Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

کراچی:ڈی ایس ریلوے کی جانب سے ماتحت افسر کو سنگین دھمکیوں کے معاملے پر اہم پیشرفت


شادی کی مبینہ پیشکش، سالانہ خفیہ رپورٹ متاثر کرنے کی دھمکی؛ ڈی ایس ریلوے کراچی کے خلاف شکایت پر انکوائری شروع,شیما غنی سے دستاویزی شواہد طلب، جمشید عالم نے الزامات مسترد کر دیے-


ڈی ایس ریلوے کراچی جمشید عالم کے خلاف ان کی ماتحت افسر شیما غنی (ڈویژنل پرسنل آفیسر) کی جانب سے شادی کی مبینہ پیشکش اور سالانہ خفیہ رپورٹ (ACR) خراب کرنے کی دھمکی دینے کے سنگین الزامات پر باقاعدہ انکوائری شروع کر دی گئی ہے۔


پاکستان ریلوے نے کراچی کی ڈویژنل پرسنل افسر شیما غنی کی جانب سے ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ جمشید عالم کے خلاف ہراسانی کی شکایت پر انکوائری کمیٹی کی کارروائی شروع کر دی ہے۔ شیما غنی کو لکھے گئے خط میں ریلوے ہیڈکوارٹرز لاہور نے بتایا ہے کہ چیف ایگزیکٹو افسر نے کمیٹی کو شکایت کی شفاف اور غیر جانب دارانہ جانچ کی ہدایت کی ہے۔


شیما غنی نے گزشتہ ماہ وفاقی وزیر ریلوے کو دی گئی درخواست میں الزام لگایا تھا کہ جمشید عالم نے ان سے طویل عرصے تک غیر مطلوب ذاتی رابطے کیے، دفتر سے باہر ملاقات کے لیے دباؤ ڈالا اور انہیں شادی کی پیشکش کی،ان کے مطابق انکار کے بعد ان پر واٹس ایپ پیغامات حذف کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا، ان کی چھٹی کی درخواست آگے نہیں بھجوائی گئی اور انہیں اپنی سالانہ خفیہ رپورٹ متاثر ہونے کی دھمکی دی گئی۔


درخواست کے مطابق 30 جون 2026 کو جمشید عالم نے شیما غنی کو مبینہ طور پر سرکاری امور پر گفتگو کے لیے دفتر سے باہر ملاقات کو کہا۔ شیما غنی کا مؤقف ہے کہ کراچی کے علاقے کلفٹن میں ہونے والی اس ملاقات کے دوران گفتگو ذاتی نوعیت اختیار کر گئی اور جمشید عالم نے شادی کی پیشکش کی، جسے انہوں نے مسترد کر دیا۔ انہوں نے درخواست میں یہ بھی کہا کہ اس سے پہلے انہیں فون اور واٹس ایپ پر ذاتی نوعیت کے پیغامات موصول ہوتے رہے تھے۔


شیما غنی کے مطابق اس صورتحال کے بعد انہوں نے مکمل تنخواہ کے ساتھ 45 روزہ چھٹی کی درخواست دی، لیکن اسے متعلقہ اتھارٹی کو نہیں بھجوایا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر کے سامنے معاملہ رکھنے کے بعد چھٹی منظور ہوئی انہوں نے غیر جانب دارانہ تحقیقات اور کارروائی کے دوران کسی ممکنہ انتقا می اقدام یا سروس ریکارڈ پر منفی اثر سے تحفظ کی درخواست بھی کی۔


ریلوے ہیڈکوارٹرز کے خط کے مطابق حمد حسن مرزا کی سربراہی میں قائم کمیٹی، جس میں اطہر ریاض، ڈاکٹر ماریہ آزاد اور اعجاز محمود شامل ہیں، نے 18 ستمبر کو لاہور میں شکایت کا جائزہ لیا۔ کمیٹی کو اس مرحلے پر درخواست میں مذکور دستاویزی شواہد دستیاب نہیں تھے، اس لیے شیما غنی سے متعلقہ ریکارڈ طلب کیا گیا ہے۔ خط میں انہیں یقین دلایا گیا ہے کہ شکایت کی جانچ رازداری اور غیر جانب داری کے ساتھ کی جائے گی۔


رابطہ کرنے پر جمشید عالم نےنجی میڈیا اداروں کو بتایا کہ ایک موقع پر دفتر میں شیما غنی کے ساتھ ان کی گفتگو تلخ ہوئی تھی ان کے مطابق شیما غنی چھٹی پر جانا چاہتی تھیں اور انہوں نے بعد میں ان کی چھٹی منظور بھی کر دی، تاہم اس کے باوجود ان کے خلاف درخواست دے دی گئی۔ جمشید عالم نے دیگر الزامات کی تردید کی۔


شیما غنی نے رابطے پر کہا کہ انہوں نے اپنی درخواست باضابطہ طور پر ریلوے کے چیف ویجیلنس افسر کو دے دی ہے اور کمیٹی کی کارروائی سے متعلق خط بھی انہیں موصول ہو گیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان کے ساتھ انصاف ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے الزامات کے حق میں شواہد پیش کریں گی اور انصاف کے لیے ضرورت پڑنے پر وفاقی محتسب برائے تحفظ از ہراسانی سمیت ہر متعلقہ فورم سے رجوع کریں گی۔