وائرس کے شبے میں آئسولیشن وارڈ میں رکھا گیا تھا۔

اسپتال میں کچھ دن قیام اور ٹیسٹوں کے بعد اس بات کی تصدیق ہو گئی کہ لڑکی کرونا وائرس سے متاثرہ نہیں ہے تاہم افسوسناک طور پر لڑکی کا انتقال ہوگیا کیونکہ اسے اسقاط حمل کے عمل سے گزرنے کے بعد اسپتال لایا گیا تھا اور وہ جنسی زیادتی کی وجہ سے مزید تکلیف نہیں سہہ پائی تھی۔

واضح رہے کہ بھارت میں سنگ پریوار کی ذیلی تنظیم بی جے پی کی حکومت آنے کے بعد خواتین کے ساتھ زیادتی کے واقعات بڑھ گئے ہیں۔ شیوسینا، آرایس ایس اور دیگر شدت پسند تنظیموں نے کشمیریوں سمیت دیگر اقلیتوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا۔ بھارتی فوج میں سات ہزار خواتین کی اکثریت کو زیادتی اور ہراساں کرنے کا نشانہ بنایا گیا اورتو اور بھارت کے سادھو اور سنت بھی بچیوں اور خواتین کو زیادتی کا نشانہ بنانے میں پیچھے نہیں رہے۔

واٹس ایپ کے ذریعے فحش پیغام بھیجنے والا ملزم ہوا گرفتار، کئے ہوش اڑا دینے والے انکشاف

شادی سے انکار، لڑکی نے کی خودکشی تو لڑکے نے بھی کیا ایسا کام کہ سب ہوئے پریشان

بھارت میں ہزاروں بچیوں کو زیادتی کا نشانہ بناکر قتل کردیاگیا۔ بھارت میں بچیوں، لڑکیوں اور خواتین سے زیادتی وبا کی شکل اختیار کرگئی۔ ایک ارب بیس کروڑ کی آبادی کے بھارت میں کشمیری ہوں، دلت یا کوئی اور کسی ماں، بہن اور بیٹی کی عزت محفوظ نہیں ہے.

بھارت میں آنے والے سیاحوں اور دیگر غیرملکی خواتین سے زیادتی اور قتل کے واقعات بھی پیش آ چکے ہیں جس کے بعد بھارت کو سیاحوں کے لئے غیر محفوظ ملک قرار دیا گیا ہے.،

ایک رپورٹ کے مطابق 17 برس پہلے کے مقابلے میں بھارت میں زیادتی کی شرح دگنی ہوگئی ہے۔ 2001 سے 2017 تک بھارت میں چار لاکھ، پندرہ ہزار سات سو چھاسی لڑکیوں اور خواتین سے زیادتی کی گئی۔ زیادتی کے واقعات میں ایک سو تین فیصد کا اضافہ ہوا۔

شوہرکے موبائل میں بیوی نے دیکھی لڑکی کی تصویر،پھر اٹھایا کونسا قدم؟

خاتون پولیس اہلکار کے کپڑے بدلنے کی خفیہ ویڈیو بنانے پر 3 کیمرہ مینوں کے خلاف کاروائی

جنسی طور پر ہراساں کرنے پر طالبہ نے دس سال بعد ٹیچر کو گرفتار کروا دیا

غیر ملکی خاتون کے سامنے 21 سالہ نوجوان نے پینٹ اتاری اور……خاتون نے کیا قدم اٹھایا؟

بھارتی حکومت کے ادارے نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو (این سی آر بی) کی جانب سے گزشتہ برس ماہ نومبر میں جاری رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ بھارت میں ہر 15 منٹ میں ایک خاتون کا ریپ کیا جاتا ہے جبکہ 2017 کی رپورٹ کے مطابق بھارت بھر میں خواتین کے خلاف تشدد، ریپ، ان پر تیزاب سے حملے، انہیں ہراساں کرنے سمیت دیگر صنفی تفریق کے واقعات میں اضافہ ہوگیا اور گزشتہ برس 2016 سے زیادہ جرائم ریکارڈ کیے گئے

بیوی طلاق لینے عدالت پہنچ گئی، کہا شادی کو تین سال ہو گئے، شوہر نہیں کرتا یہ "کام”

50 ہزار میں بچہ فروخت کرنے والی ماں گرفتار

ایم بی اے کی طالبہ کو ہراساں کرنا ساتھی طالب علم کو مہنگا پڑ گیا

تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

رپورٹ میں بتایا گیا کہ سال 2017 میں مجموعی طور پر بھارت بھر میں خواتین کے خلاف جرائم و تشدد کے 3 لاکھ 60 ہزار سے زائد کیسز رجسٹرڈ ہوئے، جن میں سے زیادہ تر ریپ کے کیسز تھے۔ صرف 2017 میں بھارت بھر میں 3 لاکھ 30 ہزار سے زائد خواتین کا ریپ اور گینگ ریپ ہوا، بھارت میں ہر 15 منٹ میں ایک خاتون کا ’ریپ‘ اور ہر ایک دن بعد کسی خاتون کا گینگ ریپ کیا جاتا ہے۔

فحاشی کے اڈے پر چھاپہ، پولیس کو ملیں صرف خواتین ،پولیس نے کیا کام سرانجام دیا؟

جادو سیکھنے کے چکر میں بھائی کے بعد ملزم نے کس کو قتل کروا دیا؟

پولیس کا ریسٹورنٹ پر چھاپہ، 30 سے زائد نوجوان لڑکے لڑکیاں گرفتار

واٹس ایپ پر محبوبہ کی ناراضگی،نوجوان نے کیا قدم اٹھا لیا؟

غیرت کے نام پر سنگدل باپ نے 15 سالہ بیٹی کو قتل کر دیا

بھارت بھر میں 6 منٹ کے اندر کوئی نہ کوئی خاتون بدسلوکی، ہراسانی اور تشدد کا شکار بنتی ہے جب کہ ہر پانچ منٹ کسی نہ کسی خاتون کو شوہر، سسر یا دیگر اہل خانہ نشانہ بناتے ہیں، اسی طرح ہر ڈھائی دن بعد بھارت میں کسی نہ کسی خاتون پر تیزاب سے حملہ کردیا جاتا ہے جب کہ ہر 2 گھنٹے بعد کسی نہ کسی خاتون کا ریپ یاگینگ ریپ کیے جانے کی ناکام کوشش کی جاتی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.