fbpx

2025 تک خوارک کم کھائیں ، شمالی کوریا کی شہریوں کو وارننگ

شمالی کوریا نے اپنے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ جب تک ملک 2025 میں چین کے ساتھ اپنی سرحد دوبارہ نہیں کھولتا، تب تک انہیں خوراک میں کمی لانا ہو گی۔

باغی ٹی وی : "ڈیلی میل” کے مطابق خوراک کی قلت پہلے ہی شمالی کوریائی باشندوں کو متاثر کر رہی ہے، لیکن آر ایف اے کے مطابق، حکام نے شہریوں کو مزید تین سال تک یہ سختی برداشت کرنے کی پیش گوئی کی ہے۔

تاہم، لوگ پہلے ہی شکایت کر چکے ہیں کہ موسم سرما میں ہی کھانے کی قلت اس قدر ہے کہ ان کا گزارا مشکل ہے شمالی کوریا نے جنوری 2020 میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خلاف احتیاطی اقدام کے طور پر چین کے ساتھ اپنی سرحد بند کر دی تھی لیکن اس اقدام کا ملک کی معیشت پر سنگین اثر پڑا ، طلب بڑھنے کی وجہ سے روزمرہ کی اشیاء کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا۔

سپین حکومت کا کورونا ایمرجنسی کے دوران لئے گئے جرمانے کی رقم عوام کو واپس کرنے کا…

نئی حکومتی رہنمائی کے بارے میں بات کرتے ہوئے، شہر سینوئجو کے ایک رہائشی، جس نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ لوگوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ 2025 سے پہلے چین کے ساتھ سرحد کو دوبارہ کھولنے کے امکانات بہت کم ہیں۔

انہوں نے مزید کہا: اس وقت خوراک کی صورتحال واضح طور پر ایک ہنگامی صورتحال ہے، اور لوگ شدید قلت سے دوچار ہیں اس میں حکام کا یہ کہنا ہے کہ 2025 تک خوراک محفوظ رکھیں اور کم استعمال کریں، مایوس کن ہے۔

شمالی کوریا کے عوام کو درپیش موجودہ مشکلات کے باوجود، ان کے رہنما کم جونگ ان اس سال خود انحصاری کے خیال کو آگے بڑھا رہے ہیں اس پیغام کی مزید حوصلہ افزائی جولائی میں ہوئی جب اس وقت کی مرکزی کمیٹی نے عوام کو ہدایت کی کہ وہ قلت کے پیش نظر اپنی فصلیں خود اگانا شروع کریں۔

ولی عہد محمد بن سلمان نے شاہ عبداللہ کو قتل کرنے کا مشورہ دیا تھا سابق انٹیلیجنس…

اقوام متحدہ کے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کے اندازے کے مطابق شمالی کوریا کے پاس اس سال تقریبا 8 لاکھ 60 ہزار ٹن خوراک کی کمی ہے۔

سینوئجو کے رہائشی نے کہا کہ لوگوں میں حقارت بڑھ رہی ہے رہائشی نے کہا، کہ ہمیں 2025 تک مشکلات برداشت کرنے کا کہنا ایسا ہی ہے جیسے ہمیں بھوک سے مرنے کے لیے کہنا-

ڈیلی میل کے مطابق ایک دوسرے ذریعے نے دعویٰ کیا کہ شمالی کوریا کی حکومت اپنی مؤثر CoVID-19 حکمت عملی کے نتیجے میں خوراک کی قلت کو دور کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جو ان کے بقول اچھی طرح سے کام کر رہی ہے۔

حکومت نے ان پر عائد پابندیوں، قدرتی آفات اور عالمی کورونا وائرس وبائی امراض کا حوالہ دیتے ہوئے خوراک کی کمی کے لیے بیرونی عوامل کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔

گزشتہ سال شمالی کوریا کو شدید سیلاب کا سامنا کرنا پڑا تھا جس سے اہم فصلوں کو نقصان پہنچا اور سینکڑوں خاندان بے گھر ہو گئے۔ اس سال خشک سالی اور اس کے نتیجے میں آنے والے سیلاب سے فصلوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

سوڈان میں فوجی بغاوت،وزیراعظم نظر بند،کابینہ گرفتار

شمالی کوریا کے سرکاری ٹی وی نے رپورٹ کیا کہ اگست میں شمال مشرقی شمالی کوریا میں شدید بارشوں نے 1,170 مکانات کو تباہ یا سیلاب میں ڈال دیا اور 5,000 رہائشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے پر مجبور کیا جنوبی ہیمگیونگ صوبے میں ہونے والی بارش نے سینکڑوں ہیکٹر کھیتی باڑی کو بہا دیا اور کئی پل تباہ کر دیئے۔

شمالی کوریا میں موسم گرما کی بارشیں اکثر اس کی زرعی اور دیگر شعبوں کو شدید نقصان پہنچاتی ہیں جس کی وجہ غریب ملک میں نکاسی آب، جنگلات کی کٹائی اور خستہ حال انفراسٹرکچر ہے۔

کم نے ایک ‘کشیدہ’ خوراک کی صورتحال کو تسلیم کیا ہے جو تمام فصلوں کے ناکام ہونے کی صورت میں مزید خراب ہو سکتی ہے، سخت خود ساختہ سرحد اور نقل و حرکت کی پابندیوں کے درمیان معاشی مسائل کو بڑھا دیا ہے-

شمالی کوریا ایک پہاڑی ملک ہے، یعنی کاشتکاری کے لیے موزوں زمین کی فراہمی بہت کم ہے اور اس کے بہت سے کسانوں کے پاس ٹریکٹر، کمبائن ہارویسٹر اور تھریشر جیسے آلات تک رسائی نہیں ہے۔

کام کے بدلے گندم، طالبان کا بھوک اور بے روزگاری سے نمٹنے کے لئے نیا پروگرام

نتیجے کے طور پر، یہ خیال کیا جاتا ہے کہ شمالی کوریا اپنی آبادی کے ایک تہائی کے قریب خوراک کے لیے غیر ملکی درآمدات اور امداد پر انحصار کرتا ہے۔

یہاں تک کہ ان درآمدات کے باوجود، اقوام متحدہ کی 2017 کی ایک رپورٹ نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ آبادی کا پانچواں حصہ غذائی قلت کا شکار ہے – یعنی ان کے پاس خوراک کی کمی کو پورا کرنے کے لئے روزانہ درکار کیلوریز کی تعداد تک رسائی نہیں ہے۔

شمالی کوریا کے ایک تہائی بچوں کے بارے میں بھی سوچا جاتا ہے کہ وہ سٹنٹڈ ہیں، یعنی انہیں اپنی زندگی کے ابتدائی سالوں میں کافی کیلوریز نہیں ملی تھیں۔

چین بچوں کے کھلونوں میں زہریلے کیمیکل لگا کردوسری دنیا کوبھیج رہا ہے:امریکہ کا…