بدھ، 14 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

کرپٹو کرنسی ،فائدہ یا دھوکا؟ تحریر: مریم ڈار، قسط نمبر5

نقطہ نظر

کرپٹو ٹریڈنگ کیا ہے؟ اسپاٹ اور فیوچرز ٹریڈنگ میں کیا فرق ہے؟

پچھلی اقساط میں ہم نے کرپٹو کرنسی، بلاک چین اور بِٹ کوائن اور اس کی قیمت کے تعین کے بنیادی تصورات کو سمجھنے کی کوشش کی۔ اب ہم اس موضوع کی طرف بڑھتے ہیں جس کا بہت سے قارئین کو انتظار ہے، اور وہ ہے کرپٹو کرنسی کی خرید و فروخت، یعنی ٹریڈنگ۔

آپ نے اکثر سنا ہوگا کہ فلاں شخص نے بِٹ کوائن خرید کر منافع کمایا ، کسی نے کرپٹو میں سرمایہ کاری کی، یا کسی ٹریڈر کو مارکیٹ میں نقصان ہو گیا۔ لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا کہ ٹریڈنگ اصل میں ہوتی کیا ہے؟ ایک ٹریڈر اور سرمایہ کار میں کیا فرق ہے؟ اور اسپاٹ ٹریڈنگ اور فیوچرز ٹریڈنگ آخر کیا بلا ہے۔

سادہ الفاظ میں، ٹریڈنگ کا مطلب ہے کسی چیز کو خریدنا اور پھر اسے فروخت کرنا تاکہ قیمت میں ہونے والی تبدیلی سے منافع کمایا جا سکے۔ کرپٹو کی دنیا میں اس چیز سے مراد بِٹ کوائن یا کوئی دوسری کرپٹو کرنسی ہو سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، فرض کریں کہ آپ نے ایک کرپٹو کوائن ایک ہزار روپے میں خریدا۔ کچھ وقت بعد اس کی قیمت بڑھ کر بارہ سو روپے ہو گئی۔ اگر آپ اسے اس قیمت پر فروخت کر دیتے ہیں تو آپ کو دو سو روپے کا مجموعی منافع ہوگا، جس میں سے اکسچینج کی ٹریڈنگ فیس اور دیگر اخراجات کاٹ کے باقی رقم ٹریڈرز کے اکاوئنٹ میں ڈال دی جائے گی ۔لیکن اسی کوائن کی قیمت ایک ہزار روپے سے گر کر آٹھ سو روپے ہو جائے تو ایسی صورت میں فروخت کرنے پر آپ کو دو سو روپے کا نقصان ہوگا۔یعنی ٹریڈنگ میں منافع کا امکان بھی ہوتا ہے اور نقصان کا خطرہ بھی۔ قیمت کا بڑھنا یا گرنا کسی کے قابو میں نہیں ہوتا، اس لیے محض اندازے کی بنیاد پر خرید و فروخت کرنا خطرناک ثابت ہو تا ہے۔

ٹریڈنگ کو سمجھنے کے لیے ٹریڈر اور سرمایہ کار (اس کے لیے میں انویسٹر کا لفظ استعمال کروں گی ) کے درمیانی فرق کو واضح کرنا ضروری ہے؟

یہ دونوں الفاظ اکثر ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں، لیکن ان کے مقاصد اور طریقۂ کار میں فرق ہو تا ہے۔

ٹریڈر عموماً قیمتوں میں مختصر مدت کے اتار چڑھاؤ سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ چند منٹ، چند گھنٹے، چند دن یا بعض اوقات چند ہفتوں کے اندر بھی خرید و فروخت کر سکتا ہے۔ ٹریڈر مارکیٹ کی قیمتوں، چارٹس اور دوسرے اشاروں کا مطالعہ کرتا ہے تاکہ خریدنے یا فروخت کرنے کا فیصلہ کر سکے۔

دوسری طرف، سرمایہ کار یعنی انویسٹر عموماً کسی اثاثے کو طویل مدت کے لیے خریدتا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اگر وقت کے ساتھ اس اثاثے کی قدر بڑھے تو اسے فائدہ حاصل ہو سکے۔ وہ روزانہ قیمت دیکھ کر خرید و فروخت کرنے کے بجائے اس اثاثے کی افادیت، مستقبل کے امکانات اور متعلقہ خطرات پر توجہ دیتا ہے۔مثال کے طور پر، ایک شخص بِٹ کوائن خرید کر کئی سال تک اپنے پاس رکھنے کا فیصلہ کرتا ہے، کیونکہ اسے امید ہے کہ مستقبل میں اس کی قدر بڑھ سکتی ہے۔ یہ سرمایہ کاری کی مثال ہے۔

یاد رہے کہ کوئی شخص بیک وقت ٹریڈر بھی ہو سکتا ہے اور سرمایہ کار بھی۔ دونوں صورتوں میں نقصان کا امکان موجود رہتا ہے، اور طویل مدت تک کسی کریپٹو کو رکھنے سے منافع کی ضمانت نہیں ملتی۔

ٹریڈنگ کی بھی آگے دو عام شاخیں ہیں۔

اسپاٹ ٹریڈنگ اور فیوچر ٹریڈنگ

اسپاٹ ٹریڈنگ میں آپ موجودہ مارکیٹ قیمت پر کرپٹو کرنسی خریدتے یا فروخت کرتے ہیں۔ خریداری مکمل ہونے پر، پلیٹ فارم کے طریقۂ کار کے مطابق، متعلقہ کرپٹو اثاثہ آپ کے اکاؤنٹ میں آ جاتا ہے اور آپ اس کی ملکیت حاصل کر لیتے ہیں۔

فرض کریں کہ بِٹ کوائن کی قیمت ایک لاکھ روپے ہے اور آپ ایک لاکھ روپے کا بِٹ کوائن خرید لیتے ہیں۔ اگر اس کی قیمت بڑھ جائے تو آپ اسے فروخت کر کے منافع حاصل کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ لیکن اگر قیمت گر جائے تو آپ کے اثاثے کی مالیت بھی کم ہو جائے گی۔اسپاٹ ٹریڈنگ میں عام طور پر آپ وہی اثاثہ خریدتے ہیں جس کی آپ ادائیگی کرتے ہیں۔ البتہ اثاثے کی قیمت بہت زیادہ گرنے پر آپ کو بڑا نقصان ہو سکتا ہے۔

اسپاٹ ٹریڈنگ ان لوگوں کے لیے قابلِ فہم آغاز ہو سکتی ہے جو کرپٹو اثاثے خریدنے اور ان کی ملکیت حاصل کرنے کا طریقہ سیکھنا چاہتے ہیں۔ تاہم، خریدنے سے پہلے متعلقہ پلیٹ فارم کی سکیورٹی، فیس، قانونی صورتِ حال اور اثاثے کے خطرات سمجھنا ضروری ہے۔

اب فیوچرز ٹریڈنگ یا کہیے تو خطرناک ٹریڈنگ سمجھتے ہیں ۔

فیوچرز ٹریڈنگ اسپاٹ ٹریڈنگ سے مختلف ہے۔ اس میں آپ عموماً اصل کرپٹو کوائن خریدنے کے بجائے اس کی قیمت سے منسلک ایک معاہدے پر ٹریڈ کرتے ہیں۔

اس معاہدے کی مدد سے ٹریڈر قیمت بڑھنے یا گرنے، دونوں صورتوں میں منافع کمانے کی کوشش کر تا ہے۔ تاہم، اس کا نتیجہ اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ قیمت کس سمت میں جاتی ہے، پوزیشن کس طرح لی گئی ہے اور معاہدے کی شرائط کیا ہیں۔

مثال کے طور پر، اگر کسی ٹریڈر کو لگتا ہے کہ بِٹ کوائن کی قیمت بڑھے گی تو وہ لانگ پوزیشن لیتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر اسے لگتا ہے کہ قیمت گرے گی تو وہ شارٹ پوزیشن لیتا ہے۔

منافع زیادہ کمانے کے لیے فیوچرز ٹریڈنگ میں لیوریج بھی استعمال کی جا سکتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ٹریڈر نسبتاً کم رقم کو بطور مارجن استعمال کرتے ہوئے اس سے بڑی مالیت کی پوزیشن لے لیتاہے۔فرض کریں کہ آپ کے پاس دس ہزار روپے ہیں اور آپ دس گنا لیوریج استعمال کرتے ہیں۔ اس صورت میں آپ تقریباً ایک لاکھ روپے کی پوزیشن لے لیتے ہیں، بشرطیکہ پلیٹ فارم اور معاہدے کی شرائط اس کی اجازت دیں۔اب اگر قیمت آپ کی توقع کے مطابق حرکت کرے تو منافع ہو تا ہے، لیکن اگر قیمت مخالف سمت میں جائے تو نقصان بھی تیزی سے بڑھ سکتا ہے۔ بعض حالات میں پوزیشن لیکویڈیٹ ہو جاتی ہے، یعنی پلیٹ فارم اسے بند کر سکتا ہے اور آپ اپنا پورا مارجن کھو دیتے ہیں۔یعنی کی آپ کی انویسٹمنٹ ڈوب گئی۔

یہ بھی یاد رکھیں کہ ہر فیوچرز معاہدے کی میعاد ختم ہونا ضروری نہیں۔ بعض کرپٹو پلیٹ فارمز پر پرپیچوئل فیوچرز بھی دستیاب ہوتے ہیں، جن کی مقررہ اختتامی تاریخ نہیں ہوتی، لیکن ان پر فنڈنگ فیس جیسے اضافی اخراجات لاگو ہو تے ہیں۔

اسپاٹ ٹریڈنگ میں آپ خریدی گئی کرپٹو کرنسی کے مالک بنتے ہیں۔ فیوچرز میں عموماً آپ معاہدے پر ٹریڈ کرتے ہیں، اصل کوائن کے مالک نہیں بنتے۔

اسپاٹ ٹریڈنگ میں عام خریداری کے لیے لیوریج ضروری نہیں، جبکہ فیوچرز میں لیوریج استعمال کی جا تی ہے۔چاہے وہ 1 گنا ہو۔ اس سے ممکنہ منافع کے ساتھ نقصان کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

اسپاٹ میں عموماً قیمت بڑھنے پر اثاثہ فروخت کر کے منافع کمانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ فیوچرز میں لانگ اور شارٹ پوزیشنز کے ذریعے قیمت کے اضافے یا کمی، دونوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی

جا تی ہے۔

آخر نئے افراد کے لیے کون سا طریقہ بہتر ہے؟اس سوال کا جواب ہر شخص کے مالی حالات، تجربے اور خطرہ برداشت کرنے کی صلاحیت پر منحصر ہے۔ اسپاٹ ٹریڈنگ نسبتاً آسانی سے سمجھ آ جاتی ہے، کیونکہ اس میں آپ اصل اثاثہ خریدتے ہیں۔ لیکن اسے بھی محفوظ یا یقینی منافع والا طریقہ نہیں سمجھنا چاہیے۔

فیوچرز ٹریڈنگ میں پیچیدگیاں اور اضافی خطرات زیادہ ہو سکتے ہیں، خصوصاً جب لیوریج استعمال کی جائے۔ اس لیے کسی بھی طریقے کو اپنانے سے پہلے بنیادی معلومات حاصل کرنا، فیسوں کو سمجھنا، اور نقصان کے امکان کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

یاد رکھیں، کرپٹو مارکیٹ میں کامیابی کا کوئی شارٹ کٹ نہیں۔ سوشل میڈیا پر کسی کے منافع کے دعوے دیکھ کر جلد بازی میں فیصلہ کرنے کے بجائے اپنی تحقیق کریں اور اپنی مالی حیثیت کے مطابق محتاط رہیں۔

اگلی قسط میں لیوریج ، لانگ ،شارٹ، یو ایس ڈی ٹی ، سپاٹ ،بائے یعنی کے خرید، سیل یعنی کہ بیچنا کے بارے میں تفصیل سے سمجھیں گے۔

نوٹ: یہ تحریر صرف تعلیمی اور معلوماتی مقصد کے لیے ہے۔ کرپٹو اثاثوں میں قیمتوں میں نمایاں اتار چڑھاؤ، فراڈ، سکیورٹی اور دیگر مالی خطرات موجود ہو سکتے ہیں۔ یہ کسی مخصوص کرپٹو اثاثے کو خریدنے یا بیچنے کا مشورہ نہیں۔