fbpx

جس ڈاکٹر کا سرٹیفیکٹ لگایا وہ امریکہ میں اور نواز شریف لندن میں،عدالت کے ریمارکس

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف کی سزا کے خلاف اپیل پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی

دوران سماعت جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا نواز شریف کو اشتہاری قرار دے دیا گیا ہے؟ اگر اشتہاری قرار دے دیا گیا ہے تو نواز شریف کی عدالتوں میں زیر التوا درخواستوں پر کیا اثر ہوگا، جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ اشتہاری قرار دیئے جانے کا اس عدالتی کارروائی پر اثر نہیں پڑے گا،

عدالت نے کہا کہ پرویز مشرف کیس میں عدالت قرار دے چکی مفرور کو سرنڈر سے قبل نہیں سنا جاسکتا، جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ کیس کو سننے سے پہلے اپنے آپ کو سرنڈر کرنا لازمی ہے، جسٹس عامر فاروق، خواجہ حارث اور جہانزیب بھروانہ کے درمیان مختلف کیسسز کے حوالے دیئے گئے، جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ مجھے لگ رہا ہے جہانزیب بھروانہ آج اچھی طرح تیاری کرکے آئے ہیں،

جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ نواز شریف 6 سے 7 ماہ ہسپتال داخل نہیں ہوئے، مریض ہسپتال ہو تو صورت حال مختلف ہوتی ہے،مریض ہسپتال نہ ہو تو عدالت فرض کر لیتی ہے،

جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیاکہ کیا نواز شریف کسی ہسپتال میں ایڈمٹ ہیں،جس پر نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ فی الوقت ایڈمٹ نہیں ہیں، جس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جس ڈاکٹر کا آپ نے سرٹیفیکٹ لگایا ہے وہ امریکہ میں ہے، اور نواز شریف لندن میں،

عدالت نے کہا کہ نواز شریف کو پہلے مفرور قرار دیتےہیں پھر اپیل سن لیتے ہیں،عدالت نے استفسار کیا کہ نواز شریف کی اپیل پر وفای حکومت کا کیا موقف ہے جس پر وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا کہ نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس نامکمل ہیں،پنجاب حکومت نواز شریف کی ضمانت مسترد کرچکی،

جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ وفاق سے پوچھ لیتے ہیں کہ گزشتہ سماعت پر عدالت نے وفاق رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا تھا،ماضی میں ایسے فیصلے دیئے جا چکے ہیں، ہم نے بھی دیئے ہیں،جہاں تک اپیل کا تعلق ہے، ہم نہیں کہہ رہے کہ ہم اپیل خارج کر رہے ہیں،نواز شریف کے 4 ہفتے گزشتہ سال دسمبر میں ختم ہوئے تھے، کیا وفاق نے فالواپ کیا ہے کہ نہیں،

جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ درخواست گزار نے کب نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست دی تھی، جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ نواز شریف نے ضمانت کے بعد نومبر میں نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست دی تھی، جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ابھی بات یہ ہو رہی ہے کہ آپ کی جو مزید دو درخواستیں ہیں ان پر کارروائی کی جا سکتی ہے یا نہیں،جس پر نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ یہ درخواست ہی یہی ہے کہ آپ میاں نواز شریف کی غیر موجودگی میں اپیل کو میرٹ پر سنیں،

گزشتہ روز سابق وزیر اعظم نواز شریف نے ریفرنس میں سرنڈر کرنے کے حکم پر نظرثانی درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی تھی اور نواز شریف کے معالج ڈاکٹر فیاض شوال کی جانب سے تیار کردہ میڈیکل رپورٹ بھی ساتھ لگائی گئی جس میں کہا گیا کہ انجائنا کا مرض اب بھی برقرار ہے۔ انجیوگرافی ہونا ضروری ہے اور رش والی جگہ جانا نقصان دہ ہوسکتا ہے۔

درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ طبی بنیادوں پرعدالت طلبی کا حکم واپس لے کر نمائندے کے ذریعے سماعت میں پیش ہونے کا موقع دے۔ ڈاکٹرفیاض شوال نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ نوازشریف کی جلد انجیوگرافی کی جائے گی۔ پاکستان جانے سے پہلے نوازشریف کی انجیوگرافی ضروری ہے۔ انجیوگرافی میں تاخیر کورونا وبا کی وجہ سے ہوئی۔ نوازشریف کی صحت کو سخت خطرات لاحق ہیں۔ کورونا کے دوران نوازشریف کو کسی قسم کے سفر سے منع کیا ہے۔ نوازشریف پہلے سے ہی ذہنی دباوَ کا شکار ہیں۔

نواز شریف کے دوسرے معالج ڈاکٹر ڈیوڈ لارنس کی 4 ستمبر کی رپورٹ کو بھی درخواست کے ساتھ لگایا گیا۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف کا علاج لندن میں ہونا بہتر ہے کیونکہ وہاں ڈاکٹرز نواز شریف کی میڈیکل ہسٹری سے آگاہ ہیں۔ ڈاکٹر ڈیوڈ لارنس نے رپورٹ میں لکھا کہ نواز شریف کو کسی عام مریض کی نسبت زیادہ توجہ کی ضرورت ہے۔ نوازشریف کے لیے ائرپورٹ، جہاز کے سفر یا دیگر رش والے مقام پر جانا خطرناک ہے

نیب کی نواز شریف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست کی مخالفت،عدالت نے بڑا حکم دے دیا

نواز شریف کی ضمانت میں توسیع کیوں نہیں کی؟ راجہ بشارت نے کیا اہم انکشاف

مریم نواز اور کیپٹن ر صفدر میں ہونے لگی ہے جلد جدائی،خبر سے کھلبلی مچ گئی

مریم نواز ایک بار پھر "امید” سے، کیپٹن ر صفدرخوشی سے نہال

مریم نواز عدالت پہنچ گئی، بہارہ کہو میں کارکنان نے کیا استقبال

عدالت پہنچنے پر مریم نواز نے کارکنان کے لئے جاری کیا حکم،ن لیگی رہنماؤں کو روک دیا گیا

میری ضد ہو گی کہ نواز شریف یہ کام کریں، مریم نواز کی غیر رسمی گفتگو

نواز شریف ضمانت پر نہیں، وکیل کا عدالت میں اعتراف،ہمیں سزا معطلی سے متعلق بتائیں، عدالت

نواز شریف کے لندن ڈاکٹر کی رپورٹ باغی ٹی وی نے حاصل کر لی

نواز شریف کو سرنڈر کرنا ہو گا، اگر ایسا نہ کیا تو پھر…عدالت کے اہم ریمارکس

نواز شریف حاضر ہو، اسلام آباد ہائیکورٹ نے طلبی کی تاریخ دے دی

نواز شریف کی نئی میڈیکل رپورٹ عدالت میں جمع، نواز ذہنی دباؤ کا شکار،جہاز کا سفر خطرناک قرار

واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے یکم ستمبر کو حکم دیا تھا کہ سابق وزیراعظم العزیزیہ ریفرنس میں عدالت کے سامنے سرنڈر کریں۔ عدالت نے وفاقی حکومت کو بھی ہدایت کی تھی کہ 10 ستمبر تک نوازشریف کے متعلق تمام ریکارڈ جمع کرایا جائے۔ وکیل خواجہ حارث نے عدالت کو آگاہ کیا کہ پنجاب حکومت نے نواز شریف کی ضمانت میں توسیع کی درخواست مسترد کر دی تھی اور اب وہ ضمانت پر نہیں ہیں نواز شریف کو خود کو عدالت کے سامنے پیش کرنا ہو گا۔ انہوں نے بتایا کہ نواز شریف پنجاب حکومت کے فیصلے کو چیلنج بھی کر سکتے ہیں۔

جسٹس عامرفاروق نے ریمارکس دیئے تھے کہ لاہور ہائیکورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ کے ضمانت کے فیصلے کو سپرسیڈ نہیں کر سکتی تھی۔ لاہور ہائی کورٹ کو سزا معطلی کے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کی حدود میں رہتے ہوئے فیصلہ دینا تھا۔ جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ عدالت ابھی نواز شریف کو مفرور قرار نہیں دے رہی، نواز شریف کو سرنڈر کرنے کا ایک موقع دے رہے ہیں۔ نواز شریف آئندہ سماعت تک پیش نہیں ہوتے تو مفرور قرار دینے کی کارروائی شروع کریں گے۔