سپریم کورٹ،فوجی عدالتوں سے متعلق درخواستیں، فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا مسترد

0
104
supreme court01

سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں سے متعلق خصوصی عدالتوں کیخلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی
چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں چھ رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی،لارجر بینچ میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر شامل ہیں ،جسٹس یحیی آفریدی، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی،جسٹس عاٸشہ ملک بینچ کا حصہ ہیں ،سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر عابد زبیری نے دلائل دیئے.وفاقی حکومت نے گزشتہ روز تحریری جواب جمع کروایا وفاقی حکومت نے ایک بار پھر فل کورٹ بنانے کی استدعا کی ہے

وکیل صدر سپریم کورٹ بار نے کہا کہ میں نے ایک متفرق درخواست دائر کی ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں ،وکیل صدر سپریم کورٹ بار نے کہاکہ 1999 سپریم کورٹ میں لیاقت حسین کیس سے اصول طے ہے کہ فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل نہیں ہو سکتا ،میں نے اپنا جواب عدالت میں جمع کرا دیا ہے، پانچ نکات پر عدالت کی معاونت کروں گا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کی رائے آنا اچھا ہوگا، عابد زبیری نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 83اے پر دلائل کا آغاز کروں گا، آرٹیکل 83A کے تحت سویلینز کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں نہیں ہوسکتا،

عابد زبیری نے کہا کہ سوال ہے کہ کیا آئینی ترمیم کے بغیر سویلینز کا فوجی عدالتوں ٹرائل ہوسکتا ہے،جسٹس یحیی آفریدی نے استفسار کیا کہ اپنا موقف واضح کریں کہ کیا ملزمان کا تعلق جوڑنا ٹرائل کے لیے کافی ہوگا؟ کیا آئینی ترمیم کے بغیر سویلینز کا ٹرائل ہو ہی نہیں سکتا؟ عابد زبیری نے کہا کہ سویلینز کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل آئینی ترمیم کے بغیر نہیں ہوسکتا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ آپ کہہ رہے ہیں ملزمان کا تعلق ٹرائل کے لئے پہلی ضرورت ہے؟ آپ کے مطابق تعلق جوڑنے اور آئینی ترمیم کے بعد ہی سویلینز کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل ہوسکتا ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لیاقت حسین کیس میں آئینی ترمیم کے بغیر ٹرائل کیا گیا تھا،فوج سے اندرونی تعلق ہو تو کیا پھر آئینی ترمیم کی ضرورت نہیں؟

سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیس میں اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے دلائل کا آغاز کر دیا۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت کے سامنے اکسیویں آئینی ترمیم اور لیاقت حسین کیس کو بھی زیر بحث لایا گیا،جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ
سوال یہ ہے کہ سویلینز پر آرمی ایکٹ کا اطلاق کیسے ہوسکتا ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ لیاقت حسین کیس میں 9 رکنی بنچ تھا،عدالت کے 23 جون کے حکمنامے کو پڑھوں گا

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ خوشی ہے آرمی کے زیرحراست افراد کو خاندان سے ملنے دیا جارہا ہے سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کی فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا مسترد کردی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسوقت ججز دستیاب نہیں، فل کورٹ تشکیل دینا ناممکن ہے تمام ججز پر مشتمل بنچ بنانا تکنیکی بنیاد پر ہی ممکن نہیں تین ججز نے کیس سننے سے معذرت کی، کچھ ججز ملک میں نہیں ہیں،جسٹس اطہر من اللہ ملک سے باہر ہیں،ہم آپ کو تفصیل سے سننے کیلئے وقت دیں گے

‏وفاقی حکومت کی فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا مسترد‏ کر دی گئی، عرفان قادر نے روسٹرم پر آکر بات کرنے کی کوشش کی جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ محترم آپ مہربانی فرما کر بیٹھ جائیں آپ کو بعد میں سنیں گے،سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کیخلاف کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی

وفاقی حکومت نے آرمی عدالتوں کیخلاف درخواستوں پر سپریم کورٹ میں جواب جمع کروایا جس میں کہا گیا ہے کہ دفاعی تنصیبات اور فوجی دفاترپر حملہ براہ راست قومی سلامتی کا معاملہ ہے، غیرملکی طاقتیں پاکستان کی قومی سلامتی اور فوج کو کمزور کرنا چاہتی ہیں، کلبھوشن جادھو اور شکیل آفریدی کے واقعات اس بات کے ثبوت ہیں۔

سینئر قانون دان اعتزاز احسن اور لطیف کھوسہ نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کی ہے، لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ ملٹری کورٹس سولین کے ٹرائل نہیں کر سکتے عابد زبیری صاحب کے دلائل مکمل ہوئے عابد زبیری نے بھی ہمارے موقف کو دوہرایا کہ ملٹری کورٹس میں سویلین کے ٹرائل نہیں ہو سکتے آرٹیکل 8 میں 2ڈی کو قلعدم قرار دیا جائے یہ آرٹیکل 4 اور 9 کے خلاف ہیں اٹارنی جنرل کا خیال تھا کہ فل کورٹ بنائی جائے ہم نے خود استدعا کی کہ فل کورٹ بنائی جائے جسٹس عائشہ نے کہا کہ آپکو کیسے پتہ کہ چیف جسٹس نے بینج کی تشکیل میں سب سے مشاورت نہیں کی ہماری کوشش تھی کہ ججز میں تقسیم کو ختم کیا جائے سب مل کر بیٹھیں اور فیصلہ کریں چیف جسٹس نے واضح کیا کہ تمام میسر جج صاحبان کو بینج میں شامل کیا گیا دو جج صاحبان اپنی مرضی سے الگ ہوئے اور ایک پر اعتراض ہوا اٹارنی جنرل کے بیان سے واضح ہو گیا کہ حکومت نے اپنی شکست قبول کر لی ہے چیف جسٹس نے واضح کیا کہ ججز میسر نہیں ہیں جس کی وجہ سے فل کورٹ نہیں بن سکتی وفاقی وزیر کہتے ہیں تین جج صاحبان پر اعتراض ہے اور دوسری جانب فل کورٹ کی اپیل سمجھ نہیں آتی امید ہے کہ اس ہفتے اس کیس کا فیصلہ آ جائے گا کہ سویلین کا ملٹری کورٹس میں ٹرائل ہو سکتا ہے کہ نہیں ہم کبھی خاموش نہیں رہے

 کسی سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں نہیں ہونا چاہیے

کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ ہوا، تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے فوجی تنصیبات پر حملے کئے گئے، حکومت کی جانب سے فیصلہ ہواکہ حملے کرنیوالے تمام شرپسندوں کے مقدمے ملٹری کورٹ میں چلائے جائیں گے ,تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں ہونے والے جلاؤ گھیراؤ،ہنگامہ آرائی میں ملوث افراد دن بدن بے نقاب ہو رہے ہیں، واقعات میں ملوث تمام افراد کی شناخت ہو چکی ہے ،جناح ہاؤس لاہور میں حملہ کرنیوالے ایک اور شرپسند کی ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں شرپسند نے اعتراف جرم کرتے ہوئے بتایا کہ وہ تحریک انصاف کا کارکن اور قیادت کے کہنے پر حملہ کیا ہے،

تحریک انصاف کے کارکن شرپسند عاشق خان کو گرفتار کیا تھا جو جناح ہاؤس جلاؤ گھیراؤ میں ملوث تھا، عاشق خان نے جلاؤ گھیراؤ کے دوران نہ صرف پاک فوج کے خلاف نعرے لگائے بلکہ کارکنان کو حملے کے لئے بھی اکسایا، عاشق خان نے حملے کے لئے لوگوں کا کہا کہ میں کورکمانڈر ہاؤس کی جانب گامزن ہوں اس پر حملہ کریں، عاشق نے اعتراف کیا کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی گرفتاری پر زمان پارک میں طے ہوا تھا کہ کورکمانڈر ہاؤس پر حملہ کرنا ہے حملے کی ہدایات ہمیں زمان پارک میں پہلے سے ملتی رہیں، جب سے پی ٹی آئی کی حکومت گئی پاک فوج کے خلاف ہماری ذہن سازی کی جاتی رہی تھی ہمارے ذہن میں فوج کے خلاف نفرت کو ابھارا جاتا رہا ہمارے ذہنوں میں فوج کیلئے نفرت بھری گئی ۔ یہی سوچ ہمیں کورکمانڈر ہاؤس لے گئی اور ہم حملہ آور ہو گئے

جناح ہاؤس حملے میں مبینہ طور پر پی ٹی آئی کی قیادت ملوث ہے واقعہ کے بعد پی ٹی آئی رہنماؤں کی آڈیو بھی لیک ہوئی تھیں، ایک شرپسند کا ویڈیو بیان سامنے آیا تھا جس میں شرپسند نے اپنے جرم کا اعتراف کیا حاشر درانی کا تعلق بھی لاہور سے ہی تھا اور اس نے ویڈیو بیان میں کہا کہ جناح ہاؤس میں دوران حملہ میں انقلاب کے نعرے لگاتا رہا جس میں انقلاب مبارک ہو اور آزادی مبارک ہو کے نعرے شامل تھے

جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

 لیگل ٹیم پولیس لائن گئی تو انہیں عدالت جانے سے روک دیا گیا

غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

Leave a reply