fbpx

سہانجنا کے معجزاتی طبی فوائد

سہانجنا کے طبی فوائد
موسم سرما کے اختتام پر پاکستان کے میدانی علاقوں میں کثرت سے پائے جانے والے سہانجنا کے درخت پر سفید پھولوں کی بہار آجاتی ہے اس کے پھولوں کی بہا ر آجاتی ہے اس کے پھولوں کو توڑ کر محفوظ کر لیا جاتا ہے سہانجنا جنوبی پنجاب کی معروف غذا ہے اس کے خود رو درخت زیادہ تر جھنڈوں کی صورت میں نظر آتے ہیں گرمیوں میں سائے اور موسم سرما میں صحت بخش غذا حاصل کی۔جاتی ہے اس درخت کو بیج اعر قلموں کے ذریعے اگایا جا سکتا ہے پہلے سال پھول اور دوسرے سال اس کی فصل زیادہ۔اچھی ہوتی ہے یہ درخت دس میٹر تک بلند ہو جاتا ہے کانٹ چھانٹ کر کے اسے دو میٹر تک اونچا رکھتے ہیں تاکہ ہاتھ پہنچ سکے

انجیر جنت کا پھل جانئے اس کی افادیت اور اہمیت


موسم بہار یا برسات میں سہانجنا کے درختوں کی۔قلموں یا بیج کو زمین میں لگایا جا سکتا ہے ان کے پتے حاصل کرنے کے لیے شاخوں کو سال بھر میں سات یا آٹھ بار کاٹا جا سکتا ہے جنوبی پنجاب میں اسے باٹا بھی کہا جاتا ہے کڑواہٹ دور کرنے کے لیے اس کے پھولوں کو پانی میں ابال کر خشک کر لیا جاتا ہے سہانجنا کو گوشت میں ڈال کر یا الگ بھی پکایا جا تا ہے کھانے میں نہایت لذیذ ہوتا ہے مگر اس کو پکانے میں محنت درکار ہوتی ہے ملتانی اسے بہت مہارت سے پکاتے ہیں سہانجنا کی لکڑی نرم ہوتی ہے اس لیے اس کی لکڑی خشک ہونے پر صرف ایندھن کے لیے استعمال کی جاتی ہے سہانجنا کی شاخ کو کہیں بھی لگا دیا جائے تو یہ فوراً پھوٹ پڑتا ہے اور چند ماہ میں پھل پھول لے آتا ہے جنوبی پنجاب کے درمیانی۔علاقوں میں یہ ہر جگہ نظر آتا ہے حتی کہ کوڑا کرکٹ کے ڈھیروں پر بھی مقامی لوگ کسی نئی جگہ پر گھر بناتے ہیں یا کوئی۔نئی۔زمین آباد کرتے ہیں تو سب سے پہلی سہانجنا اگایا جاتا ہے بے پناہ فوائد کی۔وجہ سے معجزاتی درخت کہلاتا ہے

ہری سبزیوں کا استعمال ڈپریشن میں کمی کے لئے مفید


یہ پاکستان سمیت جنوبی ایشیا اعر م رق بعید کے ممالک میں عام پایا جاتا ہے جبکہ افریقہ کے کچھ ممالک میں بھی ملتا ہے اسکی شہرت کا تاریخی پس منظر سینیگال سے شروع ہوتا ہے جہاں قحط کے زمانے میں اسے متعارف کروایا گیا اس کے درخت کا ہر حصہ اہمیت رکھتا ہے اور اسے غذا کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے اس کی کاشت سخت حالات میں بھی آسانی سے ہوسکتی ہے خشک سالی میں غذائی کمی کا مقابلہ کرنے کے لیے یہ ایک بہترین انتخاب ہے سہانجنا کے پتوں جڑوں بیج تنے اور شاخوں میں کیلشئیم پروٹین وٹامن اے پوٹاشئیم آئرن اور وٹامن ای پایا جاتا ہے اکثر ممالک میں اس کے بیجوں کو پیس کر پینے کا پانی صاف کیا جاتا ہے جس سے بیشتر جراثیم مر جاتے ہیں مٹی اور نقصان دہ دھاتیں نیچے بیٹھ جاتی ہیں اس میں کینسر ٹی بی ہیپاٹائٹس شوگر وغیرہ سے بچاو کے لیے اینٹی بائیوٹکس اینٹی الرجک اور دیگر طبی اجزاء پائے جاتے ہیں اس کے بیج کا تیل زیتون کے تیل کی۔طرح کھانے کے لیے بہترین ہے جبکہ پھول اور پھلیاں غذائیت سے بھر پور اور لذیذ ترین۔ہوتی ہیں سہانجنا کے پتوں کا عرق فصلوں پر سپرے کرنے سے موسمی اور فضائی سختیوں کے خلاف قوت مدافعت بھی بڑھ جاتی ہے

جامن کے فوائد


جانوروں کو جب غذا کے طور پر استعمال کروایا گیا تو ان کے وزن میں بتیس فیصد اوردودھ میں تینتالیس سے پینسٹھ فیصد اضافہ سامنے آیا ترقی یافتہ دنیا میں سہانجنا سے قدرتی۔غذائی ٹانک انرجی ڈرنک ادویات اور میک اپ کا۔سامان بنایا جاتا ہے اس کے خشک پتوں کا سفوف غذائی کمی کو پورا کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے اسی مقصد کے لیے یہ۔سینیگال میں اگایا گیا اس کے پتوں کا پچاس گرام سفوف پورے دن کی غذائی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کافی ہے پانی صاف کرنے کے لیے بیجوں کو خشک کر کے اس کے چھلکوں کو ہلکا ہلکا کوٹ کر الگ کر لیا جاتا ہے حاصل یونے والے سفید مغز کو کوٹ کر اس کا سفوف تیار کیا جاتا ہے اس سفوف کے ہچاس گرام سے ایک لٹر پانی صاف کیا جا سکتا ہے پا۔ی۔صاف کرنے کے لیے سفوف کو پانی میں اچھی طرح ہلائیں اور پھر تھوڑی دیر کے لیے چھوڑ دیں سفوف نیچے بیٹھنے کے بعد صاف ہو جائے گا سہانجنے کے بیج کا کیک یا پاوڈر گندے پانی میں موجود بیکٹیریا ٹھوس اجزاء اور دیگر ذرات کو اپنے ساتھ چپکا کر تہہ نشین کر دیتا ہے اور باقی پانی صاف اور پاک ہو کر پینے کے قابل ہو جاتا ہے بیجوں کا سفوف پیٹ کے مرض میں شفا دیتا ہے تازہ پتوں کو پالک کی طرح پکایا جا سکتا ہے یعنی سلاد سے لے کر سالن تک بنایا جا سکتا ہے جبکہ سفوف بعض ممالک میں سوپ بنانے میں استعمال ہوتا ہے اس کی۔پھلیاں بھی پکائی جاتی ہیں یہاں تک کہ ان کی۔جڑیں بھی غذا کے طور پر استعمال کی۔جا سکتی ہیں

الائچی کے جادوئی فوائد


البتہ جڑوں میں ایک۔زہریلا الکلائیڈ سپائروجن پایا جاتا ہے لیکن اس کی مقدار خاصی کم۔ہوتی ہے اس کے بُرے اثرات جڑوں کو بہت زیادہ مقدار میں استعمال کرنے سے سامنے آ سکتے ہیں سہانجنا ڈائریا اور جلد پر فنگس انفیکشن معدے اور پیٹ کے مسائل دُور ہو۔جاتے ہیں بڑی عمر والوں کے لیے اس کے بیجوں کو مٹر کی طرح پکا کر کھانا انتہائی مفید ہے اس کے بیجوں کا تیل جلد کی الرجی سوزش اورزخموں کو ٹھیک کر دیتا ہے وٹامن اے سی اور ای اس میں۔وافر مقدار میں پایا جاتا ہے بہترین اینٹی آکسیڈنٹ ہے یہ تیل بہت ہلکا اور ذائقے میں خوشگوار ہونے کی۔وجہ سے زیتون کے تیل جیسا صحت مند ہے اس کا تیل موئسچراِزنگ خصوصیات رکھتا ہے صاب شیمپو عطریات اور دیگر جلد کی۔دیکھ بھال کی مصنوعات میں۔اسے استعمال کیا جاتا ہے سہانجنے کی جڑیں بھی مختلف ادویات عطریات قدرتی کیڑے مار ادویات کھاد جانوروں کے چارے اور دیگر کئی اہم مصنوعات تخلیق کرنے کے لیے استعمال ہو رہی ہیں سہانجنا میں موجود وٹامن بی سی اور ای اور کاربیک ایسڈ خون میں موجود گلوکوز کی۔سطح کو کنٹرول کر کے ذیابیطس کے مریضوں کی مدد کرتا ہے اسی طرح پینٹو تھینیک ایسڈ پروٹین پوٹاشئیم میگنیشیم اور کاربوہائڈریٹس انسولین کی پیداوار کو درست کرنے میں معاون ہیں اس سے کھانا ہضم کرنے میں مدد ملتی ہے

السی سے بیماریوں کے علاج


سہانجنا کے پتے جڑیں بیج چھال پھل پھول۔اور پھلیاں دل اور دوران خون کو درست رکھنے میں معاون ہیں اس میں موجود اینٹی آکسیڈینٹس ٹیومر مرگی سوزش السر بلڈ پریشت کولیسٹرول اور فنگل انفیکشن میں مفید ہے بلڈ پریشر کو برقرار رکھتا ہے دمہ جوڑوں کا درد بے خوابی قلبی مسائل گھبراہٹ جلد کے مسائل۔ڈپریشن بخار متلی پیٹ کی تکلیف جسمانی یا اعصابی کمزوری کا جلد خاتمہ کرنے میں معاون ہے کمزور ہڈیوں کی تعمیر نو کرتا ہے سبزیوں اور اچھا پھل کا متبادل ہے یہ میدانی علاقوں نہروں اور دریاوں کے کناروں پر کثرت سے ملتا ہے سہانجنا ہر طرح کے موسم میں اگایا جا سکتا ہے کم پانی والے علاقوں میں یہ کثرت سے پایا جاتا ہے ڈیرہ غازی خان سے لے کر مظفر گڑھ اور وہاں سے میانوالی تک پھیلے ریتلے میدانوں میں کثرت سے پایا جاتا ہے جنوبی پنجاب بھر میں سہانجنا ایک پسندیدہ سبزی کے طور پر اس قدر پسند اور معروف ہے کہ اسے ملتانی سوغات میں شامل کیا جاتا ہے اس کی پیداوار بڑھا کر بیجوں پھلوں پھولوں اور لکڑی سے معجزاتی فوائد حاصل کرنے کی ضرورت ہے