آئمہ و خطباء نے جمعۃ المبارک کے اجتماعات میں کشمیریوں پر بھارتی مظالم کی مذمت کی

تاریخ: 05-02-2021
لاہور( )تحریک لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیک وسلم اور تحریک صراط مستقیم کی اپیل پر پاکستان اور آزاد کشمیر میں ”یوم یکجہتی کشمیر“ منایا گیا۔ آئمہ و خطباء نے جمعۃ المبارک کے اجتماعات میں کشمیری مسلمانوں پر ہونے والے بھارتی مظالم کی مذمت کی اور مسلمانوں پر اپنے مظلوم بھائیوں کی مدد کے لیے جو ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، انہیں موضوع بنایا۔ نیز ایک قرار داد کے ذریعے حکومت پاکستان سے اخلاقی اور سفارتی مدد سے بڑھ کر کشمیریوں کی عملی مدد کا مطالبہ کیا گیا اور نماز جمعہ کے بعد مختلف شہروں میں ریلیاں نکالیں گئیں۔ لاہور میں تحریک لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیک وسلم اور تحریک صراط مستقیم کے بانی ڈاکٹر محمدا شرف آصف جلالی، تحریک لبیک یارسول اللہ صلی اللہ علیک وسلم ضلع لاہور کے امیر علامہ محمد فیاض وٹو جلالی، تحریک صراط مستقیم ضلع لاہور کے امیر علامہ محمد صدیق مصحفی جلالی اور جلالیہ علماء کونسل کے امیر علامہ محمد حنیف حسینی جلالی کی قیادت میں قائد اعظم انٹر چینج سے جلو موڑ  (واہگہ بارڈر) تک ”کشمیر بزور شمشیر مارچ“ کے ٹائٹل کے تحت عظیم الشان مارچ کیا گیا۔ مارچ میں شرکاء کی کثیر تعداد نے شرکت کی اور ”اللہ اکبر“، ”لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیک وسلم“، ”الجہاد الجہاد لبیک لبیک“، ”کشمیر بنے گا پاکستان“ کے نعروں کے علاوہ بھارتی فوج کے خلاف اور کشمیریوں کے حق میں نعرہ بازی کی۔ ”کشمیر بزور شمشیر مارچ“ سے خطاب کرتے ہوئے تحریک لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیک وسلم کے سربراہ ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی نے کہا: کشمیری حُرّیت پسندوں کی جدو جہد سے پورے بھارت میں ایک بیداری آ چکی ہے۔ کشمیریوں نے کشمیر بزور شمشیر کے راستے میں ہزاروں جانیں قربان کی ہیں۔ کشمیر ہرگز کسی ملاقات، یاداشت، مذاکرات اور قرارداد سے نہیں، ان شاء اللہ جہاد سے آزاد ہوگا۔ بھارت کشمیر میں وہی داستان ظلم رقم کر رہا ہے جو اسرائیل نے فلسطین میں کی ہے۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی جائیدادیں ہتھیا کر وہاں ہندوؤں کو آباد کر رہا ہے۔ بھارت کے ہاتھ سے اپنی شہ رگ چھڑانے کے لیے پاکستان کو فوری دلیرانہ فیصلہ کرنا ہوگا۔ مودی مائنڈ سیٹ کی جارحیت کے مقابلے امن کی تجویز خودکشی کے مترادف ہے۔ بھارت سے مذاکرات کی بھیک مانگنا قومی وقار کے خلاف ہے۔ بھارت کے جنگی جنون کا علاج پاک فوج ہی کر سکتی ہے۔ مارچ میں علامہ محمد مظہر اقبال نورانی، علامہ محمد وقار نقشبندی، مفتی محمد حذیفہ جلالی، قاری محمد اصٖغر ترابی،مولانا محمد نعمان آصفی، علامہ محمد عظمت علی جلالی، مولانا حبیب اللہ جلالی و دیگر نے شرکت کی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.