تانیہ ایدروس پاکستان کے مفاد کے خلاف کام کرتی رہیں،حقائق سامنے آئے تو بیگ اٹھا کر چل دیں،عدالت

0
57

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم کے مشیران کی تعیناتی کیخلاف درخواست پر4 مشیروں نے جوابات جمع کرا دیئے،عبدالحفیظ شیخ نے جواب جمع کرانے کیلئے مہلت مانگ لی ۔

وزیراعظم عمران خان کے مشیران کی تعیناتی کیخلاف درخواست کی ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی،وزیراعظم، شہزاداکبر اور وزارت قانون نے جواب جمع کرا دیئے ،وزیراعظم عمران خان نے عدالت میں جمع کروائے جواب میں کہا ہے کہ مشیر کا تقررکرنا وزیراعظم کا اختیار ہے ، رولز آف بزنس 1973 کے تحت مشیر رکھ سکتے ہیں،مشیروں کی تنخواہیں اور الاﺅنسز مقرر کرنے کابھی مجھے اختیار ہے ،تمام مشیروں کی تقرریاں آئین اورقانون کے مطابق ہیں ۔

مشیر داخلہ شہزاد اکبر نے جواب میں ہے کہ درخواست ناقابل سماعت،جھوٹی اور بے بنیاد ہے،اسلام آبادہائیکورٹ نے میری تقرری کو قانونی قراردیا۔

دوران سماعت لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس قاسم خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب حکومت ایڈوائزر رکھتی ہے توکہتی ہے یہ دنیا کے بہترین لوگ ہیں ،تانیہ ایدروس پاکستان کے مفاد کے خلاف کام کرتی رہیں ،تانیہ ایدروس کے حقائق سامنے آئے تو بیگ اٹھا کر واپس چلی گئیں

عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے مزید کہاکہ میڈیا کے مطابق حفیظ شیخ کے اکاﺅنٹ میں 25 ہزار روپے ہیں ،جن مشیروں نے جواب نہیں دیا تو کیا وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری کو آرڈر کریں ؟۔وفاقی حکومت کے وکلا نے چیمبر میں آکر رونا ہے پرنسپل سیکرٹری کو نہ بلائیں ،کیاجواب نہ دینے والے مشیروں کااخبار میں اشتہار جاری کردیں ؟کیا وزیراعظم کو احکامات جاری کریں مشیروں کو کہیں جواب دیں ۔

شوگر ملزسٹاک کی نقل و حمل اور سپلائی کی مکمل مانیٹرنگ کا حکم

چینی بحران رپورٹ، جہانگیر ترین کے خلاف بڑا ایکشن،سب حیران، ترین نے کی تصدیق

شوگر کمیشن رپورٹ، وزیراعلیٰ پنجاب،اسد عمر اور مشیر تجارت کے جوابات غیر تسلی بخش قرار

اصل چینی چور کا نام رپورٹ سے غائب کر دیا گیا، مریم اورنگزیب کا دعویٰ

وزیراعظم لاپتہ، مریم اورنگزیب کا گمشدگی کے اشتہار کا مطالبہ

عدالت نے جواب جمع نہ کرانے پر عبدالرزاق داﺅد،امین اسلم، عشرت حسین ،بابراعوان،ظفرمرزا،معید یوسف، زلفی بخاری ،ثانیہ نشتر،ندیم افضل چن اور شہباز گل کو نوٹسزجاری کردیئے،عدالت نے وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری کو عدالتی احکامات کی تعمیل کرانے کاحکم دیتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی۔

درخواست میں وزیر اعظم، وزارت قانون، ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، شہزاد اکبر، ڈاکٹر ظفر مرزا سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے،درخواست میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نہ تو رکن اسمبلی ہیں اور نہ ہی سینٹ کے ممبر ہیں مگر انہیں وزارت خزانہ کا قلمدان سونپا گیا ہے۔آئین کے آرٹیکل 92 کے تحت وزیر اعظم کی سفارش پر صرف رکن اسمبلی ہی وفاقی وزیر کے عہدے پر مقرر کیا جا سکتا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 2 (اے) کے تحت غیر منتخب افراد ریاست کے اختیارات کا استعمال نہیں کر سکتے ۔آئین پاکستان کے آرٹیکل 90( 1 )کے تحت وفاقی حکومت غیر منتخب افراد کو شامل کرکے چلائی نہیں جا سکتی۔

وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے ڈیجیٹل پاکستان تانیہ ایدروس نے استعفٰی دے دیا

تانیہ کے بعد وزیراعظم کے ایک اور معاون خصوصی مستعفی

دوہری شہریت کے حامل باقی کابینہ اراکین کب استعفیٰ دیں گے؟ خواجہ سعد رفیق

درخواست گزار نے درخواست میں‌مزید کہا کہ وفاقی کابینہ میں غیر منتخب افراد کو شامل کر نا عمران خان کی اپنے فرائض منصبی پر پورا نہ اترنے کے مترادف ہے ۔وزیر اعظم کے دوہری شہریت کے حامل مشیران خاص ریاست پاکستان کیلئے سکیورٹی رسک ہیں، ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، عبدالرزاق داﺅد، امین اسلم، ڈاکٹر عشرت حسین، ڈاکٹر بابر اعوان بھی مشیروں میں شامل ہیں ۔محمد شہزاد ارباب، مرزا شہزاد اکبر، سید شہزاد قاسم، ڈاکٹر ظفر مرزا اور معید یوسف کو بھی وزیر اعظم نے اپنا مشیر مقرر کر رکھا ہے ۔زلفی بخاری، ندیم بابر، ڈاکٹر ثانیہ نشر، ندیم افضل گوندل، شہباز گل اور تانیہ ایس اردس کو بھی مشیروں میں شامل ہیں ۔عدالت آرٹیکل 90( 1) کے تحت منتخب اراکین اسمبلی کو وفاقی وزراءکے عہدوں پر تعینات کرنے کاحکم دے۔

درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ عدالت اپنے حتمی فیصلے تک وزیر اعظم کے تمام غیر منتخب مشیران خاص کو فوری طور پر کام سے روکا جائے۔ عدالت اپنے حتمی فیصلے تک وزیر اعظم عمران خان کو ملک کے چیف ایگزیکٹو کی حیثیت سے کام کرنے سے روکے

Leave a reply