بھارتی انتخابات کا پہلا مرحلہ مکمل،مودی سرکار کیلئے خطرے کی گھنٹی

0
122
india election

بھارت میں انتخابات کا پہلا مرحلہ مکمل ہو گیا، بھارتی انتخابات میں رائے دہندگان نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تاہم مغربی بنگال اور منی پور میں تشدد کے واقعات سامنے آئے ہیں، بھارتی میڈیا کے مطابق2019 کے پہلے مرحلے کےمقابلے میں اس بار ووٹر کے ٹرن آؤٹ میں کمی دیکھنے میں آئی ہے

بھارت میں سات مراحل میں انتخابات ہو رہے ہیں، پہلے مرحلے میں 21 ریاستوں کے 102 حلقوں میں ووٹ ڈالے گئے،جن ریاستوں میں ووٹ ڈالے گئے ان میں اتر پردیش، تمل ناڈو، اتراکھنڈ، منی پور، میگھالیہ، آسام، مہاراشٹر، راجستھان، مغربی بنگال اور نئی دہلی کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کے حلقے شامل ہیں،بھارت کے نشریاتی ادارے این ڈی ٹی وی اور انڈیا ٹوڈے سمیت بیشتر میڈیا اداروں نے بتایا کہ رات نو بجے تک مجموعی طور پر62.37 فیصد ووٹ پول ہوئے،2019 میں پہلے مرحلے میں 69.43 فیصد ووٹ پڑے تھے، بہار میں سب سے کم 48.5 فیصد پولنگ ہوئی،ریاست تمل ناڈو میں جہاں تمام 39 نشستوں کے لیے ووٹ ڈالے گئے، 67.2 فیصد پولنگ ہوئی ، 2019 میں 72.4 فیصد ہوئی تھی۔ راجستھان میں 57.3 فیصد ہوئی ،2019 میں 64 فیصد ہوئی تھی،بھارتی انتخابات میں سب سے زیادہ ووٹر ٹرن آؤٹ 77.6 فیصد مغربی بنگال میں دیکھاگیا، الیکشن کمیشن کے مطابق بھارت میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 97 کروڑ ہے۔ ایوانِ زیریں ،لوک سبھا کی کل نشستوں کی تعداد 543 ہے جن پر کامیاب ہونے والے ارکان آئندہ پانچ سال کے لیے منتخب ہوں گے،لوک سبھا کے انتخابات میں 272 نشستیں جیتنے والی سیاسی جماعت نئی حکومت بنانے میں کامیاب ہو جائے گی

بھارت میں انتخابات کے دوران مغربی بنگال میں برسراقتدار جماعت ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) اور بھارتیہ بی جے پی کے کارکنوں میں تصادم ہوا ہے،جس پر پولیس نے مداخلت کی اور دونوں سیاسی جماعتوں کے کارکنان کو منتشر کیا،

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ریاست اترپردیش میں پہلے مرحلے کی ووٹنگ ہوئی جس میں ووٹر کا رجحان حکمران جماعت بی جے پی کے لئے اچھا نہیں رہا، بلکہ پریشانی کا باعث بن گیا ،ووٹ ڈالنے کے بعد شہریوں سے جو گفتگو ہوئی اس سے ظاہر ہوتا ہےکہ بھارتی شہری اب بی جے پی سے مایوس ہو چکے ہیں،اپوزیشن کے اتحاد کی وجہ سے بھی بی جے پی کی امیدوں پر پانی پھر سکتا ہے، ووٹنگ کا رجحان اس امر کی نشاندہی کرتا ہے یوپی میں اب بی جے پی جو سوچ رہی ہے ویسا کچھ نہیں ہونے والا،اسی ریاست مین بی جے پی لوک سبھاکی اسی میں سے اسی سیٹیں جیتنے کا دعویٰ کر رہی ہے، 2019میں بی جے پی کو لوک سبھا سے 63 اور 2014 میں 73 سیٹیں ملی تھیں اس بار سیٹیں مزید کم ہونے کا امکان ہے کیونکہ بھارتی عوام بی جے پی سے مایوس ہو چکے ہیں،

نوجوانوں کا استحصال،بے روزگاری،کسانوں کی حق تلفی،مودی کیا جیت پائیں گے؟
بھارتی نوجوانوں‌کا کہنا ہے کہ مودی سرکار نے ہمارے لئے کیا کیا ہے؟ بی جے پی کو یقین تھا کہ عوام انکو ووٹ دیں گے اور ہر فیصلے کو مانیں گے لیکن اب ایسا نہیں رہا، بھارتی نوجوان بی جے پی پر اعتماد نہیں کر رہے ،کیونکہ مودی سرکار کے دورمیں نوجوانوں کا استحصال کیا گیا، بے روزگاری عروج پر رہی، کسانوں کو حق نہیں ملا، خواتین کو تحفظ نہیں ملا،سہارنپور سے سیاست میں سرگرم نوجوان سندیپ رانا کا دعویٰ ہے کہ جمہوری سیاست میں کسی ایک پارٹی کا حد سے زیادہ پراعتماد ہونا مہلک ہے بی جے پی کو یقین تھا کہ اگر وہ کوئی فیصلہ کرتی ہے تو عوام اسے آنکھ بند کر کے قبول کر لیں گے، اب ایسا ممکن نہیں ہے جمہوریت میں سوال اٹھتے ہیں اور حکمران جماعت کو ان کا جواب دینا پڑتا ہے ، سہارنپور میں کانگریس اتحاد کے امیدوار عمران مسعود کو اکثریتی برادری کے ایک لاکھ سے زیادہ ووٹ ملے ہیں اس میں راجپوت، سینی اور دلت ووٹ شامل ہیں حکومت کے کام کاج سے ناخوش نوجوانوں نے بھی کانگریس امیدوار کو ووٹ دیا ہے پہلے مرحلے میں ان 8 سیٹوں میں سہارنپور کا ووٹنگ فیصد سب سے زیادہ رہا ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت میں ہونے والے انتخابات کے پہلے مرحلے میں اپوزیشن کے ووٹ تقسیم نہیں ہوئے،تاہم راجپوت ووٹر اپنی ناراضگی کی وجہ سے ووٹ ڈالنے نہیں گئے،راجپوت اکثریتی علاقوں میں ووٹنگ کی شرح بہت کم رہی ہے ،مظفر نگر میں کئی طبقے بی جے پی کے سنجیو بالیان کے خلاف کھڑے نظر آئے، ان میں خاص طور پر راجپوت، برہمن اور انتہائی پسماندہ طبقات شامل تھے، انڈیا الائنس کے امیدوار ہریندر ملک یہاں اپنی جیت یقینی سمجھ رہے ہیں

بھارت میں انتخابات مسلمانوں کے تحفظات
بھارت میں ہونے انتخابات پر مسلمانوں کے تحفظات کے حوالہ سے الجزیرہ ٹی وی نے رپورٹ نشر کی ہے،رواں ماہ بھارت میں انتخابات ہو رہے ہیں جبکہ دوسری جانب مودی سرکار کی انتہا پسندی بھی عروج پر پہنچ چکی ہے،الجزیرہ کے مطابق بی جے پی حکومت نے بھارت میں مسلمانوں پر عرصۂ حیات تنگ کرتے ہوئے ان کے مکانات، مذہبی مقامات کو مسمار کرتے ہوئے روزگار کے حصول کو بھی شدید مشکل بنا دیا، الجزیرہ کی رپورٹ میں یہ انکشاف سامنے اۤیا کہ انتخابات کو لے کر بھارتی مسلمان شدید خوف و ہراس کا شکار ہیں،بھارتی مسلمانوں کا کہنا ہے کہ "ہم مسلسل ڈرے ہوئے رہتے ہیں”، نفرت اور انتہا پسندی کی سیاست ملک میں غالب ہوتی ہوئی نظر آتی ہے،”اگر دوبارہ بی جے پی حکومت اقتدار میں آگئی تو مسلمانوں کے لئے بہت مشکل ہو جائے گی”، "پچھلے 10 سالوں سے بھارت میں مسلم آبادی حکومتی عدم توجہی کا شکار ہے”، "غیر قانونی تجاوزات کی آڑ میں بغیر نوٹس دیئے انتہا پسند مودی سرکار کی جانب سے مسلمانوں کی رہائش گاہوں کو گرا دیا جاتا ہے”، ایک خاتون کا کہنا تھا کہ "میرا بوتیک دو سال قبل حکومتی احکامات پر گرا دیا گیا”، بھارت میں مسلمان تاجروں کے لئے بھی مودی سرکار نے بے معنی احکامات جاری کیے ،ایک دکاندار کا کہنا تھا کہ "میری گوشت کی دکان اس لئے بند ہے کیونکہ ابھی نوراتری کا تہوار چل رہا ہے”، "بی جے پی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ہر سال نوراتری کے موقعے پر دو بار نو دنوں کے لئے گوشت کی دکانیں بند کرائی جاتی ہیں”، مودی کے زیرِ حکومت حقیقی جمہوریت بھارت میں ناپید ہو چکی ہے جبکہ حکومت کا عوامی فلاح و بہبود سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں،اقوام متحدہ، یورپی یونین اور دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں کو بھارت میں انتخابات سے قبل اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف انتہا پسندانہ اقدامات کا نوٹس لینا چاہیے.

نواز شریف ہم قدم، بھتیجی بازی لے گئی، انقلاب آ گیا

بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

متنازعہ ٹک ٹاکر حریم شاہ کی ایک اور نازیبا ویڈیو”لیک”

مریم نواز کا آٹھ سو کا سوٹ،لاہوری صحافی نے عظمیٰ بخاری سے مدد مانگ لی

مریم نواز تو شجر کاری مہم بھی کارپٹ پر واک کرکے کرتی ہے،بیرسٹر سیف

بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

مہنگائی،غربت،عید کے کپڑے مانگنے پر باپ نے بیٹی کی جان لے لی

پسند کی شادی کیلئے شوہر،وطن ،مذہب چھوڑنے والی سیماحیدر بھارت میں بنی تشدد کا نشانہ

بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

Leave a reply