fbpx

گائے کا پیشاب پینے سے کرونا وائرس ہو گا ختم،ہندو مہاسبھا کے صدر کے علاج پر سب حیران

گائے کا پیشاب پینے سے کرونا وائرس ہو گا ختم،ہندو مہاسبھا کے صدر کے علاج پر سب حیران

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ہندو تنظیم کے سربراہ نے کرونا وائرس کا علاج بتاتے ہوئے کہا ہے کہ گائے کا پیشاب اور گوبر کرونا وائرس کے علاج کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے.

بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بھارتی ہندو مہاسبھا کے صدر سوامی چکراپانی کا کہنا ہے کرونا وائریس کو مارنے اور دنیا سے اس کے اثر کو ختم کرنے کے لئے ایک خصوصی علاج ہے،گائے کے پیشاب اور گائے کے گوبر کو پینے سے کرونا وائرس کے اثرات ختم ہو جائیں گے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی کے راجیہ سبھا کے رکن نے گزشتہ برس ایک اسمبلی کے اجلاس میں کہا تھا کہ گائے کے پیشاب کا استعمال دوا بنانے میں ہوتا ہے اور امریکہ نے اس کے لیے پیٹنٹ بھی حاصل کر لیا ہے ہمیں ہر گاؤں میں گئوشالہ کی تعمیر کرنی چاہیے اور چونکہ گائے کا گوشت کثیر مقدار میں بیرون ممالک برآمد کیا جاتا ہے اس لیے اس کاروبار میں شامل لوگوں کو سخت سے سخت سزا دی جانی چاہیے۔.

واضح رہے کہ کرونا وائرس دنیا کے 22 ممالک میں پھیل گیا،عالمی ادارہ صحت نے گلوبل ایمرجنسی کا اعلان کردیا، چین میں 24 گھنٹوں‌ میں‌ مزید 43 افراد ہلاک ہو گئے جس سے مجموعی تعداد بڑھ کر 213 ہو گئی جبکہ کرونا وائرس سے دس ہزار افراد متاثر ہیں، دیگر اٹھارہ ممالک میں اٹھانوے کیس سامنے آ گئے۔

دنیا کے مختلف ممالک میں کرونا وائرس سامنے آنے پر عالمی ادارہ صحت نے گلوبل ایمرجنسی کا اعلان کر دیا۔ ڈبلیو ایچ او کے چیف ٹیڈروس ایدھینوم کا کہنا ہے کہ وائرس کا کمزور طبی نظام والے ممالک میں پھیلنے کا خدشہ ہے۔انہوں نے چینی حکام کرونا وائرس کی روک تھام کے لیے کی گئی کوششوں کو بہترین قرار دیا۔

کورونا وائرس  یورپ میں قدم جما رہا ہے اور جرمنی کے مغربی شہر سارلینڈمیں کورونو وائرس کا ایک اور مشتبہ مریض سامنے آیا ہے۔ یہ جرمنی میں دوسرا مشتبہ کیس ہے۔

سرکاری ترجمان کے مطابق ، مریض ہمبرگ کے یونیورسٹی اسپتال میں زیرنگرانی رکھا گیا ہے۔ حکومتی ترجمان الیگزینڈر زائر نے کہا ہیمبرگ کے سارلینڈ یونیورسٹی اسپتال میں فی الحال ایک شخص موجود ہے جو ممکنہ طور پر کورونو وائرس سے متاثر ہوسکتا ھے۔ ان کے مطابق مریض کے خون کے ٹیسٹ کئے جا رہیں ہیں اور ان کو یونیورسٹی ہسپتال میں ایک الگ تھلگ کمرے میں رکھا گیا ہے۔

امریکا نے اپنے شہریوں کو چین کا سفر نہ کرنے کی ہدایت کر دی۔ اقوام متحدہ میں چینی سفیر کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کو شکست دینے کی کوشش میں چین اس وقت مشکل حالات میں ہے جس کے لیے عالمی یکجہتی ضروری ہے۔ چینی شہر ووہان میں کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے دو ہسپتالوں کی تعمیر کا کام بھی جاری ہے جو تین فروری تک آپریشنل ہو جائے گا۔

کرونا وائرس، چین میں ہلاکتوں میں اضافہ ،کتنے پاکستانی چین میں ہیں ؟ ترجمان دفتر خارجہ نے بتا دیا

کرونا وائرس پاکستان میں پھیلنے کا خدشہ، ملتان کے بعد لاہور میں بھی چینی باشندہ ہسپتال داخل

وفاقی دارالحکومت میں بھی کرونا وائرس کا مشتبہ کیس سامنے آ گیا

کرونا وائرس، بچاؤ کے لئے کیا کیا جائے؟ وفاقی کالجز کے پروفیسرزنے دی تجاویز

کرونا وائرس سے کتنے پاکستانی چین میں متاثر ہوئے؟ ترجمان دفتر خارجہ نے بتا دیا

کرونا وائرس ، معاون خصوصی برائے صحت نے ہسپتال سربراہان کو دیں اہم ہدایات

کرونا وائرس لاہور میں پھیلنے کا خدشہ، انتظامیہ نے بڑا قدم اٹھا لیا

کرونا وائرس، چین سے طالب علم پاکستان پہنچا تو اسکے ساتھ کیا ہوا؟

کرونا وائرس، مائیں رو رہی ہیں ،حکومت سو رہی ہے، مشاہد اللہ خان کی سینیٹ میں کڑی تنقید

وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ کرونا وائرس جیسے 4وائرس پہلے سے موجود ہیں،کرونا وائرس کی مخصوص علامات نہیں،جس کے باعث تشخیص مشکل ہے،لیبارٹری میں جانچ پڑتال کے بغیر کرونا وائرس کی تشخیص نہیں کی جاسکتی،

ڈاکٹر ظفر مرزا نے مزید کہا کہ کروناوائرس سے چھاتی کاانفیکشن ہوتاہےجونمونیاکی شکل اختیارکرلیتاہے،کرونا وائرس ایک انسان سے دوسرےانسان میں منتقل ہوتا ہے،یہ بیماری جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوئی،ریسرچ کے مطابق کرونا وائرس کے3فیصدمریضوں کی اموات ہوتی ہیں،بیماری میں شدت ہے لیکن مرنے والوں کی شرح بہت کم ہے،

ڈاکٹر ظفر مرزا کا مزید کہنا تھا کہ دنیابھرمیں 6ہزار 52افراد میں کروناوائرس کی تشخیص ہوچکی ہے،کرونا وائرس کے 99 فیصد مریض چین میں ہیں،چین کے علاوہ14ممالک میں کرونا وائرس کے مریض سامنے آئے ہیں،چین کےعلاوہ دیگر ممالک میں کروناوائر س سے اموات نہیں ہوئیں

یہ مودی کا بھارت ہے، گائے کا پیشاب پینے والا اب یہ کچھ بھی کرنے لگا