کھانا پکانے کے لئے کیسے برتن خریدیں؟

صحت کا دارومدار صرف غذا پر ہی نہیں بلکہ باورچی خانے اور اس میں استعمال ہونے والے برتنوں پر بھی ہے اکثر گھر کی اس انتہائی اہم جگہ پر بہت زیادہ لاپروائی برتی جاتی ہے مثلاً یا تو برتنوں کو اچھی طرح دھویا نہیں جاتا یا پھر برتن خریدتے وقت انتحاب میں احتیاط نہیں کی جاتی پہلے لوگ مٹی کے برتن استعمال کرتے جو صحت کے لئے بہت زیادہ فائدہ مند ہوا کرتے تھے آج مختلف دھاتوں سے بنے برتن استعمال کئے جا رہے ہیں انسانی تاریخ میں تانبے سے بنی اشیاء کےاستعمال کا آغاز تانبے کا دور کہلاتا ہے اس دھات سے دوسری اشیاء کے ساتھ برتن بھی بنائے جاتے تھے لیکن آج مختلف قسم کی دھاتوں سے بنے برتن استعمال ہو رہے ہیں

دیہی علاقوں میں اکثر جگہوں پر آج بھی سالن بنانے کے لیے مٹی کی ہانڈیاں اور پانی کے لیے گھڑے استعمال کئے جاتے ہیں ان پر حرارت کی اچانمک تبدیلی کا اثر نہیں ہوتا کیونکہ یہ برتن مسام دار ہوتے ہیں مٹی کی ہانڈی میں کھانا پکانا بہت مفید ہے لیکن اگر اس کے اندر سیسے یا روغن کی پالش کی گئی ہو تو یہ صحت کے لئے نقصان دہ ہے

پیتل جست اور تانبے کو ملا کر تیار کی جاتی ہے ابتدا میں پیتل کے برتن ہندو زیادہ استعمال کرتے تھے مسلمان تانبے کے سرخ برتنوں کو قلعی کروا کر استعما ل کرتے تھے کیو نکہ یہ برتن تیزابی اجزاء سے متاثر ہو کر کھانا خراب کر دیتے ہیں اسی لئے انہیں قلعی کروا کر استعمال کرنا بہتر ہے

آج کے دور میں پلاسٹک کے برتنوں کا استعمال بھی بہت زیادہ ہو رہا ہے لیکن ان کا استعمال نہایت ہی مضر صحت ہے ما ہرین طب کے مطابق پلاسٹک کے برتنوں میں ایک مادہ ڈی اوکسن پایا جاتا ہے جو کینسر جیسے موذی مرض کا باعث بنتا ہے خاص طور پر عورتوں میں چھاتی کے کینسر کا باعث بنتا ہے پلاسٹک کے برتنوں کا اوون میں بھی استعمال ہر گز نہ کریں ان کا استعمال ٹھنڈی اشیاء کرنے میں ہی بہتر ہے

اسٹین لیس سٹیل کا استعمال دنیا بھر میں عام ہو چکا ہے یہ مہنگے ہونے کے ساتھ کھانا پکانے کے لیے بھی مناسب ہوتے ہیں بہت جلد گرم ہو جاتے ہیں اسی حرارت یکساں طریقے سے پورے برتن میں نہیں پھیلتی اسی لئے بڑی احتیاط اور تیزی سے چمچ چلانا پڑتا ہے یہ مضر صحت نہیں ہوتے کیونکہ ان کے پیندے میں تانبے اور ایلومینیم کی اضافی پرت لگائی جاتی ہے یہ دھات لوہے میں نکل دھات کی آمیزش سے تیار کی جاتی ہے

پورسلین (تام چینی) حرارت کو جذب کرتے ہیں اور پکانے کے لیے مفید ہیں اور گیس کے چولہوں کے لیے بہتر دھات ہے لیکن اسے بہت احتیاط سے سنبھال کر استعماک کرنا پڑتا ہے چونکہ یہ دراصل لوہے کے بنے ہوتے ہیں اس نکے اوپر پورسلین کی تہہ چڑھائی جاتی ہے اسی لئے ذرا سی ٹھوکر لگنے پر اس کا روغن اتر جاتا ہے اور یہ بدنما فکھائی دینے لگتے ہیں

لوہے کے توے کرچھے کڑاہے اور فرائی پین آج پھر سے بہت مقبول ہیں لوہے پر کچھ دنوں کے استعمال سے زنگ لگ جاتا ہے اور زنگ کینسر کا باعث بن سکرتا ہے

الومینیم کے برتن سستے ہونے کی وجہ سے بہت زیادہ استعمال ہوتے ہیں لیکن یہ بہت مضر صحت ہوتے ہیں ایک مغربی محقق ڈاکٹر جارج ڈوفلسن کے مطابق ان برتنوں میں کھانا پکانے سے اس دھات کے کچچھ اجزا زہریلے مرکبات میں تبدیل ہو کر کھانے میں مل جاتے ہیں اور کچھ ؤٹامن ضائع کر دیتے ہیں بعض حساس معدے اس سے جلدی متاثر ہو جاتے ہیں جس سے الرجی ہو سکتی ہے اگر اس برتن کو چاقو یا چھری سے کھرچ کر صاف کرنا پڑے تو چکھ کر دیکھیں یہ پھٹکری جیسا محسوس ہو گا پھٹکری یلم ہے اور یہ ایلومینیم کا سالٹ ہوتی ہے بہتر ہے کہ یہ برتن استعمال نہ کیے جائیں

جدید تحقیق کے مطابق تانبے کے برتن میں کھانا پکانا مضر ہے کچھ دھاتیں ایسی ہوتی ہیں جن کی ذرو برابت مقدار بھی معدے میں چلی جائے تو مضر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں تانبا جسم کے لئے ٹانک ہے اور اس میں کھانا آسانی سے پکتا ہے اگر اس پر قلعی کروا کر استعمال کیا جائے تو مضر اثرات سے بچا جا سکتا ہے

نان سٹک برتنوں کو کھانا نہ چپکانے والے برتن کہا جاتا ہے یہ دوسرے برتنوں کی نسبت مہنگے ہوتے ہیں اور آج کل کافی مقبول ہو رہے ہیں ان کی تیاری میں ایک مادہ ٹیفلون تیار ہوتا ہے جس کے بارے میں تحفظ ماحول کے امریکی ادارے نے بتایا ہے کہ ایسے برتنوں
میں تیار کئے گئے کھانوں سے کینسر لاحق ہو سکتا ہے خاص طور پر ماں بننے والی خواتین کو خاص احتیاط کی ضرورت ہے وہ ان برتنوں مین کھانا نہ پکائیں ورنہ پیدا ہونے والے بچے میں جسمانی نقائص جنم لے سکتے ہیں ٹیفلون نہ صرف انسانوں بلکہ پالتو جانوروں تک کو نقصان پہنچاتا ہے

سب دھاتوں کے مطالعے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مٹی کے برتن صحت کے لئے ان سب سے بہتر ہیں ان کے استعمال سے نہ صرف مضراثرات پیدا نہیں ہوتے بلکہ یہ کئی بیماروں سے شفاء کے لئے ان برتنون میں کھانا پکان اور کھانا نہایت حیرت انگیز اثر رکھتا ہے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.