کرونا وائرس، بیرون ممالک میں مقیم کتنے پاکستانی جان کی بازی ہار چکے؟

کرونا وائرس، بیرون ممالک میں مقیم کتنے پاکستانی جان کی بازی ہار چکے؟

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چین سے پھیلنے والے کرونا وائرس نے دنیا بھر میں تباہی مچا رکھی ہے، کرونا وائرس لاک ڈاؤن کی وجہ سے بیرون ممالک مین پاکستانی پھنسے ہوئے ہیں جنکو واپس لانے کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں، پی آئی اے خصوصی پروازیں چلا رہی ہے تا ہم دفتر خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ بیرون ممالک میں 138 پاکستانی کرونا وائرس کی وجہ سے جان کی بازی ہار چکے ہیں

ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی کا کہنا ہے کہا کہ کورونا کے باعث جاں بحق ہونے والوں کی قومیت بارے ڈیٹا اکٹھا کرنا مشکل ہے، زیادہ تر ممالک جاں بحق ہونے والوں کی قومیت سے آگاہ نہیں کرتے، جاں بحق ہونے والے پاکستانیوں کی تعداد غیر رسمی طور پر اکٹھی کی گئی۔ جاں بحق ہونے والے پاکستانیوں میں زیادہ تر امریکا، فرانس اور اٹلی میں مقیم تھے

واضح رہے کہ بیرون ملک پاکستانیوں کی وفات پر وزیراعظم عمران خان، شہباز شریف، مولانا فضل الرحمان سمیت دیگر نے افسوس کا اظہار کیا ہے

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کی وجہ سے بیرون ملک پاکستانیوں کی موت پر افسوس ہے، مریضوں کی صحتیابی کے لئے دعا گو ہوں

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ بیرون ملک بسنے اور کام کرنے والے لاتعداد پاکستانیوں کی کرونا کے باعث اموات کی اطلاع پر میں بےحد رنجیدہ ہوں۔ بہت سے تو وباء کیخلاف عالمی جنگ کے دوران اگلے مورچوں پر لڑتے لڑتے موت کی آغوش میں چلے گئے۔ میری تمام تر دعائیں اور ہمدردیاں انکے اہل خانہ کے ساتھ ہیں

قیدیوں کی رہائی کیخلاف درخواست پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آ گیا، بڑا حکم دے دیا

کابینہ کے 49 ارکان کا مطلب،وزیراعظم کچھ جانتا ہی نہیں،حکومت یہ کام نہیں کر سکتی تو سرینڈر کر دے، سپریم کورٹ

مبینہ طور پر کرپٹ لوگوں کو مشیر رکھا گیا، از خود نوٹس کیس، چیف جسٹس برہم، ظفر مرزا کی کارکردگی پر پھر اٹھایا سوال

غیر منتخب افراد وزیراعظم کے معاون خصوصی کیوں؟ عدالت میں درخواست دائر

حکومت کے چوتھے عالمی اقدام کو کامیابی ملی،عمران خان مبارکباد کے مستحق، وزیر خارجہ

وزیر اعظم عمران خان کی جی 20 ممالک ،آئی ایم ایف اورورلڈ بینک کے اقدامات کی تعریف

حکومت پاکستان کی ہدایات پر بیرون ممالک پھنسے پاکستانیوں کی وطن واپسی کیلئے پی آئی اے کی خصوصی پروازیں جاری ہیں۔

وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی ہدایت پر بیرونِ ممالک میں پھنسے ہو ئے پاکستانیوں کی وطن واپسی کے لئے خصوصی اقدامات کئے گئے ہیں۔ حکومت پاکستان اور خاص طور پر وزیر ِ اعظم عمران خان صورتحال کی ذاتی طور پر نگرانی کر رہے ہیں ،موجودہ تکلیف دہ صورتحال میں مشکلات کا شکار سمندر پار پاکستانیوں کی بھرپور امداد کا فیصلہ کیاگیا ہے۔

پی آئی اے کا عملہ موذی وائرس کے خطرے کے باوجود اس مشکل صورتحال میں صف اول کا کردار ادا کر رہا ہے۔ وزیر ہوابازی غلام سرور خان کی کوششوں سے وطن واپسی کے خواہشمند پاکستانیوں کے لئے خصوصی پروازیں چلانی ممکن ہو ئیں۔ پی آئی اے نے بیرونِ ممالک پھنسے ہو ئے پاکستانیوں کی واپسی کے لیے پاکستان نے4اپریل سے اپنی فلائٹس کا آغاز کیا ،محدود پیمانے پر اسلام آباد کو ائیر ٹریفک کے لئے کھولا گیا اور پی آئی اے پر مسافروں کی تعداد کے حوالے سے پابندیاں عائد کر دی گئیں۔

یہ اَمر قابلِ ذکر ہے کہ وطن واپسی کے لئے پرواز کرنے والی پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائنز(PIA)کی اکثر فلائٹس یکطرفہ پرواز ہوتی ہیں۔ جہاز کے عملے اور مسافروں کو قرنطینہ کے مقرر شدہ بین الاقوامی قواعد و ضوابط کے مطابق آپریٹ کیا جاتا ہے۔ یوں مسافروں کی تعداد ایک خاص حد سے آگے نہیں جا سکتی۔

حریم شاہ کی دبئی میں کر رہے ہیں بھارتی پشت پناہی، مبشر لقمان نے کئے اہم انکشاف

حریم شاہ کو کریں گے بے نقاب، کھرا سچ کی ٹیم کا بندہ لڑکی کے گھر پہنچا تو اسکے والد نے کیا کہا؟

مبشر صاحب ،گند میں نہ پڑیں، ایس ایچ او نے حریم شاہ کے خلاف مقدمہ کی درخواست پر ایسا کیوں کہا؟

حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

محدود اندازے کے مطابق 35ہزار کے لگ بھگ پاکستانی وطن واپسی کے خواہشمند ہیں۔ وطن واپسی پر مسافروں کو 48گھنٹے تک قرنطینہ کیا جائیگا،تمام مسافروں کو ٹیسٹنگ کے مرحلے سے گزرنا ہو گا۔ جن کے ٹیسٹ مثبت آئیں گے اُنھیں ہسپتال میں رکھا جائے گا ،وطن واپسی کے لئے بیرون ملک مقیم پاکستانی سفارت خانے سے فی الفور رابطہ کریں

بیرونی ممالک میں پاکستان کے سفیر اور ہائی کمیشنر، پھنسے ہوئے مسافروں کی ترجیحی فہرست ترتیب دینے کے ذمہ دار ہیں۔ اس ضمن میں متعلقہ اداروں اور بیرونِ ملک پاکستانی سفارتخانوں کو مربوط، جامع اور قابلِ عمل ہدایات جاری کر دی گئیں ہیں۔ موزی وائرس سے جنگ میں مصروف ڈاکٹرز، طبی عملہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سول انتظامیہ سمیت تمام متعلقہ حکام کی شب و روز کاوشوں کے نتیجے میں ٹیسٹنگ اور قرنطینہ کے انتظامات میں اضافہ کیا گیا جس کے باعث مزید پاکستانیوں کی وطن واپسی ممکن ہو سکی ہے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.