fbpx

وزیراعظم اور ترک صدر کی ملاقات، کیا بات چیت ہوئی؟ اہم خبر

وزیراعظم اور ترک صدر کی ملاقات، کیا بات چیت ہوئی؟ اہم خبر

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی ترک صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات ہوئی ہے،ملاقات جنیوا  میں پناہ گزینوں کی عالمی کانفرنس کی سائیڈ لائن پر ہوئی،وزیراعظم نے ترک صدر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مسلم امہ کو متحد دیکھنا چاہتےہیں، دونوں رہنماؤں کے مابین دو طرفہ تعلقات کی مزید بہتری کے حوالہ سے بات چیت ہوئی ،وزیراعظم نے کولالمپورسمٹ میں شرکت نہ کرنے کے فیصلے پرترک صدرکواعتماد میں لیا،

وزیر اعظم نے اہم قومی دلچسپی کے معاملات پر پاکستان کی بھر پور حمایت پر ترکی کے صدر کا شکریہ ادا کیا اور اہم قومی و بین الاقوامی امور پر ترکی کی حمایت سے متعلق پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔وزیر اعظم نے کہا کہ دو طرفہ اقتصادی شراکت داری مزید مستحکم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے توقع ظاہر کی کہ حال ہی میں طے شدہ سٹریٹجک اکانومک فریم ورک اس سلسلے میں اہم کردار ادا کریگا۔انہوں نے کہا کہ وہ صدر رجب طین اردوان کے دورہ پاکستان کا شدت سے منتظر ہیں۔وزیر اعظم عمران خان نے ترک صدر کو مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے حالیہ یکطرفہ اور غیر قانونی اقدام اور تازہ صورتحال کے حوالے سے بریف کیا اور کہا کہ مقبوضہ جموں کشمیر میں آبادی کا تنسب تبدیل کرنے کی بھارتی کوششیں بیالاقوامی قوانین اور یو این سلامتی کونسل کے قراردادوں کے منافی ہیں۔

اقوام متحدہ مداخلت کرے، تقریر سے کچھ نہ ہوا تو دنیا کو پتہ چل جائے گا کشمیر میں کیا ہو رہا ہے، وزیراعظم

اسلامی ممالک کو کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی دکھانی ہوگی، وزیراعظم

کپتان ہو تو ایسا،اپوزیشن کی سازشوں کے باوجود وزیراعظم عمران خان کو ملی اہم ترین کامیابیاں

وزیراعظم عمران خان نے گلوبل پناہ گزینوں کے عالمی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر سے 2 ایٹمی طاقتوں میں تنازع کا خطرہ ہے، بے بس اور بے وسیلہ مہاجرین کے مسائل کا امیر ملک ادراک نہیں کرسکتے، بھارتی حکومت نے آسام میں متنازعہ شہریت قانون نافذ کر دیا، بھارتی شہری گلیوں میں نکل آئے ہیں، مقبوضہ وادی میں 80 لاکھ کشمیری محاصرے میں ہیں، جان بوجھ کر مسلم اکثریت کو اقلت میں بدلا جا رہا ہے۔