اسلامی معاشرے میں عورت کا کردار

0
42

اسلام ایک دین فطرت ہے اور ا س کا پیغام کسی ایک خطے یا قبیلے کے لئے نہیں بلکہ پُوری دنیا میں بسنے والے لوگوں کے لئے ہے یہی وجہ ہے کہ امن س اسلام سے وابستہ لوگ دنیا کے ہر شہر ہر خطے میں موجود ہیں اور رنگ و نسل کی تمیز اور زبان و ثقافت کے امتیاز سے بے نیاز ہو کر کلمہ توحید کے دائرہ اسلام میں اسیر ہیں اسلامی معاشرہ میں مرد و زن کے حقوق و فرائض میں بہت توازن ہے اور اسلام دنیا کا واحد مذہب ہے جس نے عورتوں کو معاشرہ میں نہایت باعزت اور ممتاز مقام فراہم کیا ہے اسلامی معاشرہ کی تشکیل میں عورت نہایت اہم کردار ادا کرتی ہے معاشرہ میں عورت کے چار بنیادی رُوپ ہیں ماں بہن بیٹی اور بیوی

ماں کی حیثیت سے عورت معاشرہ میں نہایت اہم اور ذمہ دار کردار ادا کر سکتی ہے یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کیہ آج کے بچے کل معاشرہ کی باگ دور سنبھالیں گے آنیوالے کل کے لئے آج ماں ہی تو بچے کی اچھی تربیت کر سکتی ہے کیونکہ بچے کا ذہن شفاف آئینے کی طرح ہوتا ہے گھر کا ماحول اس آئینہ میں نقش و نگار ابھارتا ہے اب اگر ماں بچے کی پرورش اور اس کی تربیت اسلامی تعلیمات کی روشنی میں کرتی ہے تو یہ بچہ بڑا ہو کر اسلامی معاشرے کی تشکیل میں اپنا بھر پور کردار ادا کریگا اس موقع پر حضرت اسماء بنت ابو بکر کا واقع ذہن میں آتا ہے کہ حضرت عبداللہ بن زبیر کے کطھ ساتھی باطل کے خلاف جنگ کرتے ہوئے شہید ہو گئے تو آپ اس صورتحال سے بڑے دل برداشتہ تھے انہوں نے اپنی والدہ حضرت اسماء بنت ابو بکر سے مشورہ مانگا تو ماں نے کہا بیٹے اپنی جنگ جاری رکھو کیونکہ تم حق پر ہو اور اگر حق کے لئے لڑتے ہو تو اب بھی اپنے جنگ جاری رکھو کیونکہ تمہارے ساتھیوں نے حق کے لئے جان دی ہے اور اگر جاہ طلبی کے لئے لڑتے رہے ہو تو تم سے برا کون ہو گا جو خود کو بھی ہلاکت میں ڈالے اور اپنے ساتھیوں کو بھی اگر یہ عذر ہے کہ حق پر ہو اور ساتھیوں کی علیحدگی سے دل برداشتہ ہو گئے ہو تو یاد رکھو مومن کا یہ شیوہ نہیں یوں بھی موت کا وقت متعین ہے اور حق پر جان دینا دنیا کی زندگی سے ہزار درجے بہتر ہے عبداللہ بن زبیر نے کہا ماں بنو امیہ میری لاش کی بے حُرمتی کریں گے اور سولی پر لٹکا دیں گے ماں نے جواب دیا بیٹا بکری کو ذبح کرنے کے بعد بکری کی کھال کو کھینچنے سے تکلیف نہیں ہوتی جاؤ اور خدا سے مدد مانگو اور اپنا فرض پورا کرو جب حضرت عبداللہ بن زبیر بڑی بہادری اور جرات مندی سے لڑتے شہید ہو گئے تو مخالفوں نے ان کی لاش سولی پر لٹکا دی کئی دن بعد ماں کا ادھر سے گزر ہوا تو بیٹے کی لاش کو سولی پر لٹکا دیکھ کر کہنے لگیں ارے یہ شہسوار ابھی تک سواری سے نہیں اترا اس وقعہ سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ماں کی تربیت کے نتیجے میں اولاد حق کی راہ میں جان دے کر تاریخ میں زریں باب کا اضافہ کر سکتی ہے نبی پاک نے اولاد کی تربیت کے لئے ماں کو بڑے انعام و اکرام سے نوازنے کا وعدہ فرمایا ہے اس کے قدمون کے نیچے جنت بنا دی ہے اس کے بدلے میں اسے بچے کی تربیت کا ذمہ دار قرا دیا

عورت بہن کی حیثیت سے بھی معاشرے کو سنوارنے میں اپنا کردار ادا کر سکتی ہے کیونکہ گھر میں بڑی بہن کی حیثیت ماں کے بعد ہوتی ہے اور اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کی تربیت میں اہم حصہ ادا کر سکتی ہے تاریخ میں کئی ایسے واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں جن میں بہن نے بھائی کے شانہ بشانہ اہم کردار ادا کیا جیسا کہ محترمہ فاطمہ جناح انہوں نے کتنی بڑی نازک صورتحال میں اپنے بھائی قائداعظم کا ساتھ دے کر انہیں بڑا حوصلہ اور ہمت عطا کی

بیوی کی حیثیت سے عورت اسلامی معاشرہ کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتی ہے اسکا اندازہ حضرت خدیجۃالکبری رضی اللہ تعالی و عنہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی و عنہ کے پاکیزہ اور تاریخ ساز کرداروں سے لگایا جا سکتا ہے

آج بھی ہمارے معاشرے میں لاکھوں خواتین اپنے بوڑھے والدین اور چھوٹے بہن بھائیوں کی کفالت کا اہم کا سر انجام دے رہی ہیں یہی نہیں بلکہ زندگی کے مختلف شعبوں میں عورت پردے میں رہ کر بھی اپنی ذمہ داریوں کو بحسن و خوبی پُورا کر رہی ہیں عہد رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں بھی عورت نے جنگوں میں زخمیوں کی خدمت کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ یہ صنف نازک میدان جنگ میں بھی خدمات انجام دے سکتی ہیں عہد حاظر میں تعلیم اور نرسنگ کے پیشے میں خواتین بے پناہ خدمات انجام دے رہی ہیں

Leave a reply