fbpx

یوکرین نےروس سے اہم شہر واپس چھین لیا

کیف :یوکرین نےروس سے اہم شہر واپس چھین لیا،اطلاعات کے مطابق یوکرین نے دارالحکومت کئیف کے قریبی شہر ارپن کو روس سے واپس چھین لیا ہے جو 24 فروری کے حملے کے بعد روسی فوجیوں کے قبضے میں چلا گیا تھا۔ خبر رساں ادارے اے روئٹرز کے مطابق شہر کے میئر اولیکسینڈر مارکشائن نے بیان جاری کیا ’آج ہمارے پاس ایک اچھی خبر ہے، ارپن کو آزاد کرا لیا گیا ہے۔‘ ایک سینیئر امریکی فوجی افسر کا کہنا ہے کہ ’سرزمین واپس لینے کی جدوجہد جاری ہے اور مشرقی شہر ٹروسٹیانیٹس، جنوبی سمے ہمارے پاس واپس آ چکے ہیں۔‘

دوسری جانب آج استنبول میں آمنے سامنے بات چیت کا سلسلہ بحال ہونے جا رہا ہے جو کہ 10 مارچ کو وزرائے خارجہ کی ملاقات کے بعد پہلی بار ہو رہا ہے۔ یوکرینی حکام کی جانب سے کسی ٹھوس پیش رفت کا امکان کم ظاہر کیا گیا ہے تاہم یہ حقیقت ہے کہ وہ، وہ سب کچھ کر رہے ہیں جو روسی حملے کے بعد اس کو پیچھے دھکیلے جانے کی علامات ہیں۔ اسی طرح ابھی تک کسی فریق نے روس کے علاقائی مطالبات بشمول کریمیا کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی ہے، جس پر روس نے 2014 میں قبضہ کرتے ہوئے اپنے ساتھ الحاق کر لیا تھا۔

اسی طرح دوسرا علاقہ دونبس کا ہے جس کے بارے میں روس کا مطالبہ ہے کہ اس کو علیحدگی پسندوں کے حوالے کیا جائے۔ یوکرینی وزارت داخلہ کے مشیر وادیم ڈینائسنکوف کا کہنا ہے کہ ’میرا نہیں خیال کہ کلیدی معاملے پر کوئی ٹھوس پیش رفت ہو سکے گی۔‘ اس صورت حال میں روس کے زیرنگیں جانے والے یوکرینی شہروں میں پھنسے لوگوں کے لیے کسی ریلیف کا امکان بھی دکھائی نہیں دیتا، جن میں مارپول خصوصی طور پر قابل ذکر ہے۔

ماریوپول کے میئر کا کہنا ہے کہ ایک لاکھ 60 ہزار کے قریب لوگ اب بھی وہاں پھنسے ہوئے ہیں اور روس ان کو نکلنے نہیں دے رہا۔ روسی فوج کی جانب سے پچھلے ہفتے کہا گیا تھا علیحدگی پسندوں کے قبضے میں آنے والے علاقوں کا دائرہ بڑھانے پر توجہ دی جائے گی، دوسری جانب یوکرین کا کہنا ہے اسے ابھی تک ایسے کوئی آثار دکھائی نہیں دیے جس سے ظاہر ہو کہ روس نے دارالحکومت کو قبضے میں لینے کا ارادہ ترک کر دیا ہو۔

کیئف کے میئر ویٹالی کلٹسکوف نے کہا ہے کہ 100 افراد کو قتل کیا جا چکا ہے جن میں چار بچے بھی شامل ہیں جبکہ 82 کثیرمنزلہ عمارتوں کو ملیامیٹ کیا جا چکا ہے تاہم اس کے باوجود ہمارا شہر ہتھیار نہیں ڈالے گا۔ ان کے مطابق ’ہم روسی فوج کے خود کو ناقابل تسخیر سمجھنے کے افسانے کو تباہ کر دیا ہے۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم دنیا کی مضبوط ترین فوجوں میں سے ایک کی جارحیت کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں اور کامیابی کے ساتھ اس کو اپنے اہداف تبدیل کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔