احتجاج،ہنگامہ آرائی،غیر ملکی سفارتخانوں کی جانب سے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت

0
212
euorpeoi

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق عمران خان کی گرفتاری کے بعد پاکستان میں پر تشدد احتجاج، جلاؤ ، گھیراؤ کے بعد غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی اور کہا کہ غیر ضروری سفر سے گریز کیا جائے،

غیر ملکی سفارتخانوں کی جانب سے ہدایات اپنی شہریوں کو جاری کی گئی ہیں،امریکہ، کینیڈا، برطانیہ سمیت دیگر سفارتخانوں کی جانب سے پیغام دیا گیا ہے کہ شہری محتاط رہیں،وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے نے احتجاج،ٹریفک کی بندش کی وجہ سے 10 مئی 2023 کے لیے تمام قونصلر ملاقاتیں منسوخ کر دی ہیں، امریکی سفارتخانے کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں اور پاکستان بھر میں ہونے والے مظاہروں کی رپورٹس کی نگرانی کر رہا ہے

امریکی سفارتخانے نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ زیادہ ہجوم والی جگہوں سے گریز کریں شناختی کاغذات اپنے پاس رکھیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی درخواستوں پر عمل کریں

کينیڈین سفارتخانے کی جانب سے بھی شہریوں کے لئے ٹریول ایڈوائزری جاری کی گئی ہے جس میں کہا گیا کہ غیر متوقع سکیورٹی صورت حال کی وجہ سے پاکستان میں انتہائی احتیاط برتیں سکیورٹی کی صورت حال غیر متوقع ہے اگر آپ پاکستان میں ہیں تو مقامی حکام کی ہدایات پر عمل کریں ان علاقوں میں جانے سے گریز کریں جہاں مظاہرے اور بڑے اجتماعات ہو رہے ہیں

برطانیہ نے بھی ٹریول ایڈوائزری جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد میں چار سے زائد افراد کے عوامی اجتماعات پر پابندی ہےمزید بد امنی کا بھی امکان ہے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا جا سکتا ہےمظاہروں، لوگوں کے بڑے ہجوم اور سیاسی اجتماعات سے گریز کری۔ مقامی خبروں اور سوشل میڈیا کے ذریعے با خبر رہیں اگر آپ احتجاج والی جگہ کے قریب ہیں تو کسی محفوظ جگہ پر چلے جائیں

ملک بھر میں احتجاج کے دوران جلاؤ گھیراؤ 

 بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے بھی امکانات

سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

 پنجاب بھر کے تعلیمی ادارے بند 

نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

 لیگل ٹیم پولیس لائن گئی تو انہیں عدالت جانے سے روک دیا گیا

Leave a reply