وزیراعظم نے اگلے ماہ تک لوڈشیڈنگ میں نمایاں کمی کرنے کا حکم دیدیا

0
83

لاہور:وزیراعظم شہباز شریف نے بجلی لوڈشیڈنگ اور عوام کی مشکلات پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اگلے ماہ تک لوڈشیڈنگ میں نمایاں کمی کرنے کا حکم دیا، ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو جب تک اس عذاب سے نجات نہیں ملتی چین سے نہیں بیٹھوں گا۔

وزیراعظم کی جانب سے جاری ہدایات میں کہا گیا کہ عوام کو جب تک اس عذاب سے نجات نہیں ملتی نہ خود چین سے بیٹھوں گا نہ کسی کو بیٹھنے دوں گا، سابق حکومت کی مجرمانہ غفلت کی پیدا کردہ تکلیف سے شہریوں کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کریں، تیل وگیس کا بندوبست ہونے تک عبوری اقدامات کو بہتر بنایا جائے۔

شہباز شریف نے مزید کہا کہ نوازشریف حکومت نے ملک میں اضافی بجلی کی وافر مقدار فراہم کی تھی، عمران حکومت نے ایک نیا یونٹ شامل نہیں کیا، بروقت ایندھن خریدا گیا نہ کارخانوں کی مرمت کی گئی، سابق حکومت نے ہمارے دور کے سستی اور تیز ترین بجلی پیدا کرنے والے پلانٹ بند کئے، مہنگی اور کم بجلی بنانے والے کارخانے استعمال کئے گئے، اس ظلم کی قیمت قوم کو ہر ماہ 100 ارب روپے کی شکل میں ادا کرنا پڑ رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 6 ارب میں ایل این جی کا جو ایک جہاز مل رہا تھا، وہ قوم کو 20 ارب میں پڑ رہا ہے، عمران حکومت کا یہ ظلم قوم کو اس سال 500 ارب سے زائد میں پڑے گا، توانائی کے شعبے کی تباہی کر کے پاکستان کی معیشت دیوالیہ کرنے کی سازش کی گئی۔

ادھر غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے کراچی سے پشاور تک ہر شہری کو پریشان کر کے رکھ دیا، شہری علاقوں میں آٹھ سے دس گھنٹے اور دیہی علاقوں میں بتی کی بندش کا دورانیہ بارہ گھنٹے تک پہنچ گیا۔

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ سے روزے داروں کو سحر اور افطار میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کراچی، لاہور، راولپنڈی، اسلام آباد، کوئٹہ سمیت ملک کے چھوٹے بڑے شہروں اور دیہات میں بجلی کی آنیوں جانیوں نے شہریوں کو اذیت میں مبتلا کر رکھا ہے۔ حکومت کی جانب سے دعووں کے باوجود شدید گرمی میں رمضان المبارک کے دوران بھی لوڈشیڈنگ پر قابو نہ پایا جاسکا۔

لیسکو ریجن کے مختلف علاقوں میں گرمی کی شدت میں اضافہ کے ساتھ بجلی کی طلب بھی بڑھ گئی، لیسکو کی بجلی کی طلب 4250 میگاواٹ سے تجاوز کرگئی ہے۔ این پی سی سی کی جانب سے لیسکو کو 3650 میگاواٹ بجلی فراہم کی جارہی ہے جبکہ لیسکو کا شارٹ فال 600 میگاواٹ سے بھی بڑھ گیا، بجلی کی پیداوار میں کمی کے باعث لیسکو کا کوٹہ بھی کم کردیا گیا،طلب و رسد کا فرق بڑھنے پر بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ شروع کردی گئی۔ لاہور کے مختلف علاقوں میں 3 سے 4 گھنٹے کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری جبکہ دیہی علاقوں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 8 گھنٹے تک پہنچ گیا ہے۔

راولپنڈی میں بھی کم و بیش یہی صورتحال ہے، پشاور میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے ساتھ ساتھ گیس کی لوڈشیڈنگ بھی جاری ہے، کراچی کے شہری بھی لوڈشیڈنگ کے ہاتھوں اذیت میں مبتلا ہیں۔ شہریوں نے حکومت کی جانب سے تمام تر دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ باتیں بنانے کی بجائے سنجیدہ اقدامات کی جانب توجہ دی جائے۔

حکومتی دباؤ مسترد:امریکا میں سابق پاکستانی سفیر ڈٹ گئے:عمران خان کے موقف کی تائید…

Leave a reply