fbpx

ٹرین حادثہ کیسے ہوا ،ٹرین ڈرائیور نے سب بتا دیا

ڈہرکی کے قریب پیش آئے افسوسناک حادثے کا شکار ہوئی ٹرین سرسید ایکسپریس کے ڈرائیور اعجاز احمد کا حادثے کے بارے انکشاف کئے ہیں-

باغی ٹی وی : نجی ٹی وی چینل جیو سے گفتگو کرتے ہوئے سرسید ایکسپریس کے ڈرائیور اعجاز احمد نے بتایا کہ حادثہ صبح 3 بجکر 45 منٹ پر ہوا، میں اور میرا اسسٹنٹ ڈرائیور افتخار چاک وچوبند تھے۔

ڈرائیور اعجاز احمد کے مطابق ڈاؤن ٹریک پر اپنے سامنے بوگیاں گری دیکھ کر ہم نے ہنگامی بریک لگائی، تاہم اس کے باوجود حادثہ ہو گیا۔

ٹرین ڈرائیور کامزید کہنا تھا کہ سرسید ایکسپریس کی دو ایئرکنڈیشنڈ بزنس کلاس بوگیاں اور ایک ڈائیننگ کار حادثے میں متاثر ہوئی ہے جبکہ حادثے کا شکار ہوئی دوسری ٹرین ملت ایکسپریس کی 3 اے سی بزنس، 8 اکانومی کلاس بوگیاں ڈاؤن ٹریک پر گری ہیں۔

واضح رہے کہ ڈہرکی کے قریب سرسید ایکسپریس اور ملت ایکسپریس میں تصادم کے باعث 30 افراد جاں بحق اور درجنوں مسافر زخمی ہوگئے ہیں کراچی، سکھر، فیصل آباد اور راولپنڈی میں ہیلپ سینٹر قائم کردیئے گئے ہیں سکھر, گھوٹکی, میرپور ماتھیلو کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ ہے پاک فوج،رینجرز،ریسکیو،پولیس اور ضلعی انتظامیہ امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں-

ریلوے ذرائع کے مطابق ملت ایکسپریس کراچی سے سرگودھا جبکہ سرسید ایکسپریس راولپنڈی سے کراچی جارہی تھی۔ حادثے کے بعد ملت ایکسپریس کی 8 اور سرسید ایکسپریس کی انجن سمیت 3 بوگیاں پٹری سے اتر گئیں، جبکہ کچھ بوگیاں کھائی میں جاگریں۔

ریتی کے قریب سرسید ایکسپریس اور ملت ایکسپریس میں تصادم کے باعث 30 افراد جاں بحق اور درجنوں مسافر زخمی

خطرناک ٹرین حادثہ ، سکھر, گھوٹکی, میرپور ماتھیلو کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ

وزیراعلیٰ سندھ کا کمشنر سکھرکومسافروں کی عارضی رہائشی اور میتوں کوآبائی علاقےمنتقل کرنےکےانتظام کی ہدایت

وزیر ٹرانسپورٹ سندھ کا تحقیقاتی اداروں سے ٹرین حادثے کی تحقیقات کا مطالبہ

ٹرین حادثے میں 2 ریلوے اور 2 پولیس اہلکار بھی جاں بحق

وزیر اعظم عمران خا ن کا ٹرین حادثے کی تحقیقات کا حکم

صدر مملکت سمیت دیگر حکومتی شخصیات کا ڈہرکی کے قریب ٹرین حادثے پر اظہار افسوس

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.