لاک ڈاؤن، حکومتی امداد نہ پہنچی، رجسٹریشن کے نام پر حکومت نے شہریوں کو دیا بڑا دھوکہ

0
24

لاک ڈاؤن، حکومتی امداد نہ پہنچی، رجسٹریشن کے نام پر حکومت نے شہریوں کو دیا بڑا دھوکہ

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کرونا وائرس سے بچاؤ کے لئے ملک بھر میں لاک ڈاؤن ہے، حکومت نے شہریوں کے لئے معاشی پیکج اور امداد کا اعلان کیا ہے لیکن ابھی تک کسی کو بھی امداد فراہم نہیں کی جا سکی، حکومت کی جانب سے امداد کے حصول کے لئے رجسٹریشن کے حوالہ سے بھی عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے.

ملک بھر کی طرح سندھ میں بھی جاری لاک ڈاؤن نے لاکھوں شہریوں کو فاقہ کشی میں مبتلا کردیا ہے لاک داؤن کے باعث شہر کے تمام کاروباری اور تجارتی مراکز سمیت تمام دوکانیں بند ہیں دیہاڑی پر کام کرنے والے لاکھوں افراد بیروزگار ہوکر فاقہ کشی پر مجبورہوچکے ہیں۔

حکومت  نے لاک ڈاؤن کے دوران غریب اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والوں کو مالی امداد اور راشن کی مکمل فراہمی کا وعدہ کیا تھا تاہم لاک ڈاؤن ہوئے  12 روز گزرجانے کے باوجود حکومت کی جانب سے مستحق افراد کو نا ہی راشن فراہم کیا گیا اور نہ ہی ابھی تک مالی امداد فراہم کی جارہی ہے جس کی وجہ سے ہر گزرتے دن کے ساتھ شہریوں میں بے چینی بڑھ رہی ہے

حکومت کی جانب سے امداد کے حصول کے لئے رجسٹریشن کروانے کے لئے عوام کو ایک نمبر 8171 دیا گیا کہ اس پر ایس ایم ایس کریں ،جب شہریوں نے اس نمبر پر ایس ایم ایس کیا تو وہاں سے اکثریت کو جواب ملا کہ اپنی ضلعی انتظامیہ سے رجوع کریں۔ حالانکہ ملک بھر میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے ٹرانسپورٹ بند ہے اور ضلعی انتظامیہ کرونا سے بچاؤ کے اقدامات کر رہی ہے، جو شہری ضلعی انتظامیہ کے دفاتر مین پہنچے وہاں ان کو کوئی نہیں ملا اور اگر کوئی ملا تو انہیں پٹواری یا اے سی کے پاس جانے کو کہا گیا.

بعد ازاں حکومت نے ایک ویب سائٹ کا لنک دے دیا اور کہا کہ اب ضلعی انتظامیہ کی بجائے اس ویب پر رجسٹرڈ ہوں ، جب شہریوں نے اس پر کام کیا تو جواب ملا کہ ہم تصدیق کریں گے اور آپ کچھ دن بعد پھر 8171 پر میسج کر کے معلوم کر لیں کہ آپ حقدار ہیں کہ نہیں .

حکومت نے کرونا وائرس سے لاک ڈاؤن کی وجہ سے کرونا ریلیف ٹائیگر فورس بھی بنائی جو 14 اپریل تک فیلڈ میں آئے گی اس کا مطلب ہے کہ غریب شہریوں کو 14 اپریل تک مزید فاقے کرنے پڑیں گے اور معلوم نہیں ان کی رجسٹریشن بھی ہو پائے گی یا نہیں.

حکومت سے زیادہ بہتر تو فلاحی ادارے اور مخیر حضرات ہیں جنہوں نے بغیر رجسٹریشن کے گھر گھر جا کر راشن پہنچانا شروع کر دیا، جماعت اسلامی کی الخدمت فاؤنڈیشن سب سے آگے ہے ، جبکہ حکومت ابھی تک رجسٹریشن کے چکر میں پھنسی ہوئی ہے.

کرونا وائرس کے بعد جب لاک ڈاون کا اعلان کیا گیا تھا تو حکومت کو ہنگامی بنیادوں پر کچھ کرنے کی ضرورت تھی لیکن ایسا نہیں کیا گیا، آن لائن رجسٹریشن کا کہا گیا حالانکہ کئی غریب اور دیہاڑی دار افراد کے پاس موبائل ہی نہیں اگر موبائل ہیں تو موبائل کی دکانیں بند ہونے کی وجہ سے ان میں بیلنس نہیں، اس وجہ سے شہری رجسٹریشن بھی نہیں کروا پا رہے،

سندھ حکومت کے تحت ضرورتمند خاندانوں میں راشن کی تقسیم کے حوالہ سے طریقہ کار جاری کر دیا گیا

سندھ حکومت کےاحکامات پر کمشنر کراچی نے راشن کی تقسیم کا حکمنامہ جاری کیا جس میں کہا گیا کہ راشن کی تقسیم صبح پانچ بجے سےصبح سات بجے کےدرمیان ہوگی ،راشن کی تقسیم رات کےآخری پہر میں بھی کی جاسکتی ہے ،راشن کی تقسیم کےلیےلوگوں کا مجمع جمع کرنے پرپابندی ہوگی

 

تبلیغی مرکز کے نواحی علاقے کے 200 افراد کرونا کے شبہہ میں ہسپتال منتقل،ڈرون کے ذریعہ علاقہ کی نگرانی

بھارت کی انتہائی اہم ترین شخصیت کرونا سے خوفزدہ، کروائے گی ٹیسٹ

کرونا وائرس،بھارت میں اتنے مریض ہو جائیں گے کہ لاشیں بلڈوزر سے گڑھے میں ڈالنا پڑیں گی

چین میں‌ کرونا وائرس کا پہلا مریض اب کس حال میں ہے ؟

کرونا کے وار جاری، 288 پولیس اہلکاروں میں ہوئی کرونا کی تشخیص

سعودی عرب میں کرونا کے مریضوں میں مسلسل اضافہ، شاہ سلمان نے دیا عالمی ادارہ صحت کو فنڈ

کرونا وائرس،اچھی خبر بھی سامنے آ گئی، گھروں کی قیمیتں ہوں گی کم

کرونا وائرس، آئی ٹی سیکٹر میں بھی بڑے بحران کا خدشہ

یقین نہ آئے تو میری پینٹ اتار کر دیکھ لینا،پولیس تشدد کے بعد خودکشی کرنیوالے نوجوان کا دردناک پیغام

 

راشن کی تقسیم صرف گھر پر ہی کی جاسکے گی،مستحق افراد،یومیہ اجرت سے محروم خاندانوں کو ڈپٹی کمشنرز کی نگرانی میں راشن دیاجائےگا ،راشن بیگ میں تین اقسام کی ایک کلو کلو دالیں،دوکلو کوکنگ آئل شامل ہوگا ،دس کلو آٹا ،پانچ کلو چاول،ایک کلو سفید چنا بھی راشن بیگ میں دیاجائے.

بھوک نے لوگوں کو بچے فروخت کرنے پر مجبور کر دیا،سندھ میں شہری نے کہا "ایک بچہ لو اور ہمیں راشن دو”

 

Leave a reply