fbpx

اپوزیشن کی اکثریت والی قومی حکومت ،مولانا نے اپنی خواہش کا اظہار کر دیا

اپوزیشن کی اکثریت والی قومی حکومت ،مولانا نے اپنی خواہش کا اظہار کر دیا

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتیں استعفوں پر تیار نہیں،

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی اور اے این پی کے پی ڈی ایم سے استعفے منظور نہیں کیے ، پیپلزپارٹی اتحاد میں واپسی کی خواہشمند ہے،ہماری شرط پر سوچ بچار کی وجہ سے تاخیر ہو رہی ہے ،پیپلز پارٹی اور اے این پی کیلئے اتحاد میں شمولیت میں کوئی رکاوٹ نہیں، اتحاد برقرار ہے اور عید کے بعد اس کا سربراہی اجلاس بلایا جائے گا،اگر پیپلز پارٹی ہمارا موقف تسلیم کر لے تو ہم سینیٹ میں انکے اپوزیشن لیڈرکو تسلیم کرسکتے ہیں ،اے این پی قیادت کو کسی دباؤ کے باعث اتحاد سے علیحدگی کا اعلان کرنا پڑا ،

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کے لیے اتحاد کے دروازے کھلے ہیں،جو ہم نے وضاحت طلب کی تھی وہ دے دیں تومعاملات آگے چل پڑیں گے، پی ڈی ایم میں اب ن لیگ کی قیادت شہباز شریف کریں گے ، عید کے بعد بھرپور عوامی رابطہ مہم چلائی جائے گی،معیشت کو بحال کرنے کیلئے ملک میں سیاسی استحکام انتہائی ضروری ہے، موجودہ پارلیمنٹ میں ان ہاؤس تبدیلی کا کوئی آپشن نہیں ،انتخابی اصلاحات کیلئے اپوزیشن کی اکثریت والی قومی حکومت کی راہ ہموار ہو سکتی ہے ،فائزعیسیٰ کیس فیصلے کے بعدعمران خان اورعارف علوی کے رہنے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں .

اک زرداری سب پر بھاری،آج واقعی ایک بار پھر ثابت ہو گیا

مبارک ہو، راہیں جدا ہو گئیں مگر کس کی؟ شیخ رشید بول پڑے

ن لیگ دیکھتی رہ گئی، یوسف رضا گیلانی کو بڑا عہدہ مل گیا

گیلانی کے ایک ہی چھکے نے ن لیگ کی چیخیں نکلوا دیں

بلاول میرا بھائی کہنے کے باوجود مریم بلاول سے ناراض ہو گئیں،وجہ کیا؟

ندیم بابر کو ہٹانا نہیں بلکہ عمران خان کے ساتھ جیل میں ڈالنا چاہئے، مریم اورنگزیب

ن لیگ بڑی سیاسی جماعت لیکن بچوں کے حوالہ، دھینگا مشتی چھوڑیں اور آگے بڑھیں، وفاقی وزیر کا مشورہ

واضح رہے کہ پی ڈی ایم میں اختلافات پیدا ہو چکے ہیں ،سینیٹ میں پی پی نے ن لیگ کی مشاورت کے بغیر اپنا اپوزیشن لیڈر بنا لیا ہے جس سے پی پی پر ن لیگ ناراض ہے ،پیپیلز پارٹی نے پی ڈی ایم سے استعفیٰ دے دیا ہے، اے این پی نے بھی پی ڈی ایم کو چھوڑ دیا ہے، پی ڈی ایم کور کمیٹی کا گزشتہ روز ایک اجلاس ہوا جس میں اے این پی اور پی پی کو شرکت کی دعوت ہی نہیں دی گئی تھی،

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.